ابن صفی اور قانون پسندی

ابن صفی اور قانون پسندی
مرزا صہیب اکرام

“اگر تمہارا باپ بھی کوئی جرم کرے تو یہ قطعی بھول جاؤ کہ تم اُس کے نطفے سے ہو….!”
ایسے غیر معمولی اور بےحد پراثر جملہ لکھنے والے جاسوسی ادب کے بے تاج شہنشاہ، اردو ادب میں جاسوسی ادب کو شروع کرنے والے ، اسے پروان چڑھانے والے ، اسے اوج کمال تک لےجانے والے اسرار احمد المعروف ابن صفی کی پیدائش 26 جولائی 1928 کو الہ آباد ضلع، یو پی، انڈیا کے گاؤں نارہ میں صفی اللہ اور نذیرہ بی بی کے گھر ہوئی۔
ان کے والد کو مطالعہ کا شوق تھا لہذا گھر میں ناولوں اور قدیم داستانوں کا ذخیرہ تھا انہوں نے محض سات آٹھ سال کی عمر میں طلسم ہوش ربا کی ساتوں جلدیں پڑھ لیں۔
سیکنڈری تعلیم الہ آباد میں حاصل کی اور ڈی اے وی اسکول سے میٹرک کیا۔۔
ساتویں جماعت میں تھے تب پہلی کہانی لکھی ۔میٹرک میں آتے آتے شاعری کی طرف رجحان ہوگیا ۔ہائی اسکول کی تعلیم الہ آباد کے ایونگ کرسچین کالج آئے۔یہاں ان کی شاعری کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔اور ان کے قلم کو جلا ملی۔
وہ اپنا کلام اکثر ہوسٹل کے مشاعروں میں پڑھا کرتے تھے لیکن کالج کے پہلے سال تک پبلک میں پڑھنے سے ہچکچاتے رہے۔ لیکن دوسرے سال وہ لٹریری سوسائٹی کے پریزیڈنٹ منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنی شاعرانہ تخلیقات مشاعروں میں پڑھنی شروع کیں۔اس دور تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ابھرتا ہوا نوجوان شاعر کسی نئی راہ کو اپنا سکتا ہے۔
لیکن یہ تقدیر کا کھیل تھا۔ابن صفی کے اندر فنون لطیفہ کے تمام رنگ بھرپور انداز میں موجود تھے۔وہ صرف شاعر ہوتے تب بھی وہ تاریخ میں ضرور یاد رہتے۔لیکن انہیں تاریخ لکھنی تھی وہ تاریخ کا دھارا بدلنے آئے تھے۔ان کے نصیب میں تھا کہ اردو ادب میں ایک صنف ان کے نام سے جانی جائے وہ اس کے بانی کہلائیں ۔ وہ اس صنف کے اول و آخر سب بن جائیں۔
وہ شاعر ہوتے یا نثر نگار ہوتے ، انشائیہ لکھتے تب بھی ان کا نام بھلایا نہ جاتا لیکن وہ اس سے بہت بڑھ کر سوچ رہے تھے یا تقدیر ان کو کھینچ تان کر کسی سمت لےجا رہی تھی۔
اسرار احمد کی قربانی سے ایک نئی شخصیت نے جنم لیا۔
ابن صفی نے اسرار احمد کی جگہ لے کر دنیا کو جاسوسی ادب کے ذائقے سے آشنا کرنے کا بیڑا اٹھایا۔
شاعری کی بات کریں تو وہ ابتدائی دور میں جگر مراد آبادی سے متاثر تھے ۔ اسی دور میں اشتراکیت سے متاثر ہوکر بھی کچھ شاعری کی۔وہ بطور شاعر ناصرف آگے بڑھ رہے تھے بلکہ ان کے اندر کو فنکار بھی بتدریج آگے بڑھ رہا تھا۔
انہوں نے الہ آباد یونیورسٹی جوائن کی لیکن ملکی حالات کے باعث اپنی بیچلرز کی ڈگری آگرہ سے لی ۔اسی دور میں گاندھی کی موت پر اپنی مشہور نظم تخلیق کی۔ 1948 میں شاعری کے ڈپارٹمنٹ کے ایڈیٹر کے طور پر نکہت پبلیکیشن میں جاب شروع کی ۔ساتھ ہی طغرل فرغان کے نام سے طنزیہ و مزاحیہ مضامین لکھنے شروع کردیے۔
اسرار احمد کے جوہر آہستہ آہستہ کھلنے لگے تھے ان کے اندر سے دُنیائے ادب کا عظیم فنکار آہستہ آہستہ باہر جھانکنے لگا تھا وہ دنیا کو دیکھ کر جھنیپ کر مسکرا کر آنکھ مار رہا تھا۔
جب اردو ادب ایک نئے شاعر اور نئے آہنگ سے ہم کنار ہونے۔کو تھی عین انہی دنوں ابن صفی نے بغاوت کر دی۔
وہ ایک مباحثہ تھا جس میں بحث اتنی بڑھی کہ اسرار احمد نے ابن صفی کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ۔
ایک شاعر نے ایک ناآموز لکھاری جس کا ابھی کوئی نام تک نہیں تھا جس کے سامنے نہ منرل تھی نہ راہ گزر ۔ اس کے سامنے اپنی قربانی دے دی۔
بحث بس اتنی تھی کہ کیا اردو ادب میں جنسیت فروشی کے علاؤہ بھی کچھ لکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔کیا جنسیت کے علاؤہ بھی کچھ بک سکتا ہے۔جب بازار میں عالمی ادب کے نام پر واہیات اور جنسیت سے بھرپور ناول چھپ چھپا کے چھاپے اور پڑھے جا رہے تھے کیا اس دور میں صاف ستھرا ادب تخلیق ہو سکتا ہے۔
یہ ایسے ہی تھا کہ کسی شہر میں سونامی آیا ہوا اور اس شہر کے کسی چوراہے میں کوئی منچلا یہ کہے کہ میں اس طوفان میں ناصرف کشتی بنا سکتا ہوں بلکہ اسے منجدھار سے نکال بھی سکتا ہوں۔
یہ دیوانے کا خواب تھا یہ ایک ایسا تصور تھا جس کا بس مذاق بن سکتا تھا۔ ایک شاعر یہ دعویٰ کرئے کہ وہ ایسا ادب تخلیق کر سکتا ہے۔جو ادب کے قاری کو واپس لا سکتا ہے۔
ابن صفی نے یہ دعویٰ کر دیا اور پھر عباس حسینی کے ساتھ مل کر ماہانہ جاسوسی ناولوں کی اشاعت کا انتظام کیا۔اس سیریز کا نام جاسوسی دنیا (جاسوسی کی دنیا) تھا اور یہ پہلا موقع تھا جب اسرار احمد نے ابن صفی کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا۔پہلا ناول دلیر مجرم مارچ 1952 میں شائع ہوا تھا۔ ناول کا پلاٹ وکٹر گن کے ناول آئرن سائیڈز لون ہینڈ سے اخذ کیا گیا تھا لیکن انسپکٹر فریدی اور سارجنٹ حمید ابن صفی کے ذہن کی اپج تھے۔

