وینٹی لیٹر
وینٹی لیٹر
نباعلی
ہاسپٹل میں سب سے تکلیف دہ کمرہ مجھے آئی سی یو لگتاہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف وینٹی لیٹر کو دیکھ کر ہوتی ہے کبھی کبھی سوچتی ہوں یہ کیسا مقام ہوتا ہے جب ہمارے عزیز دور بیٹھے ہماری ایک ایک سانس گن رہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
وینٹی لیٹر،،،کسی مریض کو مصنوعی سانسیں دینا تاکہ وہ منتشر اور ختم ہوتی سانسوں میں نئی روح پھونک دیں یہ ایک انسانی کوشش ہوتی ہے باقی سب تو رب کی رضا ہوتی ہے اسی کو سوچتے سوچتے رخ ایک دم ہی رشتوں کی جانب مڑ گیا ۔۔۔۔ہماری زندگی میں بھی تو بعض رشتوں کو وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے ان سے نبھانے کی ان میں زندگی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن پھر بھی وہ دم توڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
رشتوں کی آبیاری میں سب سے اہم چیز ہوتی ہے مخلصی ۔۔۔۔۔اور یہ بھی سب سے بڑا المیہ ہوتا ہے کہ جو جتنا مخلص ہوتا ہے اسے اتنا ہی بےوقوف سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔جبکہ سب سے بڑے بے وقوف تو ہم خود ہوتے ہیں جو خالص اور بناوٹ میں فرق نہیں کرپاتے ۔۔۔۔۔۔
جو رشتے قدرت کی طرف سے عطا ہوتے ہیں ان میں زندگی قدرت کی طرف سے فطرتاً رکھ دی جاتی ہے لیکن جو دنیا میں آکر بنتے ہیں اس میں زندگی ہم خود پیدا کرتے ہیں ان میں روح ہم خود پھونکتے ہیں اپنی محبت،، توجہ،، ایثار سے ۔۔۔۔
دوستی ،،محبت،،،انسانیت ،،وفاداری یہ سب رشتے ہمیں الگ الگ بندھنوں سے ملتے ہیں لیکن ہم میں سے کامیاب وہی ہوتا ہے جو ان رشتوں کو حیات جاودانی دے سکے ۔۔۔۔۔اپ میں سے اکثر کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھے گا کہ وہ کیسے جبکہ ہر نفس کو فنا ہونا ہے تو تاحیات زندہ کیسے اور کیونکر رہا جاسکتا ہے ۔۔۔۔
تو اسکا آسان جواب یہ ہے کہ رشتوں کو اتنی محبت اور لگن سے نبھاؤ کہ پھر تمھیں چاہے دھتکار ملے ،،بےاعتنائی ملے ،،بے وفائی ملے ،،دھوکا ملے تم اپنے حصے کا کام کیے جاؤ کیونکہ اگر جیسے کو تیسا کی پالیسی اپنا کر ہی رشتوں کو نبھانا سمجھا جائے تو گھر صرف اکھاڑے بن جاتے ہیں جہاں کہیں بھی ایک دوسرے کے لیے احترام نہیں ہوتا ۔۔۔۔ہماری چپ میں ہماری ہار نہیں ہوجاتی بلکہ سامنے والے کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور وہ اپنی حرکتوں سے باز رہتا ہے ۔۔۔ہمارے صبر کرنے سے ظالم کی مدد نہیں ہوتی بلکہ ہمارا صبر کہیں نہ کہیں اسکے دل میں ہماری جگہ بنا رہا ہوتا ہے چلیں ایک سیکنڈ یہ مان لیتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔۔تب بھی کیا خدا کے ہاں درجات کا بلند ہونا ہمارے لیے سکون کا باعث نہیں ۔۔۔۔
زندگی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسل رہی ہے کب کون وینٹی لیٹر پہ چلا جائے کوئی نہیں جانتا کسے کیسے دنیا سے رخصت ہونا ہے یہ رب کے علاؤہ کسی کو نہیں معلوم لیکن ایک بات سب کو معلوم ہے اور وہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔
جب انسان کا وجود مشینوں کا محتاج ہوتا ہے تو باہر کھڑے اسکے اپنے اسکی باتیں دہرا رہے ہوتے ہیں ایک یادوں کی بارات ہوتی ہے دل میں ،، دعاؤں کے ساتھ آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں،،تو کوشش کیجے اسوقت جو جو شخص اپنا ہو یا پرایا یا کوئی بہت ہی خاص الخاص اپنا،،، جب بھی آپ کی دھڑکنوں کو مشینوں میں پڑھے تو بے ساختہ دل سے پکار نکلے ۔۔۔۔۔یاخدا اسے جانے مت دینا ،،،یہ قیمتی ہے اسے کھونے مت دینا،،،،یا اگر اسے جانا ہی ہے تو اسکی موت کو اسی طرح آسان کردینا جیسی آسانیاں سب کو اس سے ملا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
ماں کی گود سے گور تک کا سفر ہمارے اعمال کی کہانی ہے ہمارے کردار کی کتاب ہے جسکے قلم کار ہم خود ہیں کوشش کیجے اس پہ محبت تحریر کریں نفرت کو مٹادیں اپنی زیست کی ڈکشنری سے ۔۔۔۔۔۔