دومونہی

دومونہی
حمیرا ثاقب -فیصل آباد
بتول نے اپنے لکھے ہوئے میسج پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی تھی ۔۔۔۔ کئی الفاظ اسے سخت اور جھوٹے لگے تھے مگر اس نے انتہائی طیش میں آ کر سینڈ کی کو پریس کر دیا تھا ۔۔
ثمرہ نے انتہائی غصے میں سبزی بنانا شروع کی تھی مگر جونہی وہ پیاز،ٹماٹر،ادرک اور آلوؤں کو اپنا شکار بنا کر سارا زور صرف کرتی گئی اُسے محسوس ہوا کہ غصے کی شدت میں کمی آ رہی ہے ۔۔۔۔ اُسے برتن اور سامان پٹخنا انتہائی ناپسند تھا اس لیے اُس کا غصہ دیر سے اترتا اور شدید غصہ میں بھی وہ کبھی چیزیں اٹھا اٹھا کر مارنے پر نہ اُترتی تھی ۔۔۔۔
اماں! ” زوبیہ نے ثمرہ کو مخاطب کیا تھا ۔۔۔۔۔
” ہوں !! ” وہ سر جھکائے آلو کاٹتی رہی۔۔۔۔۔
” آلو بن رہے ہیں کیا ؟ ” تو اور کیا مرغ مسلم بنا لوں جو تمہارے باوا دے کر گئے ہیں ” ۔۔۔۔۔ ثمرہ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب دیا تھا اور زوبیہ اپنا سا منہ لے کر چلی گئی تھی۔۔۔۔اکثر لڑکیاں ثمرہ کا غصہ فرو کرنے کے لئے زوبیہ کو بھیجا کرتی تھیں ۔چھوٹی ہونے کی وجہ سے تھوڑی لاڈلی تھی وہ—
مگر آج ان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اماں اصلی والے غصے میں ہیں اسی لئے زوبیہ کی بھی دال نہیں گل سکی۔۔۔۔۔
” آپا !! اب میں نے نہیں جانا۔۔۔۔ مجھے ایک دم یہ لگا کہ اماں مجھے چھری ہی نہ دے ماریں ۔۔۔” زوبیہ نے رابعہ سے کہا تھا۔۔۔۔ ”
کیا ہو گیا ہے ماں ہیں کوئی قصائی تو نہیں ” ہانیہ بولی تھی۔۔۔۔ تینوں کو ہنسی آگئی ۔۔۔۔۔۔۔
اف!! کیا منظر کھینچا ہے ۔۔۔۔۔ قصائی زوبیہ کی کھال اتار رہا ہے ۔۔۔۔۔ اب بوٹیاں بنا رہا ہے ۔۔۔۔
اف کیا نرم نرم لذیذ گوشت بن رہا ہے ۔۔۔۔۔
رابعہ کی اس منظر کشی پر ہانیہ کا قہقہہ نکل گیا اور زوبیہ منہ بنا کر وہاں سے چل دی تھی۔۔۔۔۔۔۔
ان تینوں کو کھی کھی کرتے دیکھ کر ثمرہ کا غصہ مزید کم ہو گیا تھا اور وہ اپنا لڑکپن یاد کرکے مسکرانے لگی تھی اس صورت حال کو محسوس کرکے سامنے کمرے میں بیٹھی بتول بی بی کے سینے پر سانپ لوٹ گئے تھے —
احسان اللہ صاحب اور ثمرہ نے دو سال پہلے بڑے چاؤ اور ارمان سے حازم کی شادی کی تھی جو کہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا —احسان اللہ کا پراپرٹی کا بزنس اچھا چل رہا تھا اور حازم نے تعلیم مکمل کرکے باپ کو جوائن کر لیا تھا —
حازم سے چھوٹی ان کی اوپر تلے کی تین بیٹیاں تھیں جو کہ ابھی پڑھ رہی تھیں