اس وقت (1949-1952)، ابن صفی پیشے کے لحاظ سے اسلامیہ اسکول الہ آباد میں سیکنڈری اسکول کے استاد تھے، اور بعد میں یادگار حسینی اسکول میں۔ انہوں اسکول کی نوکریوں کو برقرار رکھا، اور اپنی ڈگری مکمل کرنے کے لیے پارٹ ٹائم تعلیم حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ابن صفی اگست 1952 میں اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ پاکستان ہجرت کرکے کراچی پہنچے۔۔لیکن ان کے ناول سرحد کے دونوں طرف چھپتے رہے ۔

1955 میں ابن صفی نے ایک نیا کردار عمران تخلیق کیا اور عمران سیریز کی اشاعت شروع کی۔ اس سیریز کا پہلا ناول خوفناک عمارت اگست 1955 میں اے اینڈ ایچ پبلی کیشنز کراچی پاکستان نے شائع کیا تھا جبکہ ہندوستانی ایڈیشن ماہنامہ نکہت، الہ آباد نے نومبر 1955 میں شائع کیا تھا۔
اکتوبر 1957 میں ابن صفی نے اسرار پبلی کیشنز، کی بنیاد رکھی اور اس پبلیکیشن کا پہلا جاسوسی دنیا کا ناول ٹھنڈی آگ تھا جو جاسوسی دنیا، الہ آباد نے ہندوستان میں بھی شائع ہوا تھا۔

