قطعہ
خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ نہمزید پڑھیں
خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ نہمزید پڑھیں
گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم عاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی سویہ نظر فروز قلم دان نذر ہے مسٹر کوانمزید پڑھیں
ہاں اے نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو اے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو اے زمزمۂ قم لب عیسی پہ فغاں ہو اےمزید پڑھیں
اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوا اتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریں ایسی گرہیں ہزارمزید پڑھیں
یاران نبی سے رکھ تولّا باللہ ہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمن لا حولمزید پڑھیں
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبؔ دل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالبؔ واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیںمزید پڑھیں
افسوس کہ دنداں کا کیا رزق فلک نے جن لوگوں کی تھی در خور عقد گہر انگشت کافی ہے نشانی ترا چھلے کا نہ دینامزید پڑھیں
آمد سیلاب طوفان صداۓ آب ہے نقش پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے بزم مے وحشت کدہ ہے کس کی چشم مستمزید پڑھیں
اک گرم آہ کی تو ہزاروں کے گھر جلے رکھتے ہیں عشق میں یہ اثر ہم جگر جلے پروانے کا نہ غم ہو تو پھرمزید پڑھیں
برشکال گریۂ عاشق ہے دیکھا چاہیے کھل گئی مانند گل سو جا سے دیوار چمن الفت گل سے غلط ہے دعوی وارستگی سرو ہے بامزید پڑھیں
حالیہ تبصرے