غزل

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگرمزید پڑھیں

نظم (حسن اور مزدوری)

ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرار چوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسامزید پڑھیں

نظم (بدلی کا چاند)

خورشید وہ دیکھو ڈوب گیا ظلمت کا نشاں لہرانے لگا مہتاب وہ ہلکے بادل سے چاندی کے ورق برسانے لگا وہ سانولے پن پر میداںمزید پڑھیں

نظم (وطن)

اے وطن پاک وطن روح روان احرار اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار اےمزید پڑھیں

نظم ( ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب)

کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرو دہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کرو جس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہےمزید پڑھیں

نظم (مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے خط)

اے علی گڑھ اے جواں قسمت دبستان کہن عقل کے فانوس سے روشن ہے تیری انجمن حشر کے دن تک پھلا پھولا رہے تیرا چمنمزید پڑھیں

نظم (البیلی صبح)

نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے روش روش نغمۂمزید پڑھیں

نظم (رشوت)

لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئے یہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئے اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لتمزید پڑھیں

نظم (اپنی ملکئہ سخن سے)

اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزو اے مہر ناز و ماہ شبستان آرزو اے جان درد مندی و ایمان آرزو اے شمع طور ومزید پڑھیں

نظم (شکستِ زنداں کا خواب)

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آمزید پڑھیں