ابن صفی 1960 اور 1963 کے دوران شیزوفرینیا کا شکار ہوئے، ان تین سالوں میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔ اپنے خاندان، دوستوں اور مداحوں کی دعاؤں سے ابن صفی بالآخر 1963 میں بیماری سے صحت یاب ہو گئے۔

مصنف نے 25 نومبر 1963 کو بیسٹ سیلر عمران سیریز کے ناول ڈیڑھ متوالے کے ساتھ زبردست واپسی کی، جس کا بھارت میں سابق وزیر داخلہ لال بہادر شاستری نے افتتاح کیا۔ اس ناول کی ڈیمانڈ اتنی زیادہ تھی کہ ایک ہفتے کے اندر ہندوستان میں دوسرا ایڈیشن شائع ہو گیا۔ پاکستان میں اس ایڈیشن کا افتتاح اس وقت کے صوبائی وزیر قانون علی ظہیر نے کیا تھا۔

ستر کی دہائی کے وسط کے دوران، پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس نے ان کی خدمات کو غیر رسمی طور پر نئے بھرتی کرنے والوں کو پتہ لگانے کے طریقوں پر لیکچر دینے کے لیے استعمال کیا۔
1977 میں پی ٹی وی نے عمران سیریز کے ایک ناول پر مبنی سیریل ڈاکٹر دعاگو تیار کیا۔ اداکار محمد قوی خان نے عمران کا کردار ادا کیا لیکن کچھ وجوہات کی وجہ سے یہ ڈرامہ کبھی نشر نہیں ہوا۔
جنوری 1977 میں مشتاق احمد قریشی نے ابن صفی میگزین کی اشاعت شروع کی۔جس کا نام بعد میں “نئے افق” رکھ دیا گیا۔ ان میں ابن صفی کی مکمل ناول شامل ہوا کرتے تھے
1979 میں ان کو کینسر کا مرض لاحق ہوا اگرچہ دسمبر 1979 اور جولائی 1980 کے درمیان ان کی صحت تیزی سے بگڑ گئی لیکن وہ لکھتے رہے ۔ بروز ہفتہ 26 جولائی 1980 کو فجر کے وقت ابن صفی کا انتقال ہوا ۔

