عہد و پیماں
عہد و پیماں
سرور غزالی
کیوو، یورپ کا ایک قدیم شہر ہے، یہاں دریا پتھریلے کناروں سے ٹکراتا ہوا آہستہ آہستہ بہتا ہے، جس پر وہ ایک پل ہے—لوہے کا، مضبوط، اور برسوں کی یادوں سے بھرا ہوا۔ اس پل کی ریلنگ پر سینکڑوں تالے جھولتے ہیں۔ ہر قفل ایک کہانی ہے، اور ہر کہانی ایک وعدہ۔۔۔۔
کرسٹینا پہلی بار اس پل پر آئی تو شام اتر رہی تھی۔ آسمان پر سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی اور دریا آئینے کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تالا تھا، جس پر دو نام کندہ تھے: کرسٹینا اور سکندر۔ سکندر اس کے ساتھ کھڑا مسکرا رہا تھا—وہ مسکراہٹ جس میں اعتماد بھی تھا اور ہلکی سی گھبراہٹ بھی۔
کہتے ہیں، یورپ کے کئی شہروں میں یہ رسم برسوں سے چلی آ رہی ہے کہ عشق سے سرشار جوڑا پل پر تالا لگاتا ہے، کنجی دریا میں پھینک دیتا ہے، اور یوں محبت کو ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیتا ہے—وقت سے آزاد، فاصلے سے بے نیاز۔
کرسٹینا نے تالا ریلنگ پر رکھا تو اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ “کیا واقعی محبت تالے میں بند ہو سکتی ہے؟” اس نے آہستہ سے پوچھا۔
سکندر نے دریا کی طرف دیکھا۔ “محبت بند نہیں ہوتی،” اس نے کہا، “تالا تو بس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ایک دن ایک دوسرے کا انتخاب کیا تھا۔”
کرسٹینا نے مسکرا کر تالا بند کر دیا۔ کلک—ایک مختصر سی آواز، مگر اس میں عہد کی گونج تھی۔ سکندر نے کنجی اٹھائی، ایک لمحہ رکا، پھر دونوں نے مل کر اسے دریا میں پھینک دیا۔ کنجی پانی میں ڈوبی تو لہروں نے دائرہ بنایا، جیسے وقت نے ایک نیا باب کھول دیا ہو۔
سال گزر گئے۔ زندگی نے اپنے رنگ دکھائے—خوشیاں، آزمائشیں، فاصلے، اور واپسی۔ مگر جب بھی وہ شہر آتے، پل پر ضرور رکتے۔ تالوں کے جنگل میں وہ اپنا تالا ڈھونڈتے—کبھی آسانی سے، کبھی مشکل سے—مگر مل ہی جاتا۔
اور یوں، اس پل پر لگے ہر تالے کی طرح، ان کی محبت بھی وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی۔ زنگ نے لوہے کو چھوا، مگر وعدے کو نہیں۔ کیونکہ محبت، جب یاد بن جائے، تو کبھی کھلتی نہیں—بس گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
اور پھر… یورپ کی فضا بدل گئی۔
وہی شہر، وہی دریا، وہی پل—مگر اب خاموشی میں خوف کی گونج تھی۔ آسمان پر سنہری روشنی کے بجائے سیاہ دھواں چھایا رہتا، اور دریا جو کبھی آئینے کی طرح چمکتا تھا، اب راکھ اور ملبے کا عکس اٹھائے بہتا تھا۔
جنگ چھڑ چکی تھی۔
بارود کی بو ہوا میں بسی ہوئی تھی، توپوں کی گھن گرج نے پرندوں کی آوازیں نگل لی تھیں، اور پل—جو کبھی محبت کا گواہ تھا—اب خوف کی لکیر بن چکا تھا۔ ایک رات، جب بمباری نے شہر کی نیند توڑی، ایک زور دار دھماکا ہوا۔ لوہے کی ریلنگ کانپی، تالے بجلی کی طرح اچھلے، اور کئی وعدے پانی میں جا گرے۔
