نظم
شاہانہ جاوید
سنا تھا جہنم میں آگ کا گڑھا ہوگا
گنہگار اس،میں ڈالے جائیں گے
ہاں گہنگار صرف گہنگار
ہمارے نااہل حکمرانوں نے
ہم بے گناہوں کے لیے
اس دنیا کو جہنم بنا ڈالا
کہیں دشمن کے ہاتھوں جارحیت سے نسلیں تباہ ہیں
کہیں رنگ ونسل کے نعرے نے برباد کیا ہے
آج ہم اپنوں کی ناانصافی سے تباہ ہیں
ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہر محکمے میں
ہماری کھال کھیچنے کو ہماری تاک میں بیٹھے ہیں
ہم بے بس لوگ کبھی ڈمپر میں کچلے جاتے ہیں
کبھی شادی کی شاپنگ کرتے ہوئے جل کر کوئلہ بن جاتے ہیں
ہمارے نصیب میں کٹ کر مرنا،جل کر مرنا ہی لکھا ہے
یہ دنیا ہی ہمارے لیے جہنم بنادی گئی
آگ کے گڑھوں میں بے گناہوں کو جھونکا جارہا ہے
چند دنوں کا شور ہوگا پھر بے حسی کا ناچ سر بازار ہوگا
سب بھول کر اپنے کام سے لگ جائیں گےغغغغٹٹٹٹغعععررررع
جتنے وعدے کروڑوں کے،راکھ میں دب جائیں گے
وقت کی دھول میں ہر جرم دب جائے گا
عیش وعشرت کا دیوتا انگڑائی لےکر
جاگ جائے گا
پھر وہی عیش وطرب کے نغمے ہونگے
سانحہ بلدیہ کا ہو یا گل پلازہ کا
ایک دھندلی یاد اک خبر بن جائے گا