دائرے

دائرے
عندلیب زہرا

اسے اپنی اونچی چھتوں اور بلند ستونوں والی حویلی قطعا پسند نہ تھی۔جہاں رات ہوتے ہی مکینوں کی ناتمام حسرتوں اور تشنہ آرزوں کے مہیب سائے منڈلانے
لگتے۔اسے پرندے اپنے سے بہتر لگتے۔من موجی ۔۔آزاد یا درخت کی وہ شاخیں جو اپنی مرضی سے جھومتی تھیں۔سبیکا چچی سے اسے ہمدردی تھی۔انھیں آسیبی اثرات تھے ۔۔وہ خود کو عبادت ،وظائف تک محدود رکھتیں ۔۔۔۔لیکن اچانک اواز مردانہ ہو جاتی ۔۔آنکھیں چڑھ جاتیں ۔۔۔سب کہتے بابا جی کی آمد ہے۔۔۔۔خدیجہ امی برملا کہتیں “یہ چچا کی بیوفائی کا نتیجہ ہے۔۔”قندیل ایسی حویلی کی مکین تھی جہاں عورتیں سانس بھی اپنی مرضی سے نہ لے سکتیں۔اس نے میٹرک تک پڑھا تھا اور یہ بھی امی خدیجہ کی کوشش کی بدولت۔۔۔وہ گھٹن کا شکار تھی۔۔۔اسے اپنی زندگی سے نفرت تھی۔جو ایک دائرے میں قید تھی وہ اس دائرے کو توڑ دینا چاہتی تھی۔۔تعلیم کے بل بوتے پر۔۔۔۔”عورت کی زندگی ایک دائرے میں قید ہے۔چھوٹے بڑے بیشمار دائرے۔۔۔وہ ان میں گھومتی ہے لیکن ان سے نکل نہیں پاتی ۔۔۔کیونکہ اس کے پاؤں میں زنجیریں ہیں ان دیکھی ۔۔۔روایات کی۔۔۔۔رشتوں کی”سجل پھوپھو آزردگی سے سمجھاتیں ۔۔۔ان کی آنکھوں میں ہمیشہ حزن رہتا۔۔رخسار زرد اور لب سوکھے ہوئے جیسے صحرا۔۔۔کچھ لمحے اپنے لیے ہوں۔ قندیل درودیوار پر ناپسندیدہ نظر ڈالتی ۔۔۔۔اسے پکھی واس خوش قسمت لگتے ۔وہ بھٹے کھاتیں ۔۔۔
گیت گاتی گزر جاتیں ۔۔”قندیل !! اتنا مت سوچا کرو ۔۔۔یہ گھٹن روح میں رچ بس جائے گی “امی خدیجہ سمجھاتیں ۔۔۔انھی دنوں ابو نے اس کا رشتہ طے کر دیا۔۔۔کون ،کب کیسے ۔۔کوئی جواب نہ تھا۔۔۔۔اس نے خوش امیدی ،خوش گمانی کے خواب بننے شروع کر دیے ۔۔شاید کوئی ہوا کا جھونکا ۔۔۔۔کوئی روزن مل جائے ۔وہ سوچتی ۔۔امی کہتیں آنیوالا وقت خوش خبری لائے گا ۔۔۔سجل پھوپھو اس کے پاس روز آتیں۔۔۔۔ان کے گول مٹول بچے اسے عزیز تھے ۔۔اور شادی کے بعد یہ کھلونے قدرت کا تحفہ ہیں۔۔۔۔”کیا میں ان دائروں سے نکل جاوں گی؟؟”وہ سجل سے استفسار کرتی ۔۔۔”تم گھومنا پھرنا۔۔۔تعلیم حاصل کرنا۔۔۔”امی خدیجہ ماؤں کے ازلی دلاسے دیتیں۔۔۔وہ اکثر چڑ جاتی کیا شادی تمام مسائل کا حل ہے ۔۔۔۔آخر وہ دن بھی آ گیا جس کے لیے خواب بنے تھے۔۔۔امیدوں کے محل تعمیر کیے تھے ۔۔۔وہ سر جھکائے دھڑکنوں کا تال میل سن رہی تھی ۔۔جب آہٹ محسوس ہوئی ۔جھکی نظروں نے سیاہ چمکدار بوٹ دیکھے۔۔۔۔چاپ میں
سرد مہری تھی۔اور اس کا اندازہ درست تھا۔۔۔نہ تعریف،نہ وعدہ پیمان۔۔بس اپنی حکومت ۔۔۔برتری کے متعلق بات۔۔۔اس کی ہتھیلیاں خالی رہیں اور کلائیاں سونی ۔۔۔۔نہ امید نہ خوش گمانی۔۔۔ ۔۔۔اگلی صبح سب سکھی سہیلیوں نے گھیرا ڈال دیا ۔۔”کیسے ہیں بھائی۔۔۔کیا کہا”وہ سر جھکائے خاموش رہی۔۔۔کیا کہتی بھلا ایک دائرے سے نکل کر دوسرے دائرے میں۔ قید ہو گئی ہے۔۔۔