ابن صفی نے بہت کم عمری میں دنیا کو خیر آباد کہ دیا تھا لیکن جو کام وہ کرگئے وہ ہمیشہ ان کے نام کو ادب میں قائم رکھے گا ۔انھوں نے ناول نگاری شروع کی تو ان مقصد بہت ہی زیادہ وسیع تھا۔۔ وہ سب سے پہلے اردو ناول نگاری میں فحش نگاری کا خاتمہ چاہتے تھے اس کے ساتھ ساتھ وہ اردو ناول نگاری میں جاسوسی ادب کی داغ بیل ڈال رہے تھے وہ ایک ایسے ادب کو پروان چڑھانا چاہتے تھے جو اس سے پہلے متروک سمجھا جاتا تھا عین ممکن تھا کہ اگر وہی حالات رہتے تو ابن صفی یا ان جیسا کوئی اور انسان یہ ہمت نہ کرتا تو جاسوسی ادب اردو ادب کا حصہ کبھی نہ بن پاتا کیونکہ وہ ایک بازاری اور سطحی ادب کے طور پر ختم ہو جاتا لوگ اس کو فحش صنف ،گھٹیا ناول اور جنسیت سے بھرپور ناول قرار دے کر اسے لکھنا اور پڑھنا یا ان کو دیکھنا تک پسند نہ کرتے ایک خاص دور تک تو وہ شاید چلتے جیسے اس دور میں جنسیت والے ناول چلا کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ ختم ہو جاتے اور ان کے بعد انے والے نارمل یا روٹین کے اردو ناول لکھتے لیکن وہ جاسوسی ناول تحریر نہ کرتے اس طرح یہ صنف اردو ادب میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہے لیکن ابن صفی کے انے کے بعد جاسوسی ناول نگاری پوری شان و شوکت کے ساتھ مکمل رنگ و روپ کے ساتھ مکمل اجزاء کے ساتھ اردو ادب میں ائی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سن 1950 کی دہائی سے لے کر سن 1980 تک ناول نگاری میں جاسوسی ناول نگاری باقی ناول نگاری کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی تو یہ بالکل درست ہوگا ۔ہاں ان کے بعد جاسوسی لکھنے والوں نے نقالوں نے نئے راستے نہ نکال کر جاسوسی ناول نگاری کے ساتھ ظلم کیا لیکن بہرحال ابن صفی کا جو کام ہے وہ اتنا وسیع ہے اور اتنا زیادہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے نقال ہزاروں میں ہیں اور انہوں نے اس صنف کو کافی نقصان پہنچایا لیکن ابن صفی کا کام جاسوسی ناول نگاری کو بطور صنف زندہ رکھنے کے لیے ہمیشہ کافی رہے گا۔
ابن صفی نے 30 سالوں میں جو لکھا اس سے سب سے پہلے ایک نئی صنف کو جنم دیا اردو ادب میں جاسوسی ناول نگاری کو اس کا مقام دیا اردو میں انہوں نے جاسوسی ادب سے گندگی کا خاتمہ کیا اور ناول نگاری میں جاسوسی ادب کو اس طرح شامل کیا کہ اج اردو کا ہر ایک ناول خواہ وہ رومانس پر مشتمل کیوں نہ ہو اس میں بھی سسپنس اور جاسوسی کا ایک خاص قسم کا عنصر پایا جاتا ہے۔
وہ تمام افراد جو جاسوسی ناول نگاری کے مخالف رہے اج ان کی اپنے ناولوں میں بھی کہیں نہ کہیں وہ انداز عود کر آیا ہے جس کے وہ ہمیشہ سے مخالف تھے۔۔ یہ ابن صفی کی بہت بڑی جیت ہے ان کے قلم کی جیت ہے ان کی طرز تحریر کی ان کے انداز کی ان کے سسپنس کی ان کے کرداروں کی یہ طاقت ہے کہ لوگ اج رومینٹک ناولوں میں بھی جو ہیرو بناتے ہیں ان میں آپ کو عمران اور فریدی کی جھلک نظر آتی ہے۔۔ ان کا نارمل سا ہیرو وہ بھی اسی طرح دکھایا جاتا ہے جیسے عمران یافریدی ذہین ہوا کرتے تھے ۔
ابن صفی شاعر سے مصنف بنے اور مصنف سے اچانک وہ اردو ادب کے میں جاسوسی ادب کے سب سے بڑے مصنف بن گئے ۔ یہ سب ہوا لیکن یہ کیسے ہوا اور کیونکر ہوا ۔ کس چیز نے ان کو حساس شاعر سے جاسوسی ناول نگار بنا دیا ۔
ان کا سفر جو محبت کے نغمے گاتے گزر سکتا تھا وہ کس طرح اردو ادب میں جاسوسی ادب کی بنیاد اور آبیاری میں گذرا .
کیا کسی کےگمان میں بھی ہو سکتا ہے کہ محبوب کے قصیدے لکھنے والا ، خواب دیکھنے والا ناول لکھنے لگے گا ۔
لیکن یہ ہوا ۔ افق نے دیکھا ۔ اسرار احمد نے اپنی چال بدل لی ۔ انداز بدل لیا ۔ نام بدل کیا ۔ پوری کہانی ہی بدل دی ۔
چالیس کی دہائی دنیا اور ہندوستان کے افق پر سانحات کی دہائی تھی۔
جنگ عظیم کے شعلے ، لاکھوں انسانوں کا پل جھپکتے لقمہ اجل بن جانا ۔ آگ اور خون کے سمندر ، ہولناک مناظر، اندھی چیخیں، تکالیف کے آسمان ، نفرتوں کے پربت ، ریاستوں کا مٹتا ہوا تصور ، انسانی تنزلی کا سب سے عظیم وقت، قانون جب ایک مذاق سے بڑھ کے کچھ نہیں رہا ۔ایسے میں ان کے اندر کا مصنف کہہ اٹھتا تھا ۔۔

