نظم (البیلی صبح)
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے روش روش نغمۂمزید پڑھیں
نظر جھکائے عروس فطرت جبیں سے زلفیں ہٹا رہی ہے سحر کا تارا ہے زلزلے میں افق کی لو تھرتھرا رہی ہے روش روش نغمۂمزید پڑھیں
لوگ ہم سے روز کہتے ہیں یہ عادت چھوڑیئے یہ تجارت ہے خلاف آدمیت چھوڑیئے اس سے بد تر لت نہیں ہے کوئی یہ لتمزید پڑھیں
اے شمع جوشؔ و مشعل ایوان آرزو اے مہر ناز و ماہ شبستان آرزو اے جان درد مندی و ایمان آرزو اے شمع طور ومزید پڑھیں
کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آمزید پڑھیں
جھٹپٹے کا نرم رو دریا شفق کا اضطراب کھیتیاں میدان خاموشی غروب آفتاب دشت کے کام و دہن کو دن کی تلخی سے فراغ دورمزید پڑھیں
آن را کہ تو عقبیٰ شمری عقبیٰ نیست یعنی جائے تقرب مولیٰ نیست وصف جنت شنیدہ ای عبرت گیر ہرجا زر و گوہریست جز دنیامزید پڑھیں
صد شکر کہ نشگافت یقین سینۂ ما برجا است ہماں سینۂ بے کینۂ ما تا آب نگردیم ز شرم ہستی ما را ننمودند در آئینۂمزید پڑھیں
اسمائے ظہور بانگ ناقوس دلست اشیا ہمہ اعتبار محسوس دلست ہر ذرہ درین دشت چراغے دارد یعنی ایں جملہ چشم جاسوس دلست (ترجمہ) اسما ناقوسمزید پڑھیں
جائے کہ تمیز از حق و باطل نیست غیر با طبع ہیچ کس شامل نیست دیوثی را ز ننگ و فعلش گفتند گفت این دولتمزید پڑھیں
از خلوت ذات ہیچ شے بیرون نیست زین پردہ خروش چنگ و نے بیرون نیست اشیائے ہمہ اسم ظاہر و باطن اوست از شیشہ ومزید پڑھیں
حالیہ تبصرے