شیر کا شکار
شیر کا شکار
ابن صفی
پاڑے کی بڑی حالت تھی۔ دفعتہ شیر نے کے سے قبضے کے ساتھ اُس سے کیا بر خوردار پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ میں بیچ کر چکا ہوں۔ شکاری صاحب چغد معلوم ہوتے ہیں خواہ مخواہ تمہیں تکلیف دی۔ اپنے لیے لفظ چغد سن کر میں غصے سے پاگل ہو گیا۔۔اور بھول گیا کہ کچھ دیر پہلے بے حد فائف تھا۔
میں نے اپنا سینہ ٹھونک کر کہا۔ یہ میں ادیب ہوں ”
پھر میں نے محسوس کیا کہ وہ میری طرف مڑ کر حقارت سے مسکرایا ہے۔ اُس نےکہا ۔ تب تم چغد سے بھی سینٹر ہو۔ یعنی الو ”
میں نے رائفل سنبھالتے ہوئے اُسے لکارا ۔ زبان سنبھال کر بات کر
وہ ہںسنے لگا ۔ دیر تک ہنستا رہا۔ پھر بولا
رائفل رکھ دو ۔ کیوں ایک گولی ضائع کرو گے۔ ٹرانزسٹر ریڈیو سیٹ ہو تو نکالوں میں بھی تمھارے سامنے یہیں دم توڑ دوں گا ۔
کیا بکواس ہے ؟ میں نے چیخ کر کہا۔
یقین کرو۔ میرے دوست ۔ وہ بے حد سنجیدہ ہو کر گلو گیر آواز میں بولا ۔ یہ کلام اقبال کی قوالی سُن کر میں زندہ نہیں بچوں گا ۔ دراصل خود کشی ہی کی نیت سے میں بستی والوں کے ٹرانزسٹر اُٹھا لاتا ہوں ۔ ایک دن اتفاق سے ایسی وقت میں نے ریڈیو کھولا۔ کہیں سے کلام اقبال کی قوالی ہو رہی تھی ۔
میری حالت بگڑنے لگی۔ بس مرنے ہی والا تھا کہ کم بخت بیٹریاں ایگزاسٹ ہو گئیں۔ ریڈیو بند ہو گیا اور میں نہیں مرسکا ۔