غزل

گمان سے گمان تھے مجھے کسی گمان پر
سوالیہ نشان تھے سوالیہ نشان پر

اذان دفن ہو گئی تھی ہاکروں کے شور میں
سو ہم بھی صرف ہو گئے ثواب کی دکان پر

بتا یہ بات کس طرح وہ اپنی ماؤں سے کہیں
جو مسترد کیے گئے ہوں مادری زبان پر

پلٹ کے آ گیا ہوں میں خفا خفا خجل خجل
کہ وقفۂ نماز تھا شراب کی دکان پر
احمد سلمان