ثمرہ ایک سمجھدار عورت تھی اور اس نے پہلے دن سے کوشش کی کہ بہو کے ساتھ اس کا برتاؤ اپنائیت والا ہو —-گو کہ وہ چاہ کر بھی اس کی ماں تو نہیں بن سکتی تھی مگر پھر بھی اس کا رویہ انتہائی مثبت اور دوستانہ تھا — بہو بھی جی جی کرتی اس کی کہی ہر بات کو مانتی —-تو گھر کے ماحول میں جیسے امن وآشتی گلے ملتی نظر آتی تھیں —
تینوں بہنیں اکثر آپس میں کھسر پھسر کرتی پائی جاتی تھیں ثمرہ ان کا سلوک اتفاق دیکھ دیکھ کر جیتی تھی —
اس وقت بھی وہ تینوں کھل کھل کرکے ہنسی تھیں تو لاؤنج میں ثمرہ کے اندر کہیں اطمینان کی لہریں دوڑنے لگی تھیں اور اس نے دیکھا کہ بتول جلے پیر کی بلی کی طرح کچن سے پانی لے کر اپنے کمرے میں گھس گئی تھی اور ٹھاہ کی زور دار آواز سے دروازہ بند ہوا تھا —اس کے تناؤ بھرے چہرے سے ثمرہ کو کچھ عجیب تو لگا مگر پھر بھی وہ سر جھٹک کر اپنے کام میں لگ گئی تھی
“اماں”!!ہانیہ نے آہستہ سے اسے پکارا تھا
جی بیٹا
ایک بات بتانی تھی آپ کو—ثمرہ نے ہانیہ کی سنجیدگی کو محسوس کرکے اس کی طرف دیکھاتھا وہ واقعی سنجیدہ بھی تھی اور تھوڑا ڈری ہوئی تھی —
کیا بات ہے بیٹا؟
“آپ کے کمرے میں چل کر بات کر لیں ” ہانیہ کی آواز اور پست ہو گئی تھی —
“جلدی بتاؤ بیٹا میرا تو دل گھبرانے لگا ہے —
“کل جب آپ بازار گئی تھیں نا!! تو بھابھی نے بھائی سے کہا کہ کچن میں کام کر کر کے میری تو کمر دکھنے لگی ہے—-”
ثمرہ نے چونک کر ہانیہ کی طرف دیکھا ۔
“آپ نے میاں بیوی کی باتیں سنیں ؟”اس نے خفگی سے کہا
“نہیں اماں ! وہ دونوں لاؤنج میں ہی بیٹھے ہوئے تھے بھائی نے کہا تو یہ تینوں کیا کر رہی تھیں؟ بھابھی نے بیچارہ سی شکل بناکر کہا “ان کا کیا قصور ہے جب آپ کی اماں نے کہا ہی مجھ سے تھا تو—-”
اماں!! سالن آپ بنا کر گئی تھیں —آٹا زوبی نے گوندھا اور روٹیاں آپا نے بنائیں ۔
تو بھابھی کی کمر کیسے دکھ گئی پھر؟؟
بات تو ہانیہ کی سو فیصد درست تھی مگر ثمرہ کو اپنے بیٹے سے انتہا درجے کی محبت تھی —-
“چلو بیٹا! وہ اپنے شوہر کو بتا رہی تھی آپ کو سنی ان سنی کر دینی چاہیے تھی —-“اس نے گویا مٹی ڈالتے ہوئے کہا تھا
جب بھی لڑکیوں اسے کوئی بات بتاتیں تو وہ اسی طرح بات کو دبا دیتی تھی کیونکہ اسے گھر کا سکون بہت عزیز تھا اور وہ ہر حال میں اسے قائم رکھنا چاہتی تھی —-
لیکن گھر کا سکون کبھی بھی ایک فرد کے احسن رویے سے قائم نہیں رہ سکتا اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے —-
“یہ کس نے کہا”ثمرہ نے تڑپ کر رابعہ کی طرف دیکھا تو تینوں لڑکیاں گڑبڑا گئیں
“وہ–وہ—“سدا کی صلح جو رابعہ کی زبان لڑکھڑا گئی
“اماں بھابھی نے فون پر اپنی ممی سے کہا”
“تو تم نے کیوں سنی ان ماں بیٹی کی بات “ثمرہ غصیلے لہجے میں بولی
