غزل

کیا کہوں تم سے میں کہ کیا ہے عشق جان کا روگ ہے بلا ہے عشق عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو سارے عالم میںمزید پڑھیں

غزل

فقیرانہ آئے صدا کر چلے کہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے جو تجھ بن نہ جینے کو کہتے تھے ہم سو اس عہدمزید پڑھیں

غزل

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک شعلہ اکمزید پڑھیں

غزل

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہےمزید پڑھیں

غزل

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے لگنے نہ دے بس ہومزید پڑھیں

غزل

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا عہد جوانی رو رو کاٹامزید پڑھیں

قطعہ

اے شہنشاہ آسماں اورنگ اے جہاں دار آفتاب آثار اے شہنشاہ آسماں اورنگ اے جہاں دار آفتاب آثار تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیںمزید پڑھیں

قطعہ

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں اک تیر میرے سینے میں مارا کہمزید پڑھیں

غزل

سرگشتگی میں عالم ہستی سے یاس ہے تسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے لیتا نہیں مرے دل آوارہ کی خبر اب تکمزید پڑھیں

غزل

پھر اس انداز سے بہار آئی کہ ہوئے مہر و مہ تماشائی دیکھو اے ساکنان خطۂ خاک اس کو کہتے ہیں عالم آرائی کہ زمیںمزید پڑھیں