“آخر یہ سب کب تک ہوتا رہے گا۔۔؟
جب تک اس نظام کی بنیادی خامیاں‌ دور نا کردی جائینگی۔ان کی طرف کوئی بھی دھیان نہیں دیتا۔بس جمہوریت کے ڈھول پیٹے جاتے ہیں‌۔ شائد کوئی بھی نہیں‌جانتا کے جمہوریت کس چڑیا کا نام ہے یا پھر اسکی طرف سے مصلحتاً ہی آنکھیں‌ بند کرلی گئی ہیں‌۔۔۔بنیادی چیز آدمی کو اپنے مقام کا عرفان ہے۔جب تک آدمی اپنا مقام نہیں‌ پہچانیگا۔کسی نظام کو ڈھنگ سے نہیں‌ چلا سکے گا۔۔”( دہشت گر)

آزادی کی تحریکیں، جنگ و جدل کے بادل ، بغاوت اور سرکشی ، یہ وہ دور تھا جسے اس دور کا ہر انسان محسوس کر رہا تھا ۔
قانون کہیں نہیں تھا لوگ زندگی میں آگے بڑھ رہے تھے لیکن سانحات انسان کو کبھی کبھی حیوان بنا دیتے ہیں۔ کبھی وہ سادھو بن جاتا ہے ۔وہ جوگی بن جاتا ہے یا شیطان ۔ایک باریک اور موہوم سی لائن ہوتی ہے ۔۔
اس سمے حالات نے دنیا کو نفرت کی آماجگاہ بنا دیا تھا ہندوستان میں بھی ہر جانب افراتفری اور لاقانونیت عام ہو رہی تھی ۔ تب ایک حساس شاعر کا دل کتنا زخمی ہوگا یہ ایک حساس دل ہی جان سکتا ہے ۔بقول ابن صفی
” میں سوچتا رہا۔۔۔۔ سوچتا رہا۔ آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی میں جب تک قانوں کے احترام کا سلیقہ نہیں پیدا ہوگا یہی سب کچھ ہوتا رہے گا۔ یہ میرا مشن ہے کہ آدمی قانوں کا احترام کرنا سیکھے۔۔۔ اور جاسوسی ناول کی راہ میں نے اسی لیے منتخب کی تھی۔تھکے ہارے ذہنوں کو تفریح بھی مہیّا کرتا ہوں اور انہیں قانون کا احترام کرنا بھی سکھاتا ہوں۔ فریدی میرا آئیڈیل ہے جو خود بھی قانون کا احترام کرتا ہے اور دوسروں سے بھی قانون کا احترام کرانے کے لیے اپنی زندگی تک داؤ پر لگا دیتا ہے۔”

اسی سوچ نے ابن صفی کو اپنے ناولوں معاشرتی اور سوشل مسائل پر ، قانون کے احترام اور اس کی بالادستی پر لکھنے کے مجبور کیا ۔ان کا مقصد یہی تھا کہ سوسائٹی میں جو ہو رہا ہے اس کے جو اچھے اور برے پہلو ہیں ان کو بیان کیا جا سکے اور اپنی کہانیوں میں اچھائی کے جو پہلو ہیں ان کو برائی کے پہلو پر غالب آتا ہوا دکھایا جا سکے ۔
جرم کی شکست اور سچائی کی فتح کھائیں۔
وہ معاشرے میں ہونے والے کسی بھی ظلم کو جرم کے جواز کے طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں۔

“اگر تم قانون کو ناقص سمجھتے ہو تو
اجتماعی کوششوں سے اسے بدلنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔اگر اس کی ہمت نہیں ہے تو تمھیں اسی قانون کا پابند رہنا پڑے گا۔ اگر تم اجتماعی حیثیت سے اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس سے متفق ہو۔ اب اگر متفق ہونے کے باوجود بھی تم اس کے حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کرو تو تمھاری سزا موت ہی ہونی چاہیے”
(لاش کا بلاوا)

قانون اور اچھائی کی جیت دکھانے کا یہ انداز صرف جاسوسی ناول نگاری میں نہیں بلکہ اس کے بعد یہ باقی تمام ناولوں میں بھی آہستہ اہستہ عام ہونے لگا بلکہ یہ ہمارے ڈرامہ میں ہمارے فلموں میں بھی ہونے لگا۔ ابن صفی نے ہیرو اور ولن کے کرداروں کو بالکل الگ الگ پیرائے میں بیان کیا انہوں نے کہیں بھی مجرموں کو اور منفی کرداروں کو اس طرح نہیں دکھایا کہ لوگ ان کو پسند کریں یا ان جیسا بننا چاہیں۔

