غزل
دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینامزید پڑھیں
دل سی چیز کے گاہک ہوں گے دو یا ایک ہزار کے بیچ انشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ پینامزید پڑھیں
لوگ ہلال شام سے بڑھ کر پل میں ماہ تمام ہوئے ہم ہر برج میں گھٹتے گھٹتے صبح تلک گمنام ہوئے ان لوگوں کی باتمزید پڑھیں
جنگل جنگل شوق سے گھومو دشت کی سیر مدام کرو انشاؔ جی ہم پاس بھی لیکن رات کی رات قیام کرو اشکوں سے اپنے دلمزید پڑھیں
اس شہر کے لوگوں پہ ختم سہی خوش طلعتی و گل پیرہنی مرے دل کی تو پیاس کبھی نہ بجھی مرے جی کی تو باتمزید پڑھیں
اس کو نام جنوں کا دے لو پیار کہو کہ دلار کہو ایسا اور کسی کا دیکھا دل کا کاروبار کہو بستی میں دیوانہ سمجھومزید پڑھیں
گوری اب تْو آپ سمجھ لے ہم ساجن یا دشمن ہیں گوری تو ہے جسم ہمارا ہم تیرا پیراہن ہیں نگری نگری گھوم رہے ہیںمزید پڑھیں
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لا الہ الا اللہ یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے صنممزید پڑھیں
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو سکوت لالہمزید پڑھیں
دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی افق سے آفتاب ابھرا گیا دور گراں خوابی عروق مردۂ مشرق میں خون زندگی دوڑا سمجھ سکتےمزید پڑھیں
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتامزید پڑھیں
حالیہ تبصرے