بولیں امّاں محمد علی کی
بولیں امّاں محمد علی کی
شکور پٹھان

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
امی وہ سنائیں “ بولیں اماں محمد علی کی” ۔۔۔امی سانس لینے کے لئے رکی ہی تھیں کہ میں نے دوسری فرمائش داغ دی۔
یہ سردیوں کی راتیں تھیں لالٹین کی مدھم روشنی میں ہم سب لحافوں میں دبکے مونگ پھلی ٹھونگ رہے تھے۔ میں اور باجی جاگ رہے تھے۔ دو چھوٹے بہن بھائی سو رہے تھے ( سب سے چھوٹی ابھی اس دنیا میں نہیں آئی تھی)۔امی ہمیں اپنی سریلی آواز میں جواب شکوہ کے یہ اشعار سناتیں۔ مجھے یہ چند شعر تو تیسری جماعت میں ہی یاد ہوگئے تھے۔
“ اچھا وہ۔۔۔لو سنو”
بولیں اماں محمد علی کی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
ساتھ تیرے ہیں شوکت علی بھی
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
تمہی ہو میرے گھر کا اجالا
تھا اسی واسطے تم کو پالا
کام کوئی نہیں اس سے اعلا
جان بیٹا خلافت پہ دے دو
پتہ نہیں یہ کون سی طرز تھی کہ ہماری آنکھیں نم ہوتی جاتی تھیں۔ ہم نہ محمد علی کو جانتے تھے نہ شوکت علی کو۔نہ ہی یہ پتا تھا کہ خلافت کیا ( یا کون) ہوتی ہے۔ بہت بعد میں ایک دن رفیع صاحب کا گانا کہییں ریڈیو پر سنا “ رات بھر کا ہے مہمان اندھیرا۔۔کس کے روکے رکا ہے سویرا” ۔۔اس گانے کی دھن پر شاید امی ہمیں سناتی تھیں۔”۔بولیں اماں محمد علی کی “
سردیوں کی ان راتوں میں امی نہ صرف ہمیں کہانیاں، لوریاں سناتیں بلکہ اپنے بچپن کے قصے بھی سناتیں۔ میری امی اللہ بخشے ، جو صرف چار جماعت پڑھی تھیں۔ خود بھی کتابیں پڑھنے کی شوقین تھیں اور شاندار یادداشت رکھتی تھیں ، ہمیں دنیا جہاں کی باتیں بتاتیں،
“ جب جرمن اور بلٹس ( برٹش) کی لڑائی لگی”
“ بلٹس کے زمانے میں روپے کا چار سیر آٹا ملتا تھا”
“ جب ماشلّا ( مارشل لا) لگا تو ایوب خان نے پانی ملے دودھ کے ڈرم نالیوں میں بہا دئیے۔ ایسی سختی تھی”
ہمیں کچھ سمجھ نہ آتا لیکن مزہ آتا تھا یہ سب سننے میں۔ داستان طرازی کی یہ عادت شاید مجھے امّی سے ہی ملی ہے.
