غزل

ہجوم غم سے یاں تک سرنگونی مجھ کو حاصل ہے کہ تار دامن و تار نظر میں فرق مشکل ہے رفوئے زخم سے مطلب ہےمزید پڑھیں

غزل

قیامت ہے کہ سن لیلی كا دشت قیس میں آنا تعجب سے وہ بولا یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں دل نازک پہ اس کےمزید پڑھیں

غزل

کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوز غم ہائے نہانی اورمزید پڑھیں

غزل

مری ہستی فضائے حیرت آباد تمنا ہے جسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے خزاں کیا فصل گل کہتے ہیں کس کومزید پڑھیں

غزل

بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر متاع خانۂ زنجیر جز صدا معلوم بہ نالہ حاصل دل بستگی فراہم کر متاع خانۂ زنجیر جز صدامزید پڑھیں

غزل

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کامزید پڑھیں

تہذیب کا پہلا پتهر

تہذیب کا پہلا پتهر بادشاہ نے شہزادی کو آج کا پیغام بهیجا ہے رات بہار کی ہے خنک شب کی ساعتوں میں تم نے میرامزید پڑھیں

نظم

شاہانہ جاوید سنا تھا جہنم میں آگ کا گڑھا ہوگا گنہگار اس،میں ڈالے جائیں گے ہاں گہنگار صرف گہنگار ہمارے نااہل حکمرانوں نے ہم بےمزید پڑھیں

غزل- پروین شغف

غزل پروین شغف –دہلی عشق میں اس نے یہ کیا کیا بنا ڈالا خود خدا ، مجھ کو فرشتہ بنا ڈالا غمزہ، سفّاک نگہ نےمزید پڑھیں

نظم

نظم نبا علی جب جب میں مشکل میں آؤں۔۔۔۔۔ وہ مجھے تسلی دیتی ہیں ۔۔۔۔ میں سوچتی ہوں کوئی راہ نہیں ۔۔۔۔۔ وہ چھاؤں سیمزید پڑھیں