غزل
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھیمزید پڑھیں
آسان حقیقی ہے نہ کچھ سہل مجازی معلوم ہوئی راہ محبت کی درازی کچھ لطف و نظر لازم و ملزوم نہیں ہیں اک یہ بھیمزید پڑھیں
نہ سہی گر انہیں خیال نہیں کہ ہمارا بھی اب وہ حال نہیں یاد انہیں وعدۂ وصال نہیں کب کیا تھا یہی خیال نہیں ایسےمزید پڑھیں
تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئیمزید پڑھیں
جو وہ نظر بسر لطف عام ہو جائے عجب نہیں کہ ہمارا بھی کام ہو جائے شراب شوق کی قیمت ہے نقد جان عزیز اگرمزید پڑھیں
یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا مجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہوا خودبخود بوئے یار پھیل گئی کوئی منت کش صبا نہ ہوا میںمزید پڑھیں
خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی دامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی جلوۂ ساغر و مینا ہے جو ہمرنگ بہار رونقیںمزید پڑھیں
خوب رویوں سے یاریاں نہ گئیں دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں عقل صبرآشنا سے کچھ نہ ہوا شوق کی بے قراریاں نہ گئیں دنمزید پڑھیں
لطف کی ان سے التجا نہ کریں ہم نے ایسا کبھی کیا نہ کریں مل رہے گا جو ان سے ملنا ہے لب کو شرمندۂمزید پڑھیں
ہم نے کس دن ترے کوچے میں گزارا نہ کیا تو نے اے شوخ مگر کام ہمارا نہ کیا ایک ہی بار ہوئیں وجہ گرفتارئمزید پڑھیں
وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہومزید پڑھیں
حالیہ تبصرے