غزل- پروین شغف

غزل
پروین شغف –دہلی

عشق میں اس نے یہ کیا کیا بنا ڈالا
خود خدا ، مجھ کو فرشتہ بنا ڈالا

غمزہ، سفّاک نگہ نے مری خاطر
پھر پری وش کوئی دوجہ بنا ڈالا

درد کیا کہتی میں شب تاب سے یارو!
عشق کا کس نے یہ لہجہ بنا ڈالا

روح کی تھاپ پہ جو رقص کیا تھا
اس کو محشر کا ہی نقشہ بنا ڈالا

اب عدم کی ہوں مسافر میں کروں کیا
حسن یاراں نے یہ شیوہ بنا ڈالا