غزل
دل میرا اگر ہے تو مرا کیوں نہیں لگتا
یہ طرفہ تماشہ بھی برا کیوں نہیں لگتا
سچائی سے معمور ہے گرچہ ترا لہجہ
لیکن تری نیت سے جڑا کیوں نہیں لگتا
پھرتا ہے اسی شہر میں اب غیر کے ہمراہ
اب شہر کے لوگوں کو برا کیوں نہیں لگتا
اک شخص جو قربت میں قریں لگتا تھا مجھ کو
اب مجھ سے جدا ہے تو جدا کیوں نہیں لگتا
جاتی ہے صفا کو کبھی مروہ کو مری ماں
لیکن ترے زمزم کو پتہ کیوں نہیں لگتا
احمد سلمان
Load/Hide Comments