منظر کا قیدی
منظر کا قیدی
مرزا صہیب اکرام
وہ چیخ مار کر اٹھا
کیا ہؤا کیا ہوا
دو تین آوازیں گونجیں
کچھ نہیں میں خواب میں ڈر گیا تھا
بابا کیا بات ہے روز اسی طرح جاگتے ہو کچھ بتاتے بھی نہیں ۔
ہم تمہیں بیس برس سے دیکھ رہے ہیں
کیسا خواب ہے جو تمہیں سونے نہیں دیتا
اکمل نے پوچھا
عنایت کمال ایک پچاسی برس کا بوڑھا تھا
وہ ان نوجوانوں کا کچھ نہیں لگتا تھا لیکن وہ پچھلے کئی سالوں سے سنبھال رہے تھے ۔
بابا آج تو بتا دو
کامران نے بھی کہا
یہ چاروں نوجوان آپس میں بھائی تھے ان کے والدین کا سایہ بہت جلد آٹھ گیا تھا بچپن سے حساس طبیعت کی وجہ سے وہ بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے ۔ اسی احترام کی بدولت عنایت کمال ان کے گھر دو دہائیوں سے تھا وہ اسے اپنا چکے تھے ۔
بابا اب بولو بھئی وگرنہ آج کوئی نہیں سوئے گا ۔
چاروں کی ضد عرصہ دراز سے جاری تھی لیکن آج یہ بڑھتی چلی گئی
رات کے تین بجے بابا نے لب کھولے
یہ کہانی بہت پرانی ہے
میں اس وقت 16 سال کا تھا
میرے ماں باپ کب گزرے میں نہیں جانتا تھا ایک خدا ترس شخص نے مجھے سہارا دیا اور اپنے گھر رکھ لیا تھا بظاہر میں وہاں ملازم تھا۔
ان دونوں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔اس کی بیوی مجھے بہت پیار سے رکھتی تھی
لیکن وہ شخص میرے ساتھ اکثر سختی سے پیش آتا تھا مجھے اس وجہ سے دن بہ دن اس سے نفرت ہو رہی تھی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے بڑی کوشش سے میری تعلیم جاری رکھی تھی لیکن
میں کھیل کود اور آوارہ گردی میں زیادہ مگن رہتا تھا ۔
مجھے اس عورت میں ممتا نظر آتی تھی ۔
لیکن اس کے شوہر کا غصہ مجھے طیش دلاتا تھا ۔
آخر کار میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہاں سے بھاگ جانا چاہیے لیکن بنا پیسوں کے بھاگ کر کہاں جاتا دوسرا مجھے اس انسان سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا تھا ۔
میں نے وہاں چوری کا منصوبہ بنایا
مجھے گھر کے چپے چپے سے واقفیت تھی۔
میں نے تجوری تک دیکھ بھال کر راستہ بنایا ۔
اس میں جو کچھ تھا بنا دیکھے اسے سمیٹا ایک بکسے میں ڈالا ۔میری قسمت کہ اسی وقت وہ شخص وہاں آگیا ۔
اس نے غصے سے مجھے ڈانٹا ۔
اس پر میں جھپٹ پڑا اور اس کے پیٹ میں چاقو اتار دیا ۔
وہ تڑپ رہا تھا اس نے بیٹا بیٹا کر کے مجھے پکارا لیکن میرے پاس وقت نہیں تھا ۔
وہ خون میں لت پت مجھے بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔
میں بھاگ رہا تھا جب میری نظر پڑی کہ سامنے وہ عورت کھڑی تھی جو میرے لیے ماں تھی ۔وہ حیرت خوف اور پریشانی سے منظر کو دیکھ رہی تھی ۔
میں نے اسے دھکا دیا وہ پلٹ کر گری اور مین بھاگ نکلا ۔میں نے محفوظ تھکانے پر پہنچ کر اس بکسے کو کھولا
اس میں پیسہ اور زیور کی بہتات تھی لیکن ساتھ کچھ کاغذات تھے۔
میں انہیں دیکھنے لگا
وہ ان دونوں کی وصیت تھی ۔سب کچھ میرے نام تھا ۔
میں ہل کے رہ گیا ۔بار بار خود کو یقین دلاریا کہ یہ جھوٹ ہے یہ فریب ہے
پھر وہاں سے اٹھا اور گھر کی طرف بھاگا
وہاں سناٹا تھا
اندر داخل ہوا
سب کچھ جوں کا توں تھا
مجھے حیرانی تھی کہ اتنی خاموشی کیوں ۔
میں بکسے سمیت اندر پہنچا ۔
میری ماں اوندھے منہ پڑی تھی
میں نے اسے سیدھا کیا اس کے سر سے خون نکل نکل کر جم گیا تھا اس کا وجود ٹھنڈا ہو کر میرے ہاتھوں میں تھا
میرے ہاتھوں سے سب سرک گیا
میں نے کاغذ اٹھایا اور بھاگ کھڑا ہوا
میرے پاس بس یہی ایک کاغذ ہے ۔ جس میں وہ مجھے اپنا سب کچھ سونپ گئے تھے
میں بھاگتا رہا بھاگتا رہا ۔
مجھے زندگی سے بھاگنا تھا میں نے موت کو گلے لگانا چاہا لیکن میرے لیے موت سے۔ ٹی تکلیف زندگی تھی ۔
میں نے اسے گناہوں کی سزا سمجھا اور میں اس کرب کے ساتھ ژندہ ہوں۔
اس رات کے بعد روز رات کو مجھے ایک ہی خواب نظر آتا ہے کہ میں ماں کو سیدھا کرتا ہوں اور وہ خون آلود آنکھوں سے مجھے نفرت سے دیکھتی ہے اور اس کا وجود ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔
میری چیخ نکل جاتی ہے لیکن میری جان نہیں نکلتی ۔
میں اسی منظر کا قیدی ہوں اور میں احسان فراموشی کی جیتی مثال ہوں ۔
مجھے موت بھی نہیں آتی اور میں موت سے ڈرتا ہوں کیونکہ میرا پھر سامنا ہوگا اور میں اس وقت سے بھی خوفزدہ ہوں ۔
میں اس رات کے بھنور کا قیدی ہوں ۔
بوڑھا بولتا جا رہا تھا اور جوان کچھ کہے بنا خاموشی سے آسمان کو تک رہے تھے ۔
کچھ سفر لا محدود ہوتے ہیں اور کچھ تکالیف لا زوال ۔