موٹی ویٹ

موٹی ویٹ
عبیرہ غوری خان

کہیں پڑھا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ وفادار موٹاپا ہوتا ہے ایک بار آ جائے تو جان نہیں چھوڑتا۔
خود پر بیتی تو یہ قول سو فیصد درست معلوم ہوا۔۔۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ میری پیدائش سے پہلے میری ایک بہن پیدا ہو کر فوت ہو گئی تھی جسے یاد کر کے والدہ بہت روتی تھیں تو ان کی آہ و بکا دیکھ کر شائد اللہ تعالیٰ نے اس بیچاری کا وجود بھی دوبارہ مجھ میں سمو کر مجھے دنیا میں بھیج دیا۔ اور پھر گول گپہ، لڈو، جاپانی گڑیا جیسے پیارے القابات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹن ٹن ،موٹی بھینس ،روڈ رولر جیسے طعنوں میں کب بدلے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ میں نے کبھی اپنے موٹاپے کو سنجیدگی سے نہیں لیا بھئی کھاتے پیتے گھر کی ہونے کی دلیل تھی یہ۔۔۔یونہی چکنا گھڑا بن کر طعنے سنتے ہوئے وقت گزرتا رہا اور پھر ایک حادثہ ہو گیا ۔ جب فن لینڈ میں اپنے پسندیدہ جھولے پر بیٹھنے لگی تو مالک نے یہ کہتے ہوئے منع کر دیا کہ آپ کا وزن زیادہ ہے آپ نہ بیٹھیں ۔
یہ الفاظ الفاظ نہیں گویا زہر میں بجھے ہوئے تیر تھے جو سیدھے میرے موٹے سے دل کے پار ہو گئے وہیں عہد کر لیاکہ اب میں بھی وزن کم کروں گی۔
سب سے پہلے ٹوٹکوں کی باری آئی جن میں سر فہرست تھا نیم گرم پانی میں لیموں اور شہد۔۔۔کچھ عرصہ استعمال کے بعد الحمدللہ دو کلو لیموں اور ایک کلو شہد صاف ہو گیا مگر وزن ٹس سے مس نہیں ہوا۔
پھر کسی نے کہا صرف ابلے ہوئے انڈوں سے ڈائٹ کرو اس سے تو ماشاءاللہ تین چار دن میں ہی اتنا فرق نظر آیا کہ بس منہ پر موٹے موٹے انڈے (دانے) نکل آئے۔
توبہ کرتے ہوئے سوچا کہ چلو کچھ کھاؤں گی ہی نہیں مطلب فاقہ کر کے دیکھتی ہوں ایک وقت کا ہی فاقہ کیا تھا کہ معدے نے ہاتھ جوڑ کر دہائیاں دینا شروع کر دیں کہ بہن میرا کیا قصور ہے ؟۔
ویسے بھی مجھ جیسی مخلوق ڈائٹ کی نیت سے صبح کا کھانا چھوڑ بھی دے تو شام کو الحمدللہ پانچ وقت کا کھانا اکٹھا کھا لیتی ہے۔
ڈائٹ گئی بھاڑ میں ۔
یہ بھی سنا کہ میٹھا چھوڑنے سے وزن کم ہوگا میں نے سوچا پہلے ہی اتنی کڑوی کسیلی زندگی اس مصنوعی میٹھے کے آسرے پر گزر رہی ہے یہ بھی چھوڑ دیا تو زندہ کیسے رہیں گے بھئی۔؟
رہی گرین ٹی تو اس کے متعلق مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ وہ صرف اسی صورت میں فائدہ دیتی ہے جب آپ اس کی پتیاں توڑنے خود پہاڑوں پر جائیں باقی سب سنی سنائی باتیں ہیں ۔
پھر ٹوٹکوں اور ڈائٹ کے ناکام تجربوں سے مایوس ہو کر پہلی فرصت میں جم پہنچ گئی ۔
وہاں سے بھی ڈائٹ پلان ملا جس کا گھر واپسی پر میں نے جہاز بنا کر اڑا دیا بھئی میں تین وقت کھانا دو وقت چائے کا مگ چائے کے ساتھ بسکٹ نمکو چپس اور آگے پیچھے بھوک لگنے پر باہر سے آرڈر اس کے علاؤہ کھاتی ہی کیا تھی جو ڈائٹ کرتی خیر دو تین دن خوب جوش دکھایا اتنا کہ ایک دن جم جاتے ہوئے پاؤں مڑ گیا اور ٹخنے کی ہڈی میں بال آ گیا۔
یوں میں جم پہنچنے کی بجائے ہاسپٹل پہنچ گئی ۔
جم جانے کی جو موٹیویشن تھی اس میں سے موٹی ہی موٹی (میں) بچی بس۔
ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا جم سے پھر بھی میں “گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں” گنگناتی ہوئی دو تین ماہ بعد دوبارہ جم پہنچ گئی اس بار ذرا سنجیدہ تھی اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ جم کی خواتین ورک آؤٹ کے لئے جم انسٹرکٹر کو چھوڑ کر مجھے فالو کرتی تھیں بارہ چودہ کلو وزن کم کرنے کی خوشیاں ابھی ڈھنگ سے منائی بھی نہیں تھیں کہ ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹ نے پھر گھر بٹھا دیا ۔
اور پھر کوشش کے باوجود دوبارہ جم نہیں جا سکی اگر جم میں رکھی مشینوں کی زبان ہوتی تو وہ شائد مجھ سے ایک ہی بات کہتیں کہ “رہنے دو بہن تم سے نہ ہو پائے گا .”
اب تو بس آئینہ دیکھ کر عبرت ہوتی ہے جہاں موٹاپا ہمیں منہ چڑاتے ہوئے کہہ رہا ہوتا ہے
یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے
چھوڑیں گے دم مگر
تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