سب رنگ (جلد ۱-۲)

سب رنگ (جلد ۱-۲)
محسن علی خاں

اگر آپ بِیٹ کی ہوئی کافی پیتے ہوۓ بوریت محسوس کر رہے ہیں۔ پیسٹری/کیک/براؤنیز/ڈونٹ کا ذائقہ بھی اب مزہ نہیں دیتا۔ یا میری طرح چاہ کے ساتھ نمکین تے میٹھے بسکُٹ، کیک رس، کریم رول، چپس وغیرہ کھاتے ہوۓ بھی دل نہیں لگ رہا۔ سوشل میڈیا پر سکرولنگ کرتے ہوتے بار بار وہی غیر تصدیق شدہ، فوٹو شاپ کی ہوئی تصاویر سے بیزار ہو چکے ہیں۔ ٹی وی پر دُھول اُڑاتے ٹاک شوز دیکھے آپ کو عرصہ ہو گیا ہو گا۔ موسم بدل رہا ہے۔ خنکی بڑھ رہی ہے، آپ اپنی کھوئی ہوئی محبت کو بھی یاد نہیں کرنا چاہتے، تنہائی ہے اور آپ کی شام اداس ہے۔ آپ اپنی کافی/چاۓ پیتے ہوۓ کچھ ایسا چاہتے ہیں جس سے ہر گھونٹ آپ کے بدن میں ایک حسین لمحہ بن کے اُتر جاۓ۔ کیا کہا آپ نے، یہی چاہتے ہیں۔ چلیں پھر آپ اپنی شام دنیا کے نامور ادیبوں کے ساتھ گزار لیں۔ ان سے باتیں کریں ان کی باتیں سنیں۔ وہ آپ کو ایک کہانی سنائیں گے، آپ اس کہانی کا کردار بن جائیں۔ چوبیس گھنٹے اسی کردار میں گزاریں، پھر اگلی شام آجاۓ گی، آپ پھر کسی اور ادیب کو اپنے پاس بلائیں، اُن کے سامنے ڈرائی فروٹ رکھیں۔ جیسے ہی وہ چلغوزہ یا کاجو زبان پر رکھیں، آپ فوراً کہانی کی فرمائش کر دیں۔ بس پھر آپ کی شام اب اُداس نہیں ہے۔

جی میں آپ کی بات سمجھ گیا ہوں۔ آپ کو میرا مشورہ پسند آیا ہے۔ لیکن آپ سے ملنے کون آۓ گا۔
آپ یہ سوچنا چھوڑئیے۔ ایک لمبی فہرست ہے دنیا کے عظیم ادیبوں کی جو آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ آپ نے ہی ان کے قلم سے نکلے الفاظوں کو اپنی آنکھوں میں بسا کر اَمر کر دیا ہے۔ آپ نے ان کے خیالات کو قبول کیا ہے۔ اسی لئے وہ اگلا قدم پہلے سے بھی قیمتی جگہ پر رکھتے تھے۔ میرے ہاتھ میں ان خوبصورت لوگوں کی فہرست ہے جو آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔

میں ایک بار نام پکارتا ہوں، پھر آپ بتا دیں کس ترتیب سے ان کو مدعو کریں۔
ٹالسٹائی، چیخوف، پشکن، کافکا، ژاں پال سارتر، موپاساں، اوہنری، اگاتھاکرسٹی، ایڈگرایلن پو، سمرسٹ مام، آرتھر کانن ڈائل، ایچ جی ویلز، ارنسٹ ہیمنگوے، جیک لنڈن، آلڈس ہکسلے، رابرٹ لوئی اسٹیونسن، مارک گرین، ولیم سانسم، ایچ ایچ منرو، جیمز تھربر، رولڈ ڈل، جیفری آرچر، رے برڈ بری، ہنری سلیسر، سی بی گلفورڈ، آرٹ بک والڈ، ڈورتھی پارکر، ہائزخ بوئل، رابرٹ آرتھر، مارس لیبلانک، شوکوخوف، پی رومانف۔۔
فہرست بہت لمبی ہے، میرے خیال میں ابھی صرف ان سے ملتے۔ باقی احباب اگلے والیم میں آجائیں گے۔

ان سب سے ملاقات سب رنگ کی خوبصورت کتابوں میں ہو سکتی ہے جس کے دو والیم ”بُک کارنر شو روم“ جہلم نے انتہائی دیدہ زیب سرورق کے ساتھ شائع کیے ہیں۔ شام کی اداسی کو کتاب ہاتھ میں پکڑ کے صفحات پلٹتے ہوۓ سہانی بنائیں۔

