دن -2 معافی مانگنا ہمارے ہاں کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے؟
دن -2
معافی مانگنا ہمارے ہاں کمزوری کیوں سمجھا جاتا ہے؟
سب سے آسان لفظ سب سے آسان دوا سب سے بہتر حل اور بڑا بننے کا موثر ترین فارمولا دنیا میں ایک لفظ اور چند حروف میں پنہاں ہے ۔
اردو میں معافی ، انگریزی میں سوری ۔۔
کہنے کو یہ معمولی سا لفظ ہے لیکن اس میں گہرائی اور شدت اس قدر زیادہ ہے کہ یہ زبان پر لانا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہے ۔
آج کا انسان جس معاشرے کا حصہ ہے یہ معاشرہ اسی انسان کی دین ہے گروہ بستی ،خاندان رشتوں کے ساتھ مل جل کر رہنا یہ انسان کا اپنا بنایا ہوا نظام ہے اور وہ چاہے نہ چاہے دنیا سے کٹ کر نہیں جی سکتا ۔یہی اٹل حقیقت ہے ۔
جہاں ایک سے زائد انسان ہوں گے وہاں معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور وہیں مسائل جنم لیتے ہیں ۔
رشتوں کی کوکھ سے صرف خلوص جنم نہیں لیتا وہاں اختلاف بھی پیدا ہوتا ہے وہیں ہوس اور لالچ بھی آنکھ کھولتی ہے ۔
انسان اپنی فطرت کے باعث ان میں الجھتا ضرور ہے ۔یہی کائنات کا اصول ہے ۔
ہر اونچے قد کے نیچے ایک کندھا ضرور ہوتا ہے لیکن بہت کم سر ایسے ہوتے ہیں جو کسی کو روند کر اوپر نہیں بڑھتے ۔
زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب انسان بھاگتا بھاگتا رک جاتا ہے اور وہ سود و زیاں کا حساب کرنے لگتا ہے۔
اس وقت انسان کے سامنے بے شمار ایسے چہرے ابھر آتے ہیں جن سے اسے معافی مانگنا ہوتی ہے لیکن غرور تکبر طاقت میں پھنسا انسان سوچتا ہے کہ میں رشتوں کا اسیر کیونکر بنوں ۔
ہم یہاں رشتے کھو دیتے ہیں اپنوں سے دور ہو جاتے ہیں ۔ اس سے قطع نظر غلطی پر کون ہے لیکن ہر جھگڑا ہر زیادتی ہر مسلہ ایک رشتہ کم ضرور کرتا ہے ۔ خلوص کی ڈور رفتہ رفتہ دھاگے کی مانند ٹوٹ جاتی ہے لیکن ہم میں سے کوئی بھی معزرت نہیں کرتا ۔
وہ رشتوں کو آگ میں جھونک سکتا ہے لیکن وہ یہ اعتراف نہیں کر پاتا کہ وہ غلط تھا ۔
ایسا کیونکر ہے کہ انسان اس قدر گراوٹ کا شکار ہو چکا ہے ۔
اس سوال کا جواب ہمارے اپنے اندر چھپا ہے ۔
ہر وہ انسان جو کسی دوسرے کے خلوص کا مقروض ہے اور رشتوں کے بازار میں وہ سوداگر بن گیا ہے وہ سوچتا ہے کہ میں اگر جھکا تو گھر خاندان احباب اور ہر جگہ میری بے توقیری ہوگی ۔
اس کے پاس جھوٹی عزت اور فرضی عظمت کا جو تصور ہے وہ اسے اکساتا ہے کہ رشتے توڑ دو ۔ مگر اپنے خود ساختہ عزت کا سودا نہ کرو ۔
یہاں بھائی بھائی کی میت تک نہیں آتا ۔ یہاں بیٹے باپ کو کندھا دینے میں دیر کر دیتے ہیں۔ ۔یہاں بہن بھائی سے بات کرنے کی روا دار نہیں ۔ یہاں ہر گھر میں ایک جنجال پورہ تو نمودار ہو سکتا ہے ۔ جیتے جی رشتوں کے مزار پر فاتحہ پڑھ لیتے ہیں لیکن سامنے بیٹھ کر کچھ دیر نہ دلیل سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ نہ اپنی غلطی کا اعتراف کر سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔
وہ گلے ملنے میں رسوائی اور گلا کاٹنے کو غیرت سمجھتے ہیں ۔ غیرت عزت وقار کی وہ تمام مروجہ تعریفیں اس معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں جس نے انسانی رشتوں کے تقدس کو مذاق بنا دیا ہے ۔
لوگ مرجاتے ہیں پھر ان کی قبر پر کوئی چوری چھپے آنسو بہا سکتا ہے لیکن زندگی میں گلے لگانے کو تیار نہیں ہوتا ۔
بڑا انسان وہی ہوتا ہے جو اپنی غلطیاں تسلیم کرتا ہے جو قدم بڑھاتا ہے جو گلے لگاتا ہے جو معاشرے میں خیر سگالی کے جذبات کو عام کرتا ہے۔ جو انسان غلطیوں کے پہاڑ پر کھڑے ہو جاتے ہیں زمین بوس ہونا ان کا مقدر بن جاتا ہے ۔
انا پرستی کے بت جب ٹوٹتے ہیں تب انسان کے ہاتھ میں کچھ نہیں بچتا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ مرنے سے قبل نہ مرا جائے ۔
رشتوں کا تقدس پامال نہ کیا جائے اور خود کو واپس انسانیت کے درجے پر لا کھڑا جائے اور سوری معزرت معافی شکریہ جیسے لفظوں اور جذبوں کو عام کیا جائے اور جب ایسا ہوتا ہے جب خود ساختہ عزت ، جعلی عظمت ، ادھار کی غیرت دن توڑ دیتی ہے اور معاشرے میں انسان واپس رہنے لگتے ہیں ۔ مگر یہ سفر ہمارے معاشرے میں فرد سے ریاست تک کوئی بھی طے کرنے کو تیار نہیں ہے اس وجہ سے دنیا گلوبل ولیج تو بن گئی ہے مگر ہر ایک سطح پر دیوار چین بھی قائم ہو گئی ہے ۔
سبھی اپنے اپنے قائم کردہ فرسودہ اصولوں کے غلام بن چکے ہیں۔ اور دائرے کا سفر جاری ہے ۔
مرزا صہیب اکرام