قطعہ

اے شہنشاہ آسماں اورنگ اے جہاں دار آفتاب آثار اے شہنشاہ آسماں اورنگ اے جہاں دار آفتاب آثار تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیںمزید پڑھیں

قطعہ

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں اک تیر میرے سینے میں مارا کہمزید پڑھیں

غزل

سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر اب تکمزید پڑھیں

غزل

پھر اس انداز سے بہار آئی کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی دیکھو اے ساکنان خطۂ خاک اس کو کہتے ہیں عالم آرائی کہ زمیںمزید پڑھیں

غزل

ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے رفوئے زخم سے مطلب ہےمزید پڑھیں

غزل

قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں دل نازک پہ اس کےمزید پڑھیں

غزل

کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوز غم ہائے نہانی اورمزید پڑھیں

غزل

مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کومزید پڑھیں

غزل

بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر متاع خانۂ زنجیر جز صدامزید پڑھیں

غزل

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کامزید پڑھیں