“کیا اماں!! آپ ہر بات پر ہمیں ڈانٹنے لگ جاتی ہیں — جب بھی آپ کہیں جاتی ہیں بھابھی یہ ساری باتیں ہمارے سامنے بیٹھ کر کرتی ہیں “ہانیہ پھوٹ پڑی تھی — ثمرہ کا منہ حیرت سےکھل گیا تھا —-
وہ جان گئی ہیں کہ ہماری باتوں کی کوئی حیثیت نہیں اس لیے وہ بے دریغ ہمارے سامنے جھوٹ بھی بول لیتی ہیں اور منہ بھر بھر کر اپنی ممی کو بھی ہر بات نمک مرچ لگا کر بتاتی ہیں —-
ہانیہ سب سےزیادہ بہادرتھی اس نے کھل کر ساری صورتحال ماں کو بتا دی تھی—-
ثمرہ کو اس بات کا یقین تھا کہ اس کی بیٹیاں جھوٹ نہیں بولیں گی اور الزام تراشی تو کسی صورت نہ کریں گی —-
لیکن اسے اس بات کی سمجھ بھی نہیں آ رہی تھی کہ بتول یہ سب حرکتیں کرے گی کیوں ؟جبکہ ان کے ہاں سارے معاملات اچھے چل رہے ہیں —
احسان اللہ صاحب اور حازم ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے اور ان دونوں کی آواز بہت ہلکی تھی —ثمرہ کو اس پوشیدہ کانفرنس پر حیرت تو ہوئی تھی مگر وہ پر سکون نظر آنے کی کوشش کرنے لگی تھی—-
رات جب سونے لیٹے تو وہ منتظر رہی کہ احسان اللہ ابھی بتاتے ہیں کہ دونوں باپ بیٹے میں کیا بات ہو رہی تھی مگر احسان صاحب کمر موڑ کر موبائل سرچنگ کرنے لگے
تو ثمرہ سے رہا نہ گیا ۔
“حازم کیا بات کر رہا تھا شام کو آپ سے ؟”
احسان صاحب کا ہاتھ سرچ کرتے کرتے رکا
“وہ—-کچھ خاص نہیں—ایک کلائنٹ کا مسئلہ تھا ”
ثمرہ نے بے یقینی سے شوہر کی طرف دیکھا
جس کا چہرہ کہہ رہا تھا کہ وہ غلط بیانی کر رہا ہے ۔
“مجھے نہیں لگتا کہ وہ کلائنٹ کی بات تھی “ثمرہ نے خلاف عادت کریدا—
“تو پھر کیا وہ تمہاری اور لڑکیوں کی شکایتیں لگا رہا تھا؟”احسان صاحب نے چشمے کے اوپر سے بیوی کو گھورا تھا —جوکہ ان کے اس جملے پر ہی حیران پریشان رہ گئی تھی “ہائیں!!میری اور لڑکیوں کی شکایتیں ؟؟؟ کیا مطلب؟”
“پوچھ تو ایسے ہی رہی ہو بھئی —-کہا نا !! کوئی خاص بات نہیں ہے—-“احسان صاحب نےحتمی انداز میں کہہ کر کروٹ بدل لی تھی
ثمرہ سوتی جاگتی کیفیت میں تھی کہ اچانک اس کے موبائل پر میسج کی بپ ہوئی ۔
اس نے چونک کر دیکھا تو بتول کے نمبر سے ایک میسج تھا اس نے کھولا تو لکھاتھا ۔
“بڑی مشکل سے حازم کو سمجھا پائی ہوں کہ اس کی اماں اور پھاپھے کٹنی بہنوں نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے —آج اتنی پمپنگ کی کہ حازم اپنے باپ کو ڈرائنگ روم میں لےکر جا بیٹھا —-اب اللہ جانے! دونوں میں کیا گِٹ مِٹ ہوئی ہے —-حازم تو غصے میں یہ کہہ کر دفع ہو گیا ہے کہ دوستوں کے ساتھ ہے رات لیٹ آئے گا — اور اس کا میسنا باپ جا کر بیوی کے چرنوں میں بیٹھ گیا ہے —دیکھیں اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے — میری تو جان عذاب میں ہے اس گھر میں—”