تہذیب کا پہلا پتهر
تہذیب کا پہلا پتهر
بادشاہ نے شہزادی کو آج کا پیغام بهیجا ہے
رات بہار کی ہے
خنک شب کی ساعتوں میں تم نے میرا انتظار کیا تها
اب تیری گہری نیند کا
یقین ہوچلا ہے
میں کہیں بہار کی آمد کے جشن میں کهوگیا تها
دیر سویر تو آنے میں ہو ہی جاتی ہے
اپنے گناہوں کے بوجهہ تلے دبا ہوا تم پر باوجود اس کے فخر کرنے کی سند ساتهہ لئے پهرتا ہوں
تمہاری بہادری کے پائوں چومنے لائق ہیں
میرے سر کے تاج کا بهرم صدا تمہی نے قائم رکها ہے
تم سے بہر صورت معافی کا طلب گار ہوں
انصاف کی پہلی اینٹ ابهی تک کچی پڑی ہے
جیسے ہی صبح کی پہلی کرن پهوٹے گی
تم.دیکهنا..
مور محل کی چهت پر کووں کا بسیرا ہے
کووے سارے سورج کو پهٹکارتے
انہیں کیا پتہ کہ سارا جگ میہار کے گهر کی لوٹی ہے
سورج اس کا سودائی ہے
دهرتی کے بیج پر پہلا چهڑکائو سورج نے ہی کیا تها
کووے سارے احسان فراموش نکلے ہیں
مگر تم دیکهنا..
یے جو صرف دانہ چگنا جانتے ہیں
سورج کو برہمی سے تکتے تهے
میں بس اتنا ہی سن سکا تها
میری رانی
دن کے اجالے میں پکڑے جانے کا خوف بهی سانس لیتا ہے
پر تم نہ رونا
رات کے کسی پہر بهی
تہذیب کو اپنے ساتهہ باندهہ کر
میں تمہارے گهر کی دہلیز پر سر اٹهاکر دستک دینے آئوں گا
رات کے کسی پہر میں تہذیب کو اپنے پیچهے باندهہ کر تمہارے پاس لوٹ آئو
دن میں کیسے چهپ سکتے ہیں