کرسٹینا اور سکندر اس وقت وہاں نہیں تھے۔ وہ کہیں اور تھے—زندگی بچانے کی کوشش میں، ایک دوسرے کو بچانے کی دعا میں۔
جنگ کے دوران جب وہ پر آئے، تو پل آدھا ٹوٹ چکا تھا۔ ریلنگ مڑی ہوئی، لوہا پگھلا ہوا، اور تالوں کا جنگل بکھر چکا تھا۔ وہ دونوں خاموشی سے کھڑے رہے، نظریں اس جگہ پر جمائے جہاں کبھی ان کا تالا تھا۔
وہ تالا…
جسے زنگ نہ مٹا سکا تھا،
جسے وقت نہ توڑ سکا تھا،
جسے فاصلے نہ ہلا سکے تھے—
وہ اب جنگ کے بارود گولوں میں گم ہو چکا تھا۔
کرسٹینا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ “سب کچھ ختم ہو گیا؟” اس نے سرگوشی کی۔
سکندر نے اس کا ہاتھ تھاما، مضبوطی سے۔ “تالا ختم ہوا ہے، محبت نہیں۔”
وہ دریا کے کنارے بیٹھ گئے۔ پانی اب بھی بہہ رہا تھا—خاموش، مسلسل، بے نیاز۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ چیزیں ٹوٹ سکتی ہیں، نشان مٹ سکتے ہیں، مگر جو رشتے دل میں بندھے ہوں، انہیں کوئی بم نہیں توڑ سکتا۔
سکندر نے آہستہ سے کہا: “ہم نے محبت تالے میں بند نہیں کی تھی،
ہم نے اسے ایک دوسرے کے دل میں رکھا تھا۔”
اور پہلی بار کرسٹینا کو سمجھ آیا— تالا صرف علامت تھا،
محبت خود ایک زندہ وجود تھی۔
جو پل ٹوٹنے سے نہیں ٹوٹتی،
جنگ سے نہیں جلتی،
اور وقت سے نہیں مرتی۔
پل بکھر گیا،
تالا مٹ گیا،
مگر کہانی باقی رہ گئی۔
کیونکہ بعض محبتیں نشان نہیں چھوڑتیں…
وہ صرف نسلوں کے دلوں میں زندہ رہتی
ابھی وہ وہاں کھڑے سوچ میں گم ہی تھے کہ—بغیر اعلان، بغیر جذبات—ایک فوجی گاڑی آئی۔
اس کے پہیے پل کے زخموں پر چرچراتے ہوئے رکے۔ سپاہی اترے، خاموش، بے تاثر۔ انہوں نے نہ دریا کو دیکھا، نہ آسمان کو۔ ان کی نظریں بس لوہے پر تھیں۔ بچے کھچے تالے، جو دھماکوں سے بچ گئے تھے، ریلنگ سے اتارے جانے لگے۔ کچھ پر نام اب بھی واضح تھے، کچھ پر زنگ نے حروف دھندلا دیے تھے، اور کچھ ایسے تھے جن کی کنجیاں برسوں پہلے خوابوں کے ساتھ دریا میں سو چکی تھیں۔
تالے ٹوکریوں میں گرتے گئے—
کلنک، کلنک—
جیسے وعدے گنے جا رہے ہوں۔
کسی نے نہیں پوچھا کہ یہ تالے کیا تھے۔
کسی نے نہیں سوچا کہ یہ کبھی محبت کی نشانی تھے۔
فیکٹری میں، بھٹیوں کے سامنے، وہ تالے خام مال بن گئے۔ آگ نے ان پر ہاتھ رکھا تو نام پگھل گئے، تاریخ بہہ گئی، اور وعدے دھات میں تحلیل ہو گئے۔ لوہا لوہا رہا—بس شکل بدل گئی۔
اسی لوہے سے گولیاں بنیں، شیل بنے، ہتھیار بنے۔
اور یوں عجیب سا چکر مکمل ہوا:
محبت کے تالے → جنگ کا ایندھن
وعدوں کی دھات → نفرت کی زبان
کہیں کسی محاذ پر، ایک گولی نے کسی اور کہانی کو ادھورا چھوڑ دیا—
کسی ماں کا بیٹا،
کسی محبوب کی سانس،
کسی بچے کا خواب۔
اگر کوئی جانتا، تو شاید کانپ جاتا کہ اس گولی میں کبھی دو نام کندہ تھے۔
سالوں بعد، پل پر ایک تختی لگائی گئی:
“یہاں کبھی محبت کے تالے تھے۔”
مگر کسی نے یہ نہ لکھا کہ
وہ محبت
پگھلا کر
جنگ بنا دی گئی۔
کیونکہ تاریخ اکثر یہ بھول جاتی ہے کہ
جنگ صرف شہر نہیں توڑتی—
وہ محبت کو بھی
خام مال سمجھ لیتی ہے۔