غزل
نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں
اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں
چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کو
اور بچا لایا ہوں چہرے پہ ادھوری آنکھیں
ایک جادو ہے سبھی کا کئی منتر لیکن
سبز گوں ہیں کہیں نیلی کہیں بھوری آنکھیں
اس کو پہلو میں بٹھا کر اسے تکنے کا نشہ
کس قدر ہو گئیں چہرے پہ ضروری آنکھیں
احمد سلمان
Load/Hide Comments