بلا عنوان — تین کہانیاں
بلا عنوان — تین کہانیاں
تحریر عبدالباسط خان
پہلی کہانی
وہ آفس سے نکل کر اسٹاپ کی طرف جا رہی تھی کہ اس نے اسد کو کار میں بیٹھا دیکھا۔
بلیک گلاسز لگائے وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
گاڑی سے اتر کر اس نے اس کے لیے دروازہ کھولا،
گردن ذرا جھکا کر دل پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے بولا:
“میری ہونے والی بیگم کو… کیا میں لفٹ دے سکتا ہوں؟”
کار میں بیٹھتے ہی اس نے پوچھا:
“کیا ہوا اسد؟ سب خیریت تو ہے نا؟”
اسد نے ہلکی سی سانس لی اور کہا:
“میری بس ایک خواہش ہے…
شادی والے دن تم عروسی جوڑا میری پسند کا پہنو۔
سوچو، جب میں تمہیں اس جوڑے میں دیکھوں گا
تو مجھے کتنی خوشی ہوگی…”
وہ ہنس پڑی،
تھوڑا جھجکی،
تھوڑا شرمائی۔
اسد نے نرمی سے کہا:
“بس گھر کال کر دینا کہ آج لیٹ ہو جاؤ گی۔
پہلے کہیں باہر کھانا کھائیں گے،
پھر اسی شاپنگ سینٹر چلیں گے—
اسی دکان پر، جہاں سے امی تمہارے شادی کے کپڑے خریدیں گی۔”
“میں بس اپنی پسند کا جوڑا
تم پر رکھ کر دیکھنا چاہتا ہوں…
بس دیکھنا۔”
لڑکی لمحہ بھر کو خاموش ہو گئی۔
اس کے چہرے پر چھائی خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔
پھر آہستہ سے بولی:
“ٹھیک ہے… چلیں۔”
دوسری کہانی
وہ نمائش کے اسٹاپ پر موٹرسائیکل روکے کھڑا تھا۔
بی کام کے بعد آگے پڑھنے کا خواب تھا،
مگر گھر کے حالات
خوابوں سے پہلے آ کھڑے ہوئے۔
اسی لیے نوکری کے بعد شام چھ سے رات گیارہ بجے تک
وہ بائیکیا چلاتا تھا۔
امید تھی کہ کبھی تو
ایم بی اے ایوننگ کی فیس جمع ہو جائے گی۔
آج آٹھ بج گئے تھے،
مگر کوئی رائیڈ نہیں ملی تھی۔
یہ کام قسمت سے جڑا ہوتا ہے انتظار کی سولی پر لٹکنا … اور آتے جاتے لوگوں کو امید بھری نظروں سے دیکھنا اور آنکھوں آنکھوں سے پوچھنا اور اپنی عزت نفس رکھتے ہوئے کبھی ہلکی آواز میں بائیکیا کا نعرہ بلند کرنا۔
پھر ایک نوجوان آیا
اور موبائل مارکیٹ چلنے کو کہا۔
وہ فوراً مان گیا۔
آگے سے بات نارتھ ناظم آباد تک پہنچی
پر اس نے کہا کہ موبائل لینے کے بعد
وہ آگے ایک اور مارکیٹ جائے گا
وہاں بھی کچھ دیر کا کام ہے۔
تو اس کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
لمبی سواری تھی،
پھر ناظم آباد سے اس کا گھر بھی قریب تھا۔
کمائی اچھی ہونی تھی۔
مارکیٹ پہنچ کر
سواری نے کہا:
“آپ یہی رکیں، میں ابھی آیا۔”
وہ منافع کا حساب لگانے لگا،
موٹرسائیکل کی مرمت یاد آئی،
کراچی کی خراب سڑکوں کی وجہ سے موٹر سائیکل کی مرمت کا کام آئے دن نکلتا رہتا تھا۔
پھر سوچا
کیوں نہ گھر کے لیے
چائے کے کپ ہی لے لوں—
یہاں سستے مل جاتے ہیں۔
اور وہ بھی
مارکیٹ کے اندر چلا گیا۔
تیسری کہانی
آج وہ بے حد خوش تھا۔
زندگی کی پہلی تنخواہ ملی تھی۔
ماں گھروں میں کام کرتی تھی،
ایک چھوٹی بہن تھی،
کرائے کا گھر تھا۔
ماں جہاں کام کرتی تھی اس گھر کے مالک نے وعدہ کیا تھا
کہ شناختی کارڈ بنتے ہی
دکان پر رکھ لے گا۔
چائے، کھانا سب وہی دیتا تھا۔
اس کا خواب تھا
کہ اب وہ آگے پرائیویٹ پڑھے گا۔
بار بار گھڑی دیکھتا،
بس دس بج جائیں
اور وہ اڑ کر گھر پہنچے۔
ماں کے ہاتھ میں
پہلی تنخواہ رکھے
اور اس کی آنکھوں میں
وہ چمک دیکھے
جس کا وہ برسوں سے قرض دار تھا۔
جیسے ہی دس بجے،
اس نے دکان سمیٹنی شروع کی۔
دروازہ بند کیا
اور باہر قدم رکھا کہ—
آخر میں
یہ گل پلازہ کی وہ کہانیاں ہیں
جو شاید کبھی خبر نہ بن سکیں۔
جہاں صرف دکانیں نہیں جلیں،
بلکہ انتظار، منصوبے
اور خواب راکھ ہو گئے۔
کچھ لوگ خریداری کے لیے آئے تھے،
کچھ کمائی کے لیے،
اور کچھ
اپنی زندگی کے
سب سے خوشگوار لمحے کے ساتھ۔
گل پلازہ میں
صرف ایک عمارت نہیں گری—
وہ لمحے بھی دب گئے
جن کا کوئی متبادل
زندگی میں دوبارہ نہیں ملتا۔