سال در سال

سال در سال
مرزا صہیب اکرام


سال 2026 مبارک
فرد سے ریاست اور زمین سے کائنات تک ہر ایک چیز جو موجود ہے اس میں انسانی شعور کے حساب سے ہمارے فہم کے مطابق ہر سال 31 دسمبر کے بعد ایک سال آگے بڑھ جاتا ہے ۔
حتی کہ یہ چکر زمین اور اس کے باشندوں سے جڑا ہے اور یہ 31 کی رات بارہ بجے کے بعد سال نہیں بڑھتا یہ تو ہر پل بڑھ رہا ہوتا ہے لیکن ہم نے اسے ایک مخصوص گھڑی سے نتھی کر دیا ہے ۔
اس کی وجہ پر غور کریں تو ہم اس لمحہ میں دیکھتے ہیں کہ سال بھر کیا کھویا اور پایا ۔ یہ ہمارے لیے مواخذہ ہے ۔ اگرچہ ہم اس سے دنیا کو بدل نہیں سکتے ویسے بھی انسان کا پہلا فریضہ اپنے اندر بدلاؤ لانا ہوتا ہے ۔
یہ اس بدلاؤ کو یاد کرنے کی ایک کوشش ہوتی ہے کہ ہم بطورِ فرد کیا گذار آئے ہیں اور آگے کیا کر سکتے ہیں۔
یہ سال بھی اب زندگی کے انہی سالوں کا حصہ بن چکا ہے جو پلک جھپکنے گزر جاتے ہیں ہمارے چہروں کے نقوش بدل دیتے ہیں ۔ ہمارے چہروں پر صرف عمر کی جھریاں نہیں ہوتیں بلکہ یہ ایک سال کے لاکھوں پل جو ہم سے چھوٹ گئے ان کا نوحہ ہوتا ہے ۔
کچھ زخم ہمارے جسموں کا حصہ بن جاتے ہیں اور زیادہ تر گھاؤ ہماری روح میں سرایت کر جاتے ہیں ۔
سال کے ہر دن اور مہینے میں ہم دور سے بیٹھے دنیا کے ہر خطے میں انسانیت سوز مظام دیکھتے ہیں ۔ لاکھوں انسان غیر طبعی موت مر جاتے ہیں ۔
کچھ جنگوں کی نذر ہو جاتے اور بہت سے تو کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس جرم کی پاداش میں مٹا دئیے گئے ۔
حساس انسان ان زخموں کا بوجھ اپنے وجود پر لاد لیتے ہیں ان کو ہر بے گناہ انسان پر ہوئے مظام سے فرق پڑتا ہے ۔
وہ اسے بدل نہیں پاتے لیکن ان کا اندر بدل جاتا ہے ۔
اس سال بھی دنیا جنگوں ، سیلابوں ، قدرتی آفات اور بیماریوں سے لڑتی رہی ۔ دنیا کے خطے آگ اور بارود میں جلتے رہے ۔
انسان کی مجموعی حالت میں ابتری ہوئی ۔ عالمی موسمیاتی نظام بھی انسان کی معکوس کوششوں سے تباہی کی جانب اور تیزی سے بھاگا ۔
یہ سال دنیا بھر میں کیا کیا کر گذرا یہ ایک مضمون یا تحریر میں نہیں آ سکتا لیکن ہم خوشیاں اور غم گن سکتے ہیں ۔

اس سال روس اور یوکرین کی جنگ اور بڑھ گئی امن خواب رہا ۔
غزہ کے حالات بدتر رہے ۔ امن کی ایک امید پیدا ہوئی ہے لیکن وہ پوری کب ہوگی یہ کوئی نہیں جانتا ۔
اسرائیل ایران کی جنگ اس سال کی ایک اہم ترین ڈویلپمنٹ تھی۔
پاکستان اور انڈیا کے مابین پھر سے جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ۔
پاکستان افغانستان کا بارڈر اس سال دھماکوں سے گونجتا رہا ۔
سوڈان کے حالت پہلے سے کہیں بد تر ہو گئے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی دوسرے ٹرم میں واپسی اور کئی متنازعہ فیصلے جیسے مختلف ممالک پر ٹیرف، امیگریشن قوانین میں تبدیلی سے امریکہ میں ایک جانب احتجاج کا ماحول بنا۔
ٹرمپ کا کئی ممالک کے بیچ صلح کروانا اس سال کی بڑی خبر رہا۔
ساؤتھ افریقہ میں جی 20 سمٹ کا انعقاد ہوا ۔
لاس اینجلس کیلی فورنیا کی نے ہزاروں ایکڑ کو جلا کر خاک کردیا۔
پاکستان میں شدید سیلاب آئے پورا پنجاب اس سے متاثر ہوا ۔
روس کے علاقہ Kamchatka میں 8.8 کا زلزلہ آیا۔
کریبین کے جزائر میں ہری کین میلیسا سے تباہی مچی۔
ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں اے آئی کی زور و شور سے آمد نے نیوز رپورٹنگ کے سچ کو دھندلا کردیا ۔
ایلون مسک اور ٹرمپ کے بیچ تنازعہ اس سال ایک بڑی خبر بنا۔
ایپسثین فائلز کے باہر آنے پر بہت سے سیلیبریٹز بدنام ہوئے ۔ اس میں انسانیت کا بدنما چہرہ پھر سے داغدار ہوا۔
انڈیا نے آئی سی سی چیمپئن ٹرافی تیسری بار جیتی ۔
وراٹ کوہلی کا ریٹائرمنٹ کرکٹ فینز کے لیے بڑی خبر تھی۔
انڈیا پاکستان میں شدید گرمی کی لہر رہی ٹمپریچر 50 سے 52 تک جا پہنچا۔

شوبز انڈسٹری سے کہہ بڑے نام اس سال اپنے فینز کو سوگوار کرگئے ۔
منوج کمار ، دھرمیندر ، سلکشنا پنڈت ، ستیش شاہ ،اسرانی کا انتقال ہوا۔

یہ سال انہی خبروں حادثات تصادم جنگوں اور مستقبل کے وعدوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا ۔
اس سال بھی انسان خواب دیکھتا رہتا اور زمین لاشوں کی آماجگاہ بنتی رہی۔
دنیا سلگتی رہی ۔ آسمان آنسو بہاتا رہا ۔
کچھ وعدے کچھ وعیدوں کے ساتھ یہ ماہ و سال بیت گئے ۔
دنیا گلوبل ویلج سے واپسی کے سفر پر بھاگتی رہی ۔ انسان اور ریاستیں تنگ نظری کا شکار ہوتی رہیں
دنیا کے مختلف ممالک میں نفرت کی پنیریاں پنپتی رہیں۔ مگر انسان پھر بھی اس امید پر ہے کہ آئندہ سال گزرے جیسا نہیں ہوگا ۔ اب کے بہتری ہوگی ۔
اس سال کچھ نیا ہوگا اس سال جیو اور جینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوا جائے گا ۔ اس سال دنیا امن دیکھے گی ۔ اس سال معاشی بد حالی کم ہوگی ۔ اس سال خوشیوں کے تہوار ہوں گے ۔
بے حال اور بد حال انسان اس سال کچھ سکھ پائیں گے ۔
یہ خواب اور امید ہی ہیں جو انسان کو زندہ رہنے کی توانائی مہیا کرتے ہیں..