ہاں ان میں کسی خاص کردار کو لوگوں نے زیادہ پڑھا اور غور ضرور کیا لیکن حتمی طور پر ہر ایک قاری عمران یا افریدی ہی بننا چاہتا ہے ۔وہ مجرموں کے ساتھ ہوتے ہوئے انصاف کو پسند کرتا ہے قاری مجرموں سے نفرت نہیں بھی کرتا تو ان کے دکھ کو محسوس ضرور کرتا ہے اور یہ سوچتا ہے کہ معاشرے میں یہ حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں کہ ایڈلاوا پیدا ہو جائیں ایسے حالات کیوں پیدا ہوتے ہیں کہ بڑے بڑے مجرم پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں جرم آج صرف گلی محلے میں نہیں رہا بلکہ عالمی طاقتیں دوسرے ملکوں میں کس طرح اپنے ڈیرے جما کر مختلف تنظیموں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں کو مجرم بناتے ہیں۔لیکن ان سب کے ساتھ وہ قاری کو یہ بھی یاد دلانا نہیں بھولتے کہ

“دنیا کا کوئی مجرم بھی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ قدرت خود ہی اسے اس کے مناسب انجام کی طرف دھکیلتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک رات بھی اپنی چھت کے نیچے آرام کی نیند نہ سو سکو، زمین پر فتنوں کے علاوہ کچھ نہ اُگے۔”
[ہیروں کا فریب]

ابن صفی نےصرف عام جرائم پر نہیں لکھا انھوں سماجی ڈھانچہ پر ، حکومتی نظام پر بھی ببانگ دہل سوال اٹھائے۔ سیاست اور حکمت عملی کی نام پر بہائے جانے خون کی تکلیف بھی ان کی تحریروں میں نظر آتی ہے۔

“میں جانتا ہوں کہ حکومتوں سے سرزد ہونے والے جرائم، جرائم نہیں حکمت عملی کہلاتے ہیں۔ جرم تو صرف وہ ہے جو انفرادی حیثیت سے کیا جائے۔ ” ( جونک کی واپسی )

ابن صفی کی دور رس نگاہیں عالمی جنگ کے بعد دنیا میں طاقت کے بدلتے توازن اور سائنس کے غلط استعمال جیسے معاملات کو بھی دیکھ رہی تھی ۔اپنی کئی تحریروں میں انھوں نے طاقتور قوموں کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ رکھے سلوک کو کسی نہ کسی انداز میں نمایاں کیا ۔۔

“ایٹم بم اور ہائیڈروجن بموں‌کے تجربات ان کی سمجھ سے باہر تھے کہ ایک آدمی جب پاگل ہوجاتا ہے تو اسے پاگل خانے میں‌ کیوں‌ بند کردیتے ہیں‌’ اور جب کوئی قوم پاگل ہوجاتی ہے تو ” طاقتور ” کیوں‌ کہلانے لگتی ہے ؟ ”

ابن صفی نے شاعری کی جگہ ناول نگاری شروع کر دی ۔ عمران اور فریدی اسی جنون کا حصہ ہیں کہ ایک شاعر جب مصنف بنتا ہے اور وہ نیکی کی برائی پر فتح کا خواہشمند ہو جاتا ہے ۔ وہ اپنے کردار تراشتا ہے ہیروز کو جنم دیتا ہے ۔ وہ فریدی اور عمران کو تخلیق کرتا ہے ۔
وہ جاسوسی دنیا اور عمران سیریز لکھتا ہے ۔
وہ ادب کی تاریخ کو بدل دیتا ہے۔
ابن صفی کی عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کا بغور مطالعہ کریں تو اس میں کہانی ، کردار ، ہیرو ، مجرم ، ہر کوئی انسان کو جرم سے نفرت کا درس دیتا ہے۔
ابن صفی نے بارہا اپنے جملوں سے ، کہانی کے کرداروں سے وہ سب کہلوایا جس سے قارئین پر مثبت اثر پڑے ۔قانون کی اس سے اچھی تعریف اور کیا ہوسکتی ہے ۔

“یہاں‌ ہر آدمی اپنی راہ کا کانٹا ہٹا دیتا ہے یہ ایک فطری بات ہے ۔کبھی اس فعل کی حیثیت انفرادی ہوتی ہے اور کبھی اجتماعی’ اجتماعی حیثیت کو ہم قانون کہتے ہیں‌”