نظم
نظم
نبا علی
آو تم سے ملتے ہیں ظرف آزماتے ہیں ۔۔۔۔
رنجشیں بھلاکر پھر آرزو سجاتے ہیں ۔۔۔۔
تم کبھی اداسی میں سر جو کاندھے پر رکھو۔۔۔
وقت پھر نہیں چلتا رستے رکتے جاتے ہیں۔۔۔
اجنبی سے بن کے جو ہم کو دیکھتے ہو تم ۔۔۔۔
کیا گزرتی ہے ہم پہ رنگ اڑتے جاتے ہیں۔۔۔
جیتنا مقدر تھا جیت تم کو سکتے ہیں۔۔۔
پر تمھاری ہی خاطرتم کو ہارے جاتے ہیں ۔۔۔۔
کتنے ہی خوابوں کو توڑ ڈالا لوگوں نے ۔۔۔
طرز پر زمانے کی ہم بھی چلتے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
اب کہاں وہ شوخی ہے زیست بھی بہت گم صم۔۔۔
روز جیتے رہتے ہیں روز مرتے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آج تک نہیں سمجھے رمز ہم محبت کی ۔۔۔۔
پھر بھی عاشقی کے سنگ چلتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں نبا کی جو تم نمی سمجھتے ہو۔۔۔۔۔
وہ فقط ہیں کچھ سپنے جو اجڑتے جاتے ہیں ۔۔۔۔
Load/Hide Comments