پھر ایک دن جنگ اخبار کے پہلے پورے صفحے پر مولانا محمد علی جوہر کی پوری رنگین تصویر تھی جن کا اس دن یوم پیدائش یا یوم وفات تھا۔ اندرونی صفحات پر مولانا کے بارے میں مضامین تھے اور ایک تصویر مولانا شوکت علی ، مولانا محمد علی اور بی اماں کی تھی۔
یہ تب کی بات ہے جب جنگ اور انجام اخبار میں کبھی قائد اعظم ، تو کبھی لیاقت علی، تو کبھی ایوب خان، یا سردار نشتر، یا نواب بہادر یار جنگ کی بڑی بڑی رنگین تصویریں لگا کرتیں جنہیں ، ظہورالاخلاق ، بنایا کرتے تھے۔( یہی ظہورالاخلاق تھے جو کبھی ابن صفی کے ناولوں کے ٹائٹل بھی بنایا کرتے تھے)۔ ان اخبارات کی مہربانی تھی کہ ہمیں بچپن میں ہی اکابرین کے بارے میں تھوڑی بہت سن گن مل جایا کرتی تھی۔
“امی یہی ہیں وہ ، بولیں اماں محمد علی ، والی ؟”
“ ارے ہاں ، وہی تو ہیں۔ محمد علی، شوکت علی کی اماں”۔امی کی آنکھوں میں عقیدت کی چمک تھی۔ کچھ دیر تصویر دیکھتی رہیں پھر باورچی خانے کی طرف چل دیں۔ امی پھر گنگنا رہی تھیں “ بولیں اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو”۔
اور تب سے بی اماں کا ایسا پاکیزہ تصور ذہن کے پردے پر قائم ہوا کہ آج بھی ان کا ذکر آتا ہے تو نظریں احترام اور عقیدت سے جھکتی چلی جاتی ہیں۔ بچے اور خاص کر بیٹے تو ماؤں کی جان ہوتے ہیں۔ ان کے جگر کے ٹکڑے، مائیں جن کی سلامتی کے لئے دن رات دعائیں کرتی ہیں۔ اور یہ بڑی بی اپنے بچوں کو خلافت کے لئے جان دینے کو کہہ رہی ہیں۔ خلافت جو ان کے نزدیک اللہ کی امانت ہے۔جسے وہ اسلام کی نشات ثانیہ کی ضامن سمجھتی تھیں۔ اور ایسی ماں نے پوت بھی جنمے تو کیسے۔
شوکت علی، محمد علی، یا علی برادران، تحریک آزادی اور تحریک خلافت کے صف اوّل کے سپاہی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک، جامعہ ملیہ دہلی جیسی درسگاہ کے موسس۔ مولانا محمد علی جوہر، “ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد” جیسے شعر کے خالق۔ بی اماں نے جن کی تربیت ایسی کی کہ کہہ اٹھے ۔
“ توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے
یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے۔
اپنی اولاد کو بھی اپنی ہی طرح تسلیم و رضا کا پیکر ایسا بنایا کہ محمد علی کی جواں سال بیٹی بستر مرگ پر ہے۔ محمد علی انگریز کی قید کاٹ رہے ہیں۔ بیٹی کے بچنے کی امید ختم ہوتی جارہی ہے اور زنداں سے اپنی جگر گوشہ کو لکھتے ہیں
تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اس کو
نہیں منظور تو ہم کو بھی منظور نہیں۔
محمد علی ، میرے کراچی کےخالقدنا ہال میں ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔ سزا ہوجاتی ہے۔ آزادی کا یہ مجرم میرے شہر کی سنٹرل جیل میں مقید ہوجاتا ہے۔ انگریز اس کی قابلیت جانتا ہے، آکسفورڈ کا تعلیمیافتہ ، کامریڈ اخبار کا بانی ، کوئی عام ہندوستانی نہیں ہے۔ محمد علی کو معافی کی پیشکش ہوتی ہے۔ جسے وہ ٹھکرادیتے ہیں۔ ماں کو خبر ملتی ہے۔ ذرا آج کے رہنماؤں کا تصور کریں جو ثابت شدہ جرم کے باوجود ضمانت ، خرابی صحت کے بہانے اور نہ جانے کس کس طرح کے بہانے سے رہائی چاہتے ہیں۔ اور ذرا بی اماں کو دیکھیں۔ اطمینان سے خبر سنتی ہیں اور بڑے عزم سے کہتی ہیں “ محمد علی اسلام کا بیٹا ہے۔ وہ معافی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اگر اس نے ایسا کیا تو میرے بوڑھے ہاتھوں میں اس کا گلا گھونٹ دینے کی طاقت اب بھی ہے”۔
