میں اب مدرسے نہیں جاؤں گا
اماں! میں اب مدرسے نہیں جاؤں گا
(ایک سچے واقعے پر مبنی سندھی کہانی کا اردو ترجمہ)
تحریر :زیب سندھی
مترجم: آکاش مغل
مدرسے کے در و دیوار ایک معصوم کی آخری ہچکیوں سے لرز رہے تھے۔ ہال میں موجود سو سے زائد بچے شدید خوف و ہراس کے عالم میں یوں ساکت و جامد تھے، جیسے وہ جیتے جاگتے انسان نہیں، خوف کے سانچے میں ڈھلے مٹی کے بے جان بت ہوں جن کے لیے
سانس لینا بھی گناہ ہو۔
سبق یاد نہ ہونے کی پاداش میں، قاری کی کرخت آواز کسی درندے کی دھاڑ بن کر گونج رہی تھی۔ وہ آٹھ سالہ حسین پر مسلسل بہیمانہ تشدد کر رہا تھا۔ تھپڑ، مکے، لاتیں اور پھر ڈنڈوں کی وہ برسات کہ معصوم بچے کا نازک گورا بدن نیلا پڑ گیا۔ فرش پر پڑا حسین مچھلی کی طرح تڑپتا رہا، فریاد کرتا رہا، مگر شقی القلب قاری رحم کے مفہوم سے ناآشنا تھا۔ طیش کے عالم میں اس کے منہ سے جھاگ اڑ رہی تھی اور وہ کسی جنونی کی طرح اس ننھی سی جان کو کچلنے پر تلا ہوا تھا۔
اپنے سگے بھائی کو لہولہان دیکھ کر سات سالہ حسن کے حلق سے ایک لرزتی ہوئی چیخ نکل گئی۔ قاری نے خونخوار نظروں سے حسن کی جانب دیکھا تو بچے کا پتا پانی ہو گیا۔ اس نے ڈر کے مارے آنکھیں میچ لیں، جیسے موت کو سامنے دیکھ لیا ہو۔
قاری نے حسن کی طرف لاٹھی لہرائی اور ہانپتے ہوئے غرا کر بولا:
”تمہارے باپ نے کہہ رکھا ہے کہ اگر… اگر میرے بیٹے سبق یاد نہ کریں تو… تو انہیں زندہ مت چھوڑنا… آج اگر تو نے بھی سبق پکا نہ کیا تو میں تیری بھی چمڑی ادھیڑ دوں گا!“
یہ کہہ کر اس نے دوبارہ فرش پر ادھ موئے پڑے حسین پر لاتوں اور ڈنڈوں کی بارش کر دی۔ قاری کی دھمکی اور اپنے بھائی کی درگت دیکھ کر حسن کو محسوس ہوا جیسے اس کی اپنی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر رہی ہو۔ شدید سردی کے باوجود اس کا چھوٹا سا وجود پسینے میں شرابور تھا۔
اس نے انتہائی خوف کے عالم میں ادھ کھلی آنکھوں اور جھکی ہوئی گردن کے ساتھ قاری کی جانب دیکھنے کی کوشش کی تو اس کی آنکھوں سے دو آنسو ٹپکے اور رحل پر رکھے ہوئے کلام پاک کے ورق پر جا گرے۔ اس نے تھرتھراتے ہاتھوں سے رحل پر رکھے ہوئے قرآن پاک کو اوپر اٹھایا، اسے بوسہ دیا، ورق پر گرے ہوئے آنسوؤں کو اپنے ہونٹوں سے صاف کیا ۔ اس نے ہچکی بھری سرد آہ بھری تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلا، ”یا اللہ!“ مگر اس کی یہ معصوم پکار غصے میں بپھرے جنونی قاری کے شور میں دب کر رہ گئی۔
حسین پر کافی دیر تک مسلسل تشدد کرنے کے باعث قاری تھک گیا تو لاٹھی کے سہارے کھڑا ہو کر ہانپنے لگا۔ کچھ دیر ہانپنے کے بعد وہ نڈھال ہو کر فرش پر بیٹھ گیا، شدید غصے کے عالم میں اس کے ہونٹوں سے اب بھی جھاگ ٹپک رہی تھی۔
