رباعی

از خلوت ذات ہیچ شے بیرون نیست
زین پردہ خروش چنگ و نے بیرون نیست

اشیائے ہمہ اسم ظاہر و باطن اوست
از شیشہ و جام موج مے بروں نیست
(ترجمہ)
کچھ بھی فطرت کی رازداری سے باہر نہیں ہے
چنگ و نے کی آواز اس پردے سے باہر نہیں ہے

تمام چیزیں اس کے ظہور اور اس کے باطن کا نام ہیں
شیشہ وجام سے شراب کی موج باہرنہیں ہے