غزل
گمان سے گمان تھے مجھے کسی گمان پر سوالیہ نشان تھے سوالیہ نشان پر اذان دفن ہو گئی تھی ہاکروں کے شور میں سو ہممزید پڑھیں
گمان سے گمان تھے مجھے کسی گمان پر سوالیہ نشان تھے سوالیہ نشان پر اذان دفن ہو گئی تھی ہاکروں کے شور میں سو ہممزید پڑھیں
یہ ہاتھ میں ترے ہاتھوں میں رکھ کے بھول گیا کہ اک کتاب کتابوں میں رکھ کے بھول گیا نجومیوں نے بتایا کہ کاتب تقدیرمزید پڑھیں
شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں زعم عیسیٰ گریزی میں جو بھی ہوا میں نے ہونے دیا میںمزید پڑھیں
نور ہی نور سے مکھڑے پہ وہ نوری آنکھیں اس کے انجیل سے چہرے پہ زبوری آنکھیں چھوڑ آیا ہوں کسی آنکھ میں بینائی کومزید پڑھیں
ہزار دل میں سوال رکھنا اسے نہ کہنا اور اس ہنر میں کمال رکھنا اسے نہ کہنا تمہاری ساری اداسیوں کا سبب وہی ہے یہمزید پڑھیں
کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرہ لکھا تھا لاش کے ننھے ہاتھ میں بستہمزید پڑھیں
جو دکھ رہا ہے اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیامزید پڑھیں
شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکامزید پڑھیں
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے وہمزید پڑھیں
خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر کہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔ نہمزید پڑھیں
حالیہ تبصرے