فلسفۂ وجود و فن
فلسفۂ وجود و فنا (Existentialism)
پروین شغف دہلی
قادرِ مطلق نے اپنی کائنات کی ہر شے کو اس کی مخصوص فطرت عطا کی ہے، اور اسی فطرت کے ذریعے اس کی ہئیت اور مقصد کا پتہ چلتا ہے، خواہ وہ چیز کتنی ہی چھوٹی ہو یا کتنی ہی بڑی۔ ہر شے اپنی فطرت کے مطابق اپنے وجود کا سفر طے کرتی ہے، بس اسے برتنے کا ہنر ہی اسے منفرد بناتا ہے۔
اس دارِ فانی میں صرف انسان ہی ایسی مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشاہدات اور تجربات کی صلاحیتوں سے نوازا ہے، مگر انسان اکثر ان حقوق کا غلط استعمال کرتے ہوئے قدرت کی کارسازی میں مداخلت کو اپنی ترقی اور کامیابی سمجھ بیٹھتا ہے۔
ذرا دیکھیں تو سہی، ننھی بوندیں بھی جانتی ہیں کہ ان کی زندگی اور جینے کا ہنر کیا ہے۔
آج آسمان پر گھنگھور گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ کالے بادل اپنے اپنے سفر پر نکل پڑے ہیں؛ کوئی بلند پربتوں کی طرف بڑھ رہا ہے، کوئی دشت و صحرا کا رخ کیے ہے؛ کوئی شہر کا رُخ کر رہا ہے اور کوئی باغ و چمن میں اترنے پر خوش ہے۔ بالآخر یہ بادل بارش میں ڈھلتے ہیں اور بارش بوندوں کی شکل میں برستی ہے۔
مسافت کے دوران دو بوندیں آپس میں باتیں کرنے لگیں۔ ایک بوند دوسری کو ہمدردانہ نگاہ سے دیکھ رہی تھی جبکہ دوسری بوند خاموش اور مطمئن تھی۔ پہلی بوند بہت خوش تھی مگر بار بار حیران ہو رہی تھی کہ دوسری بوند اتنی خاموش اور پُرسکون کیوں ہے۔ وہ بار بار اپنی شفقت بھری نگاہ اس پر ڈالتی اور دوسری بوند بس مسکرا دیتی۔ یوں دونوں ایک دوسرے کو سفر کی دعائیں دینے لگیں۔ بالآخر پہلی بوند کی حیرانی اور تجسس بڑھا تو اس نے سوال کر ہی ڈالا:
“سنو!”
“ہمم؟”
“تم اتنی خاموش اور مطمئن کیسے ہو؟”
“کیوں؟ کیا خاموش اور مطمئن ہونا کوئی غلط بات ہے؟”
“ارے نہیں نہیں، میں تو بس یوں ہی پوچھ رہی تھی۔”
“اچھا، یہ بتاؤ تم اتنی خوش کیوں ہو؟ حالانکہ تمہیں خوش دیکھ کر مجھے بھی اچھا لگتا ہے۔”
پہلی بوند نے سوچا کہ جواب دوں یا نہ دوں، مگر خوشی سے سرشار ہونے کے باعث بے جھجک بول پڑی:
“ہاں، میں بہت خوش ہوں۔ آج ہم مسافت میں ہیں اور زمین کے جس خطے پر مجھے گرنا ہے وہ ایک ہرا بھرا جنگل ہے، جہاں میں کسی نرم شوخ پتی پر گر کر شبنم اور نایاب موتی کی طرح چمکوں گی۔ لیکن سچ کہوں تو مجھے تمہارے لیے دکھ ہو رہا ہے، کیونکہ تم تو تپتے صحرا میں گرنے والی ہو۔” یہ کہہ کر وہ مایوسی سے سر جھکا لیتی ہے۔
دوسری بوند نے نرمی سے کہا:
“ارے، تم اس قدر مایوس نہ ہو، یہی تو میرے اطمینان کی وجہ ہے۔”
“کیا؟ مطلب؟”
“دیکھو، ہم دشت میں گریں یا صحرا میں، یہ تو قسمت ہے۔ مگر یہ بتاؤ ہماری اصل فطرت کیا ہے؟”
“فطرت؟”
“ہاں، فطرت۔”
پہلی بوند نے خاموشی اختیار کی۔ دوسری بوند نے خود ہی کہا:
“ہماری فطرت ہے فنا ہونا، رائیگاں نہیں۔”
“کیا مطلب؟”
“مطلب یہ ہے کہ میں جس صحرا میں گرنے والی ہوں وہ شدت سے میرا منتظر ہے، وہ پیاسا ہے۔ میرے انتظار میں ہر دن وہ سورج کو اپنی گود میں بھر لیتا ہے، پھر بھی آسمان سے امید لگائے بیٹھا ہے۔ جیسے ہی میں اس کی گود میں گرتی ہوں وہ مجھے خود میں سمو لیتا ہے، ایک بوند بھی ضائع نہیں
ہونے دیتا۔ میرا وجود ہے ہی فنا ہونے کو۔ میں اس کی پیاس بجھاتے ہوئے فنا ہو جاؤں گی، نہ کہ رائیگاں۔
جبکہ تم کسی نرم پتی پر گر کر چمکو گی، مگر ہو سکتا ہے ہوا کا جھونکا تمہیں گرا دے یا دھوپ تمہیں پھر سے بھاپ میں بدل کر آسمان پر لوٹا دے۔ میرے نزدیک وجود کا دوسرا پہلو فنا ہونا ہے، اور یہی ہماری فطرت اور ہیئت ہے۔”
یہ سن کر پہلی بوند افسردہ رہ گئی اور دوسری بوند الوداع کہتے ہوئے صحرا میں فنا ہو گئی۔