اصولِ طاقت
اصولِ طاقت
مرزا صہیب اکرام
دنیا لاکھوں سال سے اپنا وجود رکھتی ہے اور انسان کو یہاں بسیرا کیے ہوئے چند ہزار سال بیت چکے ہیں ۔
زمانہ قدیم سے دور جدید تک ، جہالت سے شعور و آ گہی تک ، غاروں سے بستیوں، دیہات سے شہروں تک ، علاقوں سے ریاستوں تک ، دنیا میں قائم تمام نظام طاقت کی بدولت قائم ہوتے ہیں اور طاقت کے بل پر حیات رہتے ہیں ۔
دنیا میں ہر زمانے میں سپر پاورز ہوتی ہیں۔لیکن ہر دور کے تقاضے مخلتف ہوتے ہیں کسی دور میں طاقتور ریاستیں دوسری ریاستوں کو اپنی کالونیاں بنایا کرتی تھیں ۔ ایک دور میں دوسرے قوم کو مکمل تہس نہس کر کے ان کا مال و زر لوٹ لیا جاتا تھا ۔ آج قبضے کی جگہ وسائل کی جنگ ہے ۔
طاقتور اقوام چھوٹی ریاستوں کے وسائل کو حاصل کرتی ہیں ۔ یہ طریقہ ہمیشہ غاصبانہ محسوس ہوتا ہے لیکن ہر طاقتور یہی کرتا ہے ۔
آج وینزویلا میں یہ ہوا ہے کہ اس کے صدر کو اٹھا کر لے جایا گیا ہے لیکن یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے یہ تاریخ میں بار بار ہوا ہے حکومتوں کے تختے الٹتے رہے ہیں ۔ اس کو کبھی انقلاب کبھی بغاوت اور کبھی شب خون کا نام دیا جاتا ہے ۔
لیکن طاقت کا اصول یہی ہوتا ہے وہ اپنے پیٹ کو پالنے کے لیے آس پاس افراد اور قوموں کے پیٹ کاٹتی رہتی ہے ۔
وینزویلا اور امریکہ کے تعلقات کا تاریخی جائزہ بتاتا ہے کہ دونوں ممالک تاریخی طور پر ایک دوسرے سے بڑے قریبی تعلقات رکھتے تھے اور وینزویلا ایک دور میں لاطینی امریکہ کا امیر ترین ملک تھا اور اسے وہاں کا سعودی عرب کہا جاتا تھا ۔ تیل کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر رہنے والا یہ ملک یکا یک اتنا کمزور اور غیر مستحکم کیسے ہوا اس کو سمجھنا اتنا مشکل نہیں ہے ۔
جذباتی نعرے اور غیر حقیقی سوچ اور فرضی انقلاب اور امریکہ مخالف جذبات ابھار کر اقتدار حاصل کرنے کی جستجو نے اس ملک کو اس اسے حقیقی پارٹنر اور ہمسائے سے دور کر دیا ۔
ہوگو شاویز نے خود کو سوشلسٹ قرار دیا اور امریکہ کے ساتھ آہستہ آہستہ تمام مراسم ختم کر دیئے ۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے سمندر میں رہتے ہوئے مگرمچھ سے بیر پال لیا جائے ۔
امریکہ کے بالکل ساتھ امریکہ مخالف حکومت ، اور قربت ایران و روس اور چین سے ۔ اس کے ساتھ تیل کے ذخائر اور پھر منشیات و اسلحہ کی ترسیل کا موثر ذریعہ۔
امریکہ کے پاس کوئی ایک وجہ نہیں تھی اس کے پاس ڈھیروں وجوہات تھیں ۔
قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ کمزور قوموں میں غدار ، ابن الوقت اور موسمی اثرات سے پگھلنے والے افراد پیدا ہوتے ہیں ۔ یہاں بھی یہی ہوا وگرنہ بنا مزاحمت فورسز ، صدر کے اندرون خانہ نہیں پہنچ پاتی ۔
محفوظ ملکوں کا واحد دفاع ان کی طاقتور افواج ہوتی ہیں اگر افواج میں دھڑے ہوں اس وقت کسی غیر ملکی طاقت کے لیے اہداف آسان ہو جاتے ہیں ۔ اندر سے شورش پیدا کرنا اور پھر تخت بدل دینا آسان تر ہو جاتا ہے ۔
یہی وینزویلا کے ساتھ ہوا ۔ یہی تاریخ کو سبق ہے ۔
جغرافیائی حقیقتوں کو نظر انداز کر کے احمقوں کی جنت میں رہنے والے ممالک یوکرین اور وینزویلا جیسی صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں ۔
یہ سبق ترقی کے سفر پر گامزن ہر ریاست کو سیکھنا چاہیے کہ دفاع اور معیشت پہلی سیڑھی ہیں جو ملک کو قائم رکھتے ہیں ۔ دلفریب نعرے اور جذباتی باتیں جین زی کو پسند ہوتی ہیں مگر ان کا حقیقی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ وہ بس ایک بچگانہ خواب سے تعبیر کی جا سکتی ہیں ۔۔