ہال میں قبرستان جیسی خاموشی چھا گئی۔ فرش پر پڑے حسین میں اب تڑپنے کی سکت بھی نہ تھی۔وہ بمشکل آہستہ آہستہ سانس لے رہا تھا، وقفے وقفے سے جب وہ درد کی شدت سے سانس کھینچتا تو اس کا سینہ اوپر کو ابھرتا اور پیٹھ فرش سے جدا ہو جاتی۔ مدرسے کے ہال میں اب ہو کا عالم تھا گویا وہاں کوئی ذی نفس موجود ہی نہ ہو، بس سو کے قریب بے زبان کیڑے مکوڑے بیٹھے ہوں۔ فرش پر بے سدھ پڑے معصوم حسین نے ایک بڑی مشکل سے لمبی سانس لی اور نحیف آواز میں پکارا، ”پانی… پانی…!“
حسن کے کانوں تک جیسے ہی اپنے بھائی کی آواز پہنچی تو اس سے رہا نہ گیا، وہ بھائی کو زندگی کا ایک گھونٹ دینے کے لیے تڑپ کر اٹھا، قاری نے غضب ناک ہو کر پاس پڑی لاٹھی اٹھا کر اسے کھینچ ماری جو سیدھی جا کر حسن کے سر پر لگی اور بچہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔ قاری کچھ دیر ہانپتا اور منہ سے جھاگ بہاتا رہا اور پھر تمام بچوں کی جانب دیکھتے ہوئے کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آواز میں چنگھاڑا، ”تم سب کو سانپ سونگھ گیا ہے کیا؟… چپ کیوں بیٹھے ہو حرام زادو …۔ سبق یاد کرو ورنہ تم سب کا بھی برا حشر کر دوں گا!“
قاری کی دھمکی سن کر بچوں نے دہشت کے مارے اونچی آواز میں سبق دہرانا شروع کر دیا۔ حسن نے اپنے زخمی سر پر ہاتھ رکھا پھر بے بسی سے ایک نظر سامنے فرش پر پڑے زخمی بھائی کی طرف دیکھا۔ اور پھر وہ بھی دیگر بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سبق یاد کرنے بیٹھ گیا مگر الفاظ اس کے حلق میں کانٹوں کی طرح چبھ رہے تھے۔ وہ سبق یاد کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے روتا اور اپنی معصوم آنکھوں سے بہنے والے آنسو اپنی قمیض کی آستین سے پونچھتا رہا۔بیچ بیچ میں وہ قاری سے نظر بچا کر سامنے فرش پر پڑے اپنے بھائی کو دیکھ لیتا، جس کی سانسوں کی رفتار اب لمحہ بہ لمحہ مدہم پڑتی جا رہی تھی… اور پھر جب اس نے دیکھا کہ اس کے بھائی نے ایک آخری لمبی سانس لی اور اس کی گردن ایک جانب ڈھلک گئی ہے تو بے اختیار اٹھا اور دیوانہ وار بھاگ کر بھائی کے بے حس و حرکت جسم کو جھنجھوڑنے لگا۔
”ادا… ادا… اٹھو نا!“ مگر وہاں خاموشی تھی۔ اس نے گھبرا کر قاری کی طرف دیکھا اور ایک وحشت ناک چیخ ماری، ”ادا مر گیا … تم نے میرے بھائی کو مار ڈالا…! تم نے میرے بھائی کو مار ڈالا…!“
قاری اپنی جگہ سے اٹھا، اس نے حسن کو پرے دھکیلا اور حسین کو ہلایا، اس کے منہ کے آگے ہاتھ رکھ کر سانس محسوس کرنے کی کوشش کی، نبض ٹٹولی اور جب اسے یقین ہو گیا کہ حسین کی روح پرواز کر چکی ہے، تب اس نے کچھ سوچ کر، ایک طالب علم کو آواز دی اور اسے حسین کے باپ کو بلا لانے کے لیے بھیج دیا۔
قاری مدرسے کے دروازے پر مرنے والے بچے کے باپ کا انتظار کر رہا تھا۔ باپ پہنچا تو قاری نے آگے بڑھ کر سپاٹ لہجے میں کہا ، ”آپ نے خود کہا تھا کہ اگر آپ کے بیٹے سبق یاد نہ کریں تو میں ان پر سختی کروں، بھلے وہ مر ہی کیوں نہ جائیں۔“
