کامیابی
کامیابی
مرزا صہیب اکرام
وقت تیزی سے بدلتا ہے ۔ نئی نسل کے آنے سے نئی صبحیں جنم لیتی ہیں۔پرانے اور بوسیدہ خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔نئی نسل کبھی کبھار صرف ماضی کی بوسیدہ رسوم کو ہی نہیں بلکہ درخشاں روایات کو بھی کندھوں سے اتار پھینکتی ہے ۔
صدیوں کا سفر ایک طرف اور نئی صدی کی ایک دہائی ایک طرف تھا۔ نئی جنریشن نے ایک ہی جست میں وہ سب عبور کیا تھا جیسے انسان نے صدیوں کی ریاضت سے حاصل کیا تھا۔ٹیکنالوجی کی اس دنیا میں پرانے خیالات ، اور پرانے انسانوں کی کوئی جگہ نہیں تھی لیکن وہ ساتھ گھسٹ رہے تھے ۔نئی نسل نے ہر چیز کے معنی تبدیل کر دئیے تھے ۔وہ مختصر مدت کے عادی اور اسیر ہو گئے تھے وہ نصحیت اور واعظ بھی تیس سیکنڈ سے زیادہ سننا گوارا نہیں کرتے تھے ۔کتابوں کا ان کی زندگیوں سے رشتوں جتنا تعلق باقی تھا بس وہ کتابیں پڑھتے تھے جن سے مالی منفعت حاصل ہو سکتی ہے ۔
وہ روایات و اقدار سے باغی تھے ۔ان کو گاؤں کی پگڈنڈی ، شہر کی تنگ گلیاں ، نہر کا کنارہ ،جنگل کی سیر ، یہ سب دورِ قدیم کی ہولناک رسومات لگتی تھیں ۔وہ کتاب اور کتاب دوستی جیسے لفظوں سے آشنا نہیں تھے ۔وہ لائبریریوں کے مقاصد کو سمجھے سے قاصر تھے انہیں یقین تھا کہ قسمت کتابوں سے نہیں بدلتی ۔اسی دور میں اختر حسین بوڑھا ہو کر پہنچ گیا تھا۔وہ با کمال شاعر تھا اور جاندار نثر نگار ۔اس نے اپنی جوانی میں کئی تصانیف محبان ادب کو سونپی تھی۔
وہ کتابوں کے اندر کھو کر بڑا بنا تھا اس وجہ سے وہ سمجھتا تھا کہ علم ادب میراث نہیں ہے ۔ یہ کوئی کھیل نہیں ہے نہ تجارت ۔۔۔یہ تو اس کو ملتی ہے جس کے دل اور وجود میں سرایت کر جائے ۔اس کے بچے بھی نئی نسل کے شانہ بشانہ تھے ۔حالات غربت سے کچھ ہی اوپر تھے ۔
اختر نے اپنی کوشش کی تھی ۔ وہ اولاد کو ہر سکھ دینا چاہتا تھا مگر اولاد اس سے خوش نہیں تھی ۔اختر کے باپ نے اسے کچے مکان میں پالا تھا لیکن اختر نے اپنی اولاد کو ان کی زندگی میں دو گھر بنا کر دئیے تھے۔ اولاد یہ سمجھتی تھی کہ اگر ان کا باپ کتابوں کے صفحات کالے نہ کرتا تو ان کی زندگی قدرے بہتر ہو سکتی تھی ۔ وہ کچھ خاص پڑھ بھی نہیں سکے اور پھر وہ یوٹیوبر بن گئے ۔ وہاں وہ وہی کرتے جو رواج اور چلن تھا ۔ایک ہی رات میں کروڑوں کمانے کا جنون اور آگے بڑھنے کا شوق ۔
گھر میں لائبریری ختم ہوئی تو ایک اسٹوڈیو بنا ۔اختر بستر مرگ پر تھا جب اس کے سامنے کتابوں کو ردی کے بھاو بیچا گیا ۔اختر کو لگا اس کی اولاد نے اس کا ماضی حال اور مستقبل ردی کی نذر کر دیا ہے ۔اس کی 66 سال کی زندگی کا کل اثاثہ چند ہزار کا بکا ۔کمرہ خالی ہوا تو ایک شاندار اسٹوڈیو بن گیا۔
اختر کو معلوم تھا کہ وہ اپنا سب کچھ کھو چکا ہے وہ بھی ایک اسٹوڈیو کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔اس کا کمرہ خالی ہوتا تو شاید کتابیں بچ جاتیں لیکن اس کی کمزور سانس تھم نہیں رہی تھی ۔وہ نئی نسل سے ہار گیا تھا ۔ پھر وہ اکیلا تھوڑی ہارا تھا ۔ انسان کی تاریخ ہار گئی تھی ۔نئی نسل کے پاس کوئی ماضی نہیں تھا بلکہ ان کے پاس تو شاید کوئی مستقبل بھی نہیں تھا بس ایک دوڑ تھی اور سب اس کا حصہ تھے اور اس کی کوئی منزل نہیں تھی ۔انسانیت انسان ضمیر رواج ماضی رویات یہ سب جدید دنیا میں ختم ہو چکا تھا ۔
اختر حسین کو مرتے ہوئے یقین تھا کہ وہ کامیابی کو نہیں پا سکا ۔ پچاس کتب لکھ کر وہ صرف ردی کا چند کلو وزن بڑھا سکا تھا ۔