سب رنگ کے تمام شمارے کیسے اب اپنے قارئین تک پہنچ پائیں گے، یہ داستان بھی پڑھ کر جس خوبصورت انسان کو داد دینی بنتی ہے وہ حسن رضا گوندل ہے۔ روسی ادیب چیخوف کی طرح ایک ادبی ذوق سے مالا مال شخص۔ جس کے خواب نے تمام تر مشکلات کے باوجود بالآخر تعبیر پکڑ لی۔ اپنا خواب لے کر شکیل عادل کی خدمت میں جب حاضر ہوا تو شکیل صاحب کی آنکھوں میں دیکھ کر ان کی بات یاد کی ” بعض اوقات صرف ایک برجستہ اور معنی خیز عنوان طے کرنے میں گھنٹوں صرف ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک کہانی خود کو کئی بار لکھواتی ہے۔ تب جا کر جی مطمئن ہوتا ہے اور تب سب رنگ ظہور میں آتا ہے”۔
جو شخص صرف ایک عنوان پر گھنٹوں صرف کرے اس کے سامنے اب پورے چار عشروں پر محیط اس کی محنت کو یکجا کر کے اپنے چاہنے والوں کے لئے پیش کرنا بلاشبہ انتہائی مشکل ٹاسک تھا۔ لیکن یہ شکیل عادل زادہ کی یقین سے بھری تھپکی تھی کہ حسن رضا گوندل نے سب رنگ کی یہ چوٹی سر کر لی۔

سب رنگ پاکستان اور دوسرے ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی دھڑکن کیوں اور کیسے بنا، اس راز سے پردہ شکیل صاحب نے خود اٹھایا ہے۔ چونکہ سب رنگ کا معیار اس کے ہر لحاظ سے مکمل افسانے اور کہانیاں تھیں۔ کسی بھی کہانی یا افسانہ کو جس مشکل امتحان سے گزار کر شائع کیا جاتا تھا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ موصول ہونے والی کہانیاں فکشن کے طلب دار اور ادب سے محبت رکھنے والے احباب کو پڑھائی جاتی تھیں۔ ان سے راۓ طلب کی جاتی تھی۔ یہ ایک دلچسپ مرحلہ ہوتا تھا۔ اس میں راۓ دینے والا فرد الفاظ کی بجاۓ اعداد میں راۓ دیتا تھا۔ کہانی کو کُل سو نمبروں میں تقسیم کیا جاتا اور راۓ دینے والے فرد سے کہا جاتا وہ اپنی کہانی سے متعلق پسندیدگی کا اظہار ان سو نمبروں میں سے کرے۔ بیس، تیس، چالیس، پچاس سے سو تک نمبر دئیے جاتے، صفر نمبر دینے کا آپشن بھی استعمال ہو سکتا تھا۔ تمام افراد کی راۓ کو یکجا کیا جاتا تھا۔ جس کہانی کی پسندیدگی مجموعی طور پر پچاس فیصد سے اُوپر جاتی، وہ کہانی سب رنگ کی زینت بنتی تھی۔ آپ اس قدر مشکل امتحان سے اندازہ لگا سکتے کہ کس درجہ کی کہانی شائع ہوتی تھی سب رنگ ڈائجسٹ میں۔

شکیل عادل زادہ کے سامنے دو آپشن تھے، پہلا، کہانیوں کے معیار پر سمجھوتا کر لیتے، ڈائجسٹ کا پیٹ بھرنے کے لئے ڈنگ ٹپاؤ کہانیوں سے کام چلاتے، ڈائجسٹ کو پیسہ بنانے والی مشین کے طور پر استعمال کرتے اور سیٹھ شکیل عادل زادہ کے نام سے جانے جاتے اور صرف ایک عشرہ کے بعد گمنامی کا شکار ہو کر پس پردہ چلے جاتے۔ دوسرا آپشن، اپنی جان اپنا سرمایہ، اپنے جنون اور علمی ذوق میں جھونک دیتے، ہر منفی خیال کو دل سے نکال پھینکتے، مالی خسارہ برداشت کر لیتے، پانچ عشرے گزرنے کا باوجود اپنے قارئین کے دلوں میں زندہ رہتے، عزت و احترام پاتے۔ ایک خوبصورت با اُصول شخص کے طور پر جانے جاتے۔

شکیل عادل زادہ نے دوسری آپشن کو اپنی سانسوں سے بڑھ کر ترجیح دی، یہی وجہ تھی کہ کہانی اپنے سخت معیار پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ڈائجسٹ میں جگہ نہ بنا پاتی، جس کا اثر ڈائجسٹ کی اشاعت پر پڑتا، ہر ماہ چھپنے والا ڈائجسٹ، تین ماہ کے وقفے سے چھپنے لگا، یہ وقفہ بڑھ کر چھ ماہ، پھر سال بعد، پھر دو سال، پھر تین سال تک آگیا۔
آپ ذرا تصور کریں، تین سال بعد صرف ایک شمارہ، شاید ہی دُنیا میں کسی بھی ڈائجسٹ کا اتنا سخت معیار ہو۔ لیکن یہی معیار سب رنگ کے عروج کا باعث بنا، قارئین نے تین سال بھی انتظار ہی کیا اور جیسے ہی شمارہ شائع ہوتا، ایک دن میں تمام سٹالوں سے اپنے چاہنے والوں کے ہاتھوں میں پہنچ جاتا۔
اس کی وجہ وہ لگن اور قارئین سے محبت تھی کہ شکیل صاحب کا کہنا تھا وہ چاہتے ہیں جب اپنے قارئین کے سامنے جائیں تو سر جھکا ہوا نہ ہو۔شکیل صاحب، آپ جیت گئے ہیں۔ مبارکباد قبول کیجئے۔