باپ نے بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے جواب دیا، ”جی ہاں، بالکل میں نے کہا تھا، مگر ہوا کیا ہے؟“
قاری نے ایک لمحے کی خاموشی کے بعد کہا،
” آپ کا ایک بیٹا مر چکا ہے اور دوسرا اس کی لاش کے پاس بیٹھا ہے!“
باپ مدرسے میں داخل ہوا۔
اس نے آٹھ سالہ بیٹے کی لاش گود میں اٹھائی اور دوسرے بیٹے کا ہاتھ تھام کر خاموشی سے ایسے باہر نکلا جیسے دکان سے سودا سلف لے کر نکل رہا ہو۔
گھر میں ماتم برپا تھا۔ آٹھ سالہ معصوم کی لاش پر بین کرتی ماں نے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے دہائی دی : ”تم پولیس کے پاس جا کر قاری کے خلاف قتل کی رپورٹ درج کیوں نہیں کرواتے؟ اس ظالم کو سزا کیوں نہیں دلواتے؟“
باپ نے سکون سے جواب دیا: ”اس میں قاری صاحب کا کیا قصور؟ میرے بیٹے نے سبق یاد کرتے ہوئے شہادت پائی ہے، اس لیے میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرواؤں گا۔ مجھے قاری صاحب کے خلاف رپورٹ درج کروا کے بھلا اپنی قیامت کالی کروانی ہے کیا !“
معصوم حسن کی ماں اپنے شوہر کی جہالت سے واقف تھی اور شوہر کی غلامی کے باعث اس کے پاس سوائے صبر کے کوئی چارہ نہ تھا، چنانچہ زہر کا یہ گھونٹ پینا اس کی مجبوری تھی۔
شام کو ننھے حسین کی تدفین کر دی گئی۔
رات کو حسین کے چھوٹے بھائی حسن نے ماں کی گود میں منہ چھپا کر سسکیاں بھرتے ہوئے کہا، ”اماں، مجھے ادا حسین کی بہت یاد آ رہی ہے!“
ماں کا کلیجہ کٹ کر رہ گیا۔
حسن نے معصومیت سے پوچھا، ”اماں، مرنے کے بعد انسان اللّٰہ میاں کے پاس چلا جاتا ہے نا۔۔۔؟“
ماں نے سسکتے ہوئے جواب دیا ، ”ہاں میرے لال !“
حسن بولا، ”میں بھی مرنا چاہتا ہوں اماں۔۔۔!“
ایک بیٹے کی موت کے صدمے سے نڈھال ماں چھوٹے بیٹے کے منہ سے نکلی بات سن کر تڑپ اٹھی ، ”ایسا نہیں کہتے میرے لال!“
حسن نے لمبی سانس لے کر کہا، ”مجھے اللّٰہ میاں سے ایک ضروری کام ہے، اس کے لیے میرا اللّٰہ میاں پاس جانا بہت ضروری ہے!“
ماں نے شدید کرب سے پوچھا، ”کیا کام ہے تمہارا اللّٰہ پاک سے؟“
ننھے حسن نے غم کی شدت سے جواب دیا، ”میں جا کر اللّٰہ میاں کو بتاؤں گا کہ قاری کے ساتھ میرا بابا بھی میرے بھائی کے قتل میں شامل ہے!“
ماں نے خوفزدہ ہو کر حسن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ، ”تیرے بابا نے یہ بات سن لی تو تجھے مار ڈالے گا۔ کل سے وہ تجھے پھر مدرسے بھیجے گا !“
سات سالہ معصوم حسن نے ایک جھٹکے سے ماں کا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹایا، اس کی چیخ درودیوار کو چیر گئی، ” بابا مجھے بھلے مار ڈالے … مگر… مگر اماں! میں اب کبھی مدرسے نہیں جاؤں گا، کبھی نہیں ۔ ۔. !“
***