اور یہی بی اماں حج کے لئے جاتی ہیں تو کعبہ کا غلاف پکڑ کر التجا کرتی ہیں کہ “مالک، تیرے کرم سے میرے بچے بڑے ہوگئے ہیں۔ میں تجھ سے دعا کرتی ہوں کہ انہیں سچا مسلمان بنا”۔
آبادی بانو بیگم ( یا عبادی بانو بیگم) یعنی بی اماں نے آنکھ آزاد ہندوستان میں کھولی تھی۔ یہ ۱۸۵۰ کے آس پاس کا زمانہ تھا۔ کم سنی میں ہی ہندوستان کو غلام ہوتے دیکھا۔ ایک غیرتمند گھرانے کی بیٹی جس کے ستر سالہ چچا کو انگریز نے بغاوت کے الزام میں پھانسی دی تو انہوں نے آگے بڑھ کر پھانسی کا پھندا خود اپنے گلے میں ڈال لیا۔ غدر کے ہنگاموں میں ہوش سنبھالنے والی آبادی بیگم نے حریت اور آ زادی کی لو کو اپنے سینے میں کبھی مدہم نہ ہونے دیا۔ یہ تپش اور یہ تڑپ انہوں نے اپنے بیٹوں کے سینوں میں بھی جلائے رکھی۔تسلیم و رضا تو جیسے گھٹی میں پڑی تھی۔ سب سے بڑے بیٹے نوازش علی کی موت پر لوگ پرسہ دینے آئے تو بڑی بہادری سے تعزیت کرنے والوں کو سمجھاتی ہیں کہ ہمیں اللہ کی مرضی کے آگے سر جھکانا ہے۔ یہ اس کے اختیار میں ہے کہ جو کچھ دیتا ہے ، واپس بھی لے سکتا ہے۔ اس کی امانت تھی، اس نے واپس لے لی، شکایت کیسی؟۔
جب باپ کا سایہ سر سے اٹھا تو محمد علی صرف دو سال کے تھے۔ بی اماں نے واجبی سی گھریلو تعلیم حاصل کی تھی لیکن اس زمانے کے رواج کے خلاف شوکت علی اور محمد علی کو انگریزی تعلیم دلوائی۔ شوکت علی نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے کسب علم کیا تو محمد علی نے آکسفورڈ کی راہ لی۔ اور یہ بی اماں پہلی مسلم خاتون تھیں جنہوں نے عملی سیاست میں حصہ لیا، کبھی مسلم لیگ کے جلسوں سے خطاب کیا تو کبھی خلافت کمیٹی تو کبھی عدم تعاون کی تحریک، کبھی چندہ جمع کررہی ہیں تو کہیں کسی رہنما کی رہائی کے لئے تحریک چلا رہی ہیں، ہندوستان کے گاؤں اور شہر وں کے دورے کررہی ہیں۔ ساری عمر پردہ کیا۔ اسی پردے میں لاہور میں ایک ایسی تقریر کی کہ ادب کا شاہکار قرار پائی۔
گاندھی جی خود کو بی اماں کا تیسرا بیٹا کہتے تھے۔ گاندھی جی اور علی برادران جیل چلے گئے تو بی اماں نے بیگم حسرت موہانی، بسنتی دیوی، سرلا دیوی چوہدرانی اور سروجنی نائیڈو کے ساتھ مل کر آزادی کا پرچم بلند رکھا۔ بی اماں نے اپنے بچوں کو سادہ غذا، سادہ لباس اور اسلام کے اعلا اصولوں کی تربیت کے ساتھ بڑا کیا تھا۔ عدم تعاون کی تحریک میں یہی تعلیم ہندوستانی خواتین کو دیتی رہیں اور بدیشی مال کے بائیکاٹ کی تحریک کے ہراول دستہ میں شامل رہیں۔
خود صوم وصلوات کی پابند تھیں لیکن ہندو مسلم اتحاد کے لئے دن رات کام کرتیں کہ یہ آزادی کی بنیادی ضرورت تھی۔ اصل چیز دنیا سے بے نیازی اور آخرت کی کامیابی ان کے پیش نظر رہتی۔ اور ایسی کیا چیز تھی جو انہیں آخرت میں سرخرو نہ کرتی۔
میں تو اتنا جانتا ہوں کہ روز حشر جزا و سزا کے فیصلے کرتے ہوئےاللہ انسانوں کی گواہی کو ضرور سنتا ہوگا اور بی اماں جیسوں کے لئے سوائے کلمہ خیر کے اور کوئی کیا کہہ سکتا ہے۔
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نَورُستہ اس گھر کی نگہبانی کرے