غزل

پھر بھی ہے تم کو مسیحائی کا دعویٰ دیکھو مجھ کو دیکھو مرے مرنے کی تمنا دیکھو ہم نہ کہتے تھے بناوٹ ہے یہ سارامزید پڑھیں

غزل

حائل تھی بیچ میں جو رضائی تمام شب اس غم سے ہم کو نیند نہ آئی تمام شب کی یاس سے ہوس نے لڑائی تماممزید پڑھیں

غزل

آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھیمزید پڑھیں

غزل

نہ سہی گر انہیں خیال نہیں کہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں یاد انہیں وعدۂ وصال نہیں کب کیا تھا یہی خیال نہیں ایسےمزید پڑھیں

غزل

تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئیمزید پڑھیں

غزل

جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے عجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے شراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیز اگرمزید پڑھیں

غزل

یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا مجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہوا خودبخود بوئے یار پھیل گئی کوئی منت کش صبا نہ ہوا میںمزید پڑھیں

غزل

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی دامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی جلوۂ ساغر و مینا ہے جو ہمرنگ بہار رونقیںمزید پڑھیں

غزل

خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا شوق کی بے قراریاں نہ گئیں دنمزید پڑھیں

غزل

لطف کی ان سے التجا نہ کریں ہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں مل رہے گا جو ان سے ملنا ہے لب کو شرمندۂمزید پڑھیں