بھوک

بھوک
غلام محمد اصغر
بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتی تھی۔ تین دن کی مسلسل بارش نے جل تھل ایک کر دیا تھا۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ کچروں کے وہ ڈھیر جن سے کچرا چن کر وہ اپنے اور اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بہ مشکل کر پاتی تھی اب اس قابل نہ تھے کہ اس کا اور اس کے بچوں کا پیٹ بھر سکتے ۔ کل رات سے بچوں نےکچھ نہیں کھایا تھا وہ خود بھی بھوک سے نبرد آزما تھی۔ اس کی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتیں جیسے رازقِ کائنات سے شکایت کر رہی ہوں کہ اے رزق تقسیم کرنے والے تو نے تو ہر حال میں رزق دینے کا وعدہ کیا ہے پھر میرے بچے کل رات سے بھوکے کیوں ہیں؟ ان کے حصے کا رزق کہاں ہے ؟ آسمان پر بجلی زور سے
کڑکی جیسے اس کے اس خاموش احتجاج پر اپنی ناراضی کا اظہار کر رہی ہو۔
بارش میں ایک بار پھر شدت آ گئی اور اس کی سوچ کا دھارا بارش کے پانی کے ساتھ ماضی کی یادوں میں بہنے لگا۔ ساون ہی کا مہینہ تھا اور ایسی ہی مسلسل بارش ، ایک کمرے کے کچے مکان کی چھت کئی جگہوں سے ٹپک رہی تھی۔ اندھیرا چھا چکا تھا۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں وہ کمرے میں پڑی اکلوتی چارپائی پر بیٹھی اپنی چھے ماہ کی بیٹی کو چھاتی سے لگائے دودھ پلا رہی تھی۔ اس کا دو سالہ پہلوٹی کا بیٹا برابر میں لیٹا گہری نیند سو رہا تھا۔ اس کی بے چین آنکھیں بار بار دروازے کی طرف اٹھتیں ۔اسے اپنے خاوند کا انتظار تھا جو باڑے میں گھسا زمیندار کی بھینسوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔
آسمان پر بجلی کڑکی تو اس کا دل دہل گیا۔ اس نے خوف زدہ نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔ لبوں پر بے اختیار وہ تمام دعائیں جاری ہو گئیں جو اس کے حافظے میں محفوظ تھیں۔ اس سے پہلے کہ اس کی دعائیں آسمان تک پہنچتیں ، آسمانی بجلی اس کے خاوند پر موت بن کر گری اور اس کا نشیمن اجڑ گیا۔ گاؤں والوں نے بڑی مشکل سے اس کے مجازی خدا کو گیلی مٹی کے سپرد کیا۔برسات کی رم جھم میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے لیکن ان آنسوؤں کو پونچھنے والا اب کوئی نہ تھا۔
چند دنوں بعد ہی زمیندار نے بھینسوں کی دیکھ بھال کے لیے نیا آدمی رکھ لیا جسے رہنے کے لیے مکان کی ضرورت بھی تھی۔ خاوند کی موت کا غم ابھی کم نہ ہوا تھا کہ اسے چھت چھن جانے کے خوف نے آگھیرا۔ زمیندار نے خود کو دین دار ثابت کرنے کے لیے، نیکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنی مہربانی کی کہ اسے عدت پوری ہونے تک مکان میں رہنے کی اجازت دے دی۔
عدت پوری ہونے کے بعد اسے زمیندار کا دیا گیا مکان خالی کرنا پڑا۔ شوہر کی وفات کے بعد وہ بے آسرا ہو چکی تھی۔ اس کے پاس سر چھپانے کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ وہ مایوسی کے عالم میں اپنے دونوں بچوں کو ساتھ لیے نکلی۔ کہاں جائے ؟ کس سے مدد مانگے ؟ کون ہے ایسا جو اسے پناہ دے سکے ؟ اس کا شوہر بیتیم خانے میں پل کر جوان ہوا تھا۔ شادی کے وقت اس کا بھی اپنی ماں کے سوا دنیا میں کوئی اور رشتے دار نہ تھا۔ شادی کے صرف ایک سال بعد وہ بھی انھیں چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔
کہاں جائے ؟ کس سے مدد مانگے ؟ وہ سوچ سوچ کر پریشان ہو گئی لیکن اسے اپنے سوالوں کا کوئی جواب نہ مل سکا۔آخر کار مایوس ہو کر اس نے بچوں سمیت ریل کی پٹڑیوں کا رخ کیا تاکہ زندگی کے اس درد ناک عذاب سے چھٹکارا پاسکے۔ وہ اپنے دونوں بچوں کو لے کر ریل کی پٹڑیوں پر جا بیٹھی اور موت کا انتظار کرنے لگی۔
لیکن موت کا تو وقت معین ہے۔ ہماری خواہش کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو ، موت وقت سے پہلے نہیں آتی۔ اس سے پہلے کہ ریل گاڑی موت کا پیغام لے کر آتی، مائی جیراں زندگی کی آس بن کر اس کے پاس پہنچ گئی۔ ” خدا نے زندگی دی ہے تو اس کی قدر کر۔ ” مائی جیراں نے اسے سمجھایا۔ اپنے لیے نہیں تو ان بچوں کے لیے جی۔ مجھے دیکھ میرا تو کوئی بھی نہیں اس دنیا میں لیکن پھر بھی جی رہی ہوں۔ کچرا چنتی ہوں اور پیٹ کا دوزخ بھر لیتی ہوں۔ تجھے بھی روٹی مل ہی جائے گی ، چل میرے ساتھ چل۔ ” وہ بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنے دونوں بچوں سمیت مائی جیراں کے ساتھ چلی آئی۔ مائی جیراں تو چند ہی مہینوں میں زندگی کی بازی ہار گئی لیکن اس کی زندگی کی گاڑی چل پڑی۔
روٹی کے لیے کچرا چنتے اسے پانچ سال ہو چکے تھے۔ زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کے باوجود ان پانچ سالوں میں اس کے بچے کبھی بھو کے نہ سوئے تھے لیکن کل رات ان پر یہ افتاد بھی ٹوٹ پڑی۔ اپنی مخصوص گھن گرج کے ساتھ ، سیٹی بجاتی ریل گاڑی قریب کی پٹریوں پر سے گزری تو وہ چونک پڑی اور اپنے خیالات کی دنیا سے نکل آئی۔ شام ہونے کو آئی، لگتا ہے آج پھر بچوں کو بھوکا سونا پڑے گا، کیا کرے ؟ کہاں سے ان کے پیٹ کا دوزخ بھرے ؟ اس نے باہر کی جانب نگاہ دوڑائی۔ سامنے شہر کی وہ مصروف شارع تھی جس پر ہر وقت گاڑیاں قطار اندر قطار ایک دوسرے کے پیچھے رینگتی نظر آتی تھیں لیکن اس وقت یہ بڑی سڑک ایک تالاب کا منظر پیش کر رہی تھی۔ دوسرے بچوں کی طرح اس کے دونوں بچے بھی اس تالاب کے گندے پانی میں ڈبکیاں لگا کر زندگی کا رس چوسنے میں مصروف تھے کہ اتنی سنتی تفریح انھیں اور کہاں مل سکتی تھی۔
بارش کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی ۔ وہ بھی اپنی چھوٹی سی خیمہ نما جھونپڑی سے باہر نکل آئی۔ اس کی جھونپڑی کے ساتھ اس جیسی آٹھ دس جھونپڑیاں اور بھی تھیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس مدد مانگتے جائے ؟ لیکن ان کا گزارا بھی تو کچرے پر ہے، پھر وہاں سے مجھے کیا ملے گا؟ تو کیا آج پھر میرے بچے بھوکے سوئیں گے ؟ یہ سوچ کر اور بے چین ہو گئی۔
جھونپڑیوں کے عقب سے ایک ریل گاڑی شور مچاتی گزرنے لگی۔ اس نے اپنا رخ ریل گاڑی کی طرف کر لیا۔ ریل گاڑی کی رفتار عام دنوں کے مقابلے میں کچھ ریل گاڑی میں بیٹھے کچھ مسافروں کے چہروں پر بے زاری تھی، شاید سفر کی مشکلات نے انھیں تھکا دیا تھا۔ کچھ مسافروں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے شاید انھیں منزل پر پہنچنے کی خوشی تھی یا شاید اسے یوں لگا جیسے ریل گاڑی میں بیٹھے یہ ہنستے مسکراتے مسافر اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہوں ۔ اس کے خالی پیٹ میں ایٹھن سی ہونے لگئی جیسے کوئی اپنے گیلے کپڑے نچوڑ رہا ہو۔ اس نے گھبرا کر اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا جو بارش میں بھیگ کر اس کے بدن کے ساتھ چپک سے گئے تھے۔ریل گاڑی جا چکی تھی ، اب دور تک فقط خالی پڑیاں اس کے سامنے تھیں۔ وہ دیر تک ان پٹریوں کو خالی الذہن گھورتی رہی۔ اچانک کار کے ہارن کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اس نے مڑ کر سامنے روڈ کی جانب دیکھا۔ کار میں بیٹھے نوجوان کی بھوکی نظریں اس کے جسم پر گڑی ہوئی تھیں۔ بے ساختہ اس نے اپنے جسم کو سمیٹنے کی کوشش کی جس پر موجود کپڑے بارش میں بھیگ کر اس کے جسم کا حصہ بن چکے تھے۔ وہ ننگی نہیں تھی لیکن کار میں بیٹھ کر چیونگم چبانے والے شخص کی تیز نگاہوں نے جیسے اسے ننگا کر دیا تھا۔ اس کی نگاہیں اپنے جسم کے ساتھ چپکے ہوئے کپڑوں سے ہٹ کر ایک بار پھر کار کے جانب اٹھیں۔ کھا جانے والی نظروں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ انگلی کے اشارے سے اسے اپنے پاس آنے کی دعوت دی۔ وہ اس اشارے کا مطلب خوب سمجھتی تھی۔ “سور کی اولاد “اس کے منھ سے بے اختیار نکلا۔ غصے سے اس کے گیلے بدن میں آگ لگ گئی۔ اس نے نفرت سے منہ دوسری جانب پھیر لیا۔ پھر اسے اپنے بھوکے بچوں کا خیال آیا۔ دفعتاً اسے یوں لگا جیسے اس کے بچے بھوک سے تنگ آکر ریل کی خالی پٹڑیوں پر آ بیٹھے ہیں اور کسی ریل گاڑی کا انتظار کر رہے ہیں۔
کار کا ہارن ایک بار پھر بجا۔ اس نے بے بسی سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ کار میں بیٹھے شخص کے چہرے پر وہی شیطانی مسکراہٹ تھی۔ اس نے سر سے مخصوص اشارے سے ایک بار پھر اسے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی۔ اس نے چور نظروں سے اپنے دونوں بچوں کی طرف دیکھا جو دنیا و مافیا سے بے خبر اس وقت سڑک کے گندے پانی میں ڈبکیاں لگا کر زندگی کا رس چوسنے میں مصروف تھے۔ ایسے میں انہیں اپنی بھوک بھی یاد نہ رہی تھی لیکن وہ ان کی بھوک سے غافل نہ تھی۔ وہ ماں تھی، اسے اپنے بن باپ کے بچوں کی فکر تھی۔ اسے اپنے بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کرنا ہی تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے قدم کار کی جانب اٹھ گئے۔ “چلو گی ؟ ” کار میں بیٹھے شخص نے اس کے بھیگے جسم پر بھوکی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ ” پانچ سو روپے دوں گا۔ کار میں بیٹھے نوجوان کی آواز اسے بہت دور سے آتی محسوس ہوئی۔ اس نے ایک بار پھر اپنے بچوں کی طرف دیکھا جو غم حیات سے بے نیاز زندگی کا لطف اٹھانے میں مشغول تھے۔ انھیں اس وقت بھوک بالکل یاد نہ رہی تھی۔ مگر وہ ماں تھی۔ وہ کیسے بھول سکتی تھی۔ ” چلو۔ صرف ایک گھنٹے کے لیے اس نے بچوں پر سے نگاہیں بنائیں اور کار میں بیٹھے نوجوان کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔ اور واپس بھی چھوڑو گئے اس نے کرخت لہجے میں اپنی شرطیں بیان کر دیں ۔ ” ٹھیک ہے، چلو ” نوجوان نے مسکراتے ہوئے کار کا دروازہ کھول دیا۔
وہ اپنے گیلے کپڑوں، بھیگے بدن اور خالی پیٹ کے ساتھ کار میں بیٹھ گئی کیونکہ اس کے بچوں کی بھوک اسی طرح مٹ سکتی تھی۔