نظم ( ایک کمرہ اِمتحان میں)
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں یا سوال نامے کو دیکھتےمزید پڑھیں
بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر انگلیاں گھماتے ہیں یا سوال نامے کو دیکھتےمزید پڑھیں
سیلف میڈ لوگوں کا المیہ روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے زندگی کے رستے میں بچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں ایکمزید پڑھیں
گلاب چہرے پہ مسکراہٹ چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے سہیلیوں کو لیے اترتی تو ایسے لگتا تھا جیسےمزید پڑھیں
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہےمزید پڑھیں
اگر کبھی میری یاد آئے تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں کسی ستارے کو دیکھ لینا اگر وہ نخل فلک سے اڑ کرمزید پڑھیں
اے دل والو گھر سے نکلو دیتا دعوت عام ہے چاند شہروں شہروں قریوں قریوں وحشت کا پیغام ہے چاند تو بھی ہرے دریچے والیمزید پڑھیں
اس حسن کے نام پہ یاد آئے سب منظر فیضؔ کی نظموں کے وہی رنگ حنا وہی بند قبا وہی پھول کھلے پیراہن میں کچھمزید پڑھیں
جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہر جھانکی ہے آج مگر اک نارمزید پڑھیں
ہمیں تم پہ گمان وحشت تھا ہم لوگوں کو رسوا کیا تم نے ابھی فصل گلوں کی نہیں گزری کیوں دامن چاک سیا تم نےمزید پڑھیں
دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینامزید پڑھیں
حالیہ تبصرے