غزل
یہ ہاتھ میں ترے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا
کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
نجومیوں نے بتایا کہ کاتب تقدیر
مرا نصیب ستاروں میں رکھ کے بھول گیا
ہزار چہرے جو بدلے تو کھو گیا چہرہ
میں اپنا جسم لباسوں میں رکھ کے بھول گیا
نہ جانے کون سے پیالے میں آب کوثر تھا
یہیں کہیں میں شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
ہے یاد آج بھی دفتر کا ایک اک کاغذ
پر اپنے خواب درازوں میں رکھ کے بھول گیا
احمد سلمان
Load/Hide Comments