غزل
عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے عشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھے رنج دے گی باغ رضواں کی تن آسانی مجھے یادمزید پڑھیں
عقل سے حاصل ہوئی کیا کیا پشیمانی مجھے عشق جب دینے لگا تعلیم نادانی مجھے رنج دے گی باغ رضواں کی تن آسانی مجھے یادمزید پڑھیں
بیکلی سے مجھے راحت ہوگی چھیڑ دیں آپ عنایت ہوگی وصل میں ان کے قدم چومیں گے وہ بھی گر ان کی اجازت ہوگی بےمزید پڑھیں
ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے وہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے جنون محبت کا دیوانہ ہوں میں مرے سر میں سودائےمزید پڑھیں
مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے وہ بے پروا الٰہی مجھ پہ کیوں گرم نوازش ہے پے مشق تغافل آپمزید پڑھیں
اور بھی ہو گئے بیگانہ وہ غفلت کر کے آزمایا جو انہیں ضبط محبت کر کے دل نے چھوڑا ہے نہ چھوڑے ترے ملنے کامزید پڑھیں
دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا طلب میری بہت کچھ ہے، مگر کیا کرم تیرا ہے اکمزید پڑھیں
اب تو اٹھ سکتا نہیں آنکھوں سے بار انتظار کس طرح کاٹے کوئی لیل و نہار انتظار ان کی الفت کا یقیں ہو ان کےمزید پڑھیں
پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو ہم نہ کہتے تھے بناوٹ ہے یہ سارامزید پڑھیں
حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب اس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب کی یاس سے ہوس نے لڑائی تماممزید پڑھیں
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھیمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے