غزل
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانامزید پڑھیں
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے اک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانامزید پڑھیں
کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں دل کی تپش کو کیا کروں سوز جگر کو کیا کروں شورش عاشقی کہاں اور میریمزید پڑھیں
حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا بڑھ گئیں تم سے تو ملمزید پڑھیں
حسن بے پروا کو خودبین و خود آرا کر دیا کیا کیا میں نے کہ اظہار تمنا کر دیا بڑھ گئیں تم سے تو ملمزید پڑھیں
وہ چپ ہو گئے مجھ سے کیا کہتے کہتے کہ دل رہ گیا مدعا کہتے کہتے مرا عشق بھی خود غرض ہو چلا ہے ترےمزید پڑھیں
آپ نے قدر کچھ نہ کی دل کی اڑ گئی مفت میں ہنسی دل کی خو ہے از بس کہ عاشقی دل کی غم سےمزید پڑھیں
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا شیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاں کچھمزید پڑھیں
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی جو چاہو سزا دے لو تم اور بھی کھلمزید پڑھیں
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے وہ اپنی خوبی قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد ترے جنوںمزید پڑھیں
بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کےمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے