حرفِ سوال-دن 1
حرفِ سوال
سوال سے فکر تک ،فکر سے شعور تک۔۔۔
1 #دن
ہم اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی کیوں بنا لیتے ہیں؟
ہم کون ہیں بخدا یاد نہیں
ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نہیں
ہم آج اس دنیا کا حصہ ہیں جہاں معلومات ہر طرف بکھری پڑی ہیں۔کتاب قصہ پارینہ بن چکی ہے ۔ ہر جانب ایک کلک ہے اور لا تعداد علم ۔ مگر اس میں مستند کیا ہے اور حقائق سے کوسوں دور کیا ہے اس کا کوئی اصول آج باقی نہیں ۔
ملکوں سے لے کے افراد تک ہر کوئی اپنا سچ اپنے حقائق اپنے دلائل رکھتا ۔ معاشرے میں علم کے ماخذ ایک جیسے ہو چکے ہیں ۔ عقل مند و دانا اور جہل کے قطب مینار ایک ہی کلک اور میڈیا سے معلومات لیتے ۔
یہ رفتار اس قدر تیز ہو چکی ہے کہ سچ اور جھوٹ کے بیچ کی لکیر مٹ چکی ہے اور آج کوئی سچ کا داعی نہیں ہے بلکہ سب اپنے اپنے دائروں کے اسیر ہیں ۔
اس وجہ سے آج کہنا سننا لکھنا بولنا مشکل تر ہوگیا ہے ۔
آپ صاحب علم ہیں ۔ اور علوم میں کچھ دسترس رکھتے ہیں کچھ نئے انداز سے دنیا کو دیکھتے ہیں کچھ نئے سوال کرتے ہیں ۔ کچھ الگ سوچتے ہیں تو آپ کو یہ معاشرہ یہاں کی قدیم سوچ روک سکتی ہے ۔
ہم میں سے کوئی یہ قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ اس سے بہتر کوئی سوچ سکتا اس سے بہتر کوئی کہہ سکتا ہے اس سے بہتر کوئی نظریہ ہو سکتا ہے ۔
جب آپ نئی بات کرتے ہیں اور سامنے والا پھٹو لاجواب ہو جاتا ہے اس کا علم جو کسی درس گاہ یا باقاعدہ غور و خوض سے حاصل کیا ہوا نہیں ہے جو چل چلاؤ قسم کی سوشل میڈیائی کیمپینز سے ذہن پر نقش ہے اس پر ضرب پڑتی ہے ۔
یہاں ایک جاہل انپڑھ اور ایسا انسان جس کے علم کا معیار کوئی کتاب کوئی مخطوطہ کوئی علمی ماخذ نہیں ہے فقط کچھ جذباتی اور غیر اہم رٹے رٹائے جملے ہیں وہ فوری سب سے پہلے آپ کے کردار پر حملہ کرئے گا اور اندر ہی اندر آپ سے نفرت کا ایک ماحول پیدا کر لے گا ۔
وہ تحقیق و جستجو سے نا آشنا انسان آپ کے علم کے جواب میں فقط نفرت کر سکتا ہے اور وہ اسے پوری شد و مد سے کرئے گا ۔
اختلاف رائے میں اب صرف اختلاف باقی بچا ہے رائے تو کب سے کوچ کر چکی۔
اندھوں کی نگری اور بہروں کا شہر ہے اب صرف اختلاف باقی ہے کیونکہ رائے دینا خطرناک ہے ۔
یہاں ہر ایک انسان صرف کلٹ ہے جو کسی نہ کسی جتھے کا حصہ ہے اور وہ اپنی عقیدت کو علمیت کو نام دے کر سوال کرنے والے کو نفرت سے یاد کرتا ہے اس سے دشمنی روا رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
اس لیے اب علم دوستی مکالمہ سوال جواب جیسے ماحول کو واپس لانے تک بحث صرف کج بحث بن چکی ہے
اب کسی مجلس محفل اور مکالمے کے دوران کوئی بھی فریق کسی بھی سوال پر سوچنے سمجھنے اور تحقیق و جستجو اور تلاش کے لیے وقت مانگنا اپنی توہین سمجھتا ہے ۔ ہر جاہل سمجھتا ہے کہ موقع پر جواب نہ دیا جائے تو یہ بحث میں ہار ہوگی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب مکالمے کا مقصد علم کو پروان چڑھانا نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ جاہل اپنے ہمنوا بنانا اور اپنے لہجے کو بلند کر کے حقائق کو دبا کر تالیاں بجوانا ہے ۔
اس سارے معاملے کو بدترین بنانے میں سوشل میڈیا کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ یہاں دو ایسے انسان جو ہزاروں میل کے فاصلے پر ہیں کبھی ایک دوسرے سے ملے نہیں جب کسی بات پر الجھ پڑتے ہیں تو پھر تہذیب و اخلاق کی ہر وہ حد جو آمنے سامنے توڑنا ممکن نہیں ہوتا سوشل میڈیا پر پار کرلی جاتی ہے۔
جب تک یہ ماحول رہے گا اس وقت تک اختلاف رائے کے نام پر نظریات و خیالات اور انسانوں کو شخصی طور پر کچلے جانے کا رجحان باقی رہے گا ۔
کمزور ترین سماج اور ناکام معاشرے کی ایک ناکامی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو دبا دیتا ہے وہ سوال کو روند دیتا ہے وہ لکھنے پڑھنے اور مہذب گفتگو کو طعنہ سمجھتا ہے ۔
مرزا صہیب اکرام