عالمی یومِ خواتین— حقیقت یا مصنوعی جشن؟
عالمی یومِ خواتین— حقیقت یا مصنوعی جشن؟
پروین شغف
8 مارچ، عالمی یومِ خواتین، ایک ایسا دن جو دنیا بھر میں خواتین کے حقوق، ان کی قربانیوں اور جدوجہد کو تسلیم کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ لیکن کیا واقعی یہ دن اپنی اصل روح کے ساتھ منایا جا رہا ہے، یا پھر اسے ایک تجارتی میلے میں بدل دیا گیا ہے؟
ہر سال، اس دن کو شدید جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، مگر اکثر یہ جوش صرف خواتین کو لبھانے والے اشتہارات، برانڈنگ، رعایتی پیشکشوں اور سماجی میڈیا پر وائرل ہونے والے نعروں تک محدود رہتا ہے۔ ہر چیز کو گلابی رنگ میں رنگ کر، چاکلیٹ اور گلدستوں میں لپیٹ کر، خواتین کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بس یہی خوشی اور یہی آزادی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی تمام قربانیاں، ان کی جدوجہد اور ان کے حقیقی مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں، اور انہیں خوابوں کی ایک مصنوعی دنیا میں قید کر دیا گیا ہے— جہاں شیشے کے محلات، بادلوں کی سرزمین، اور سفید گھوڑے پر سوار شہزادے ہی ان کی اصل خواہشات قرار دی جاتی ہیں۔
یہ وہی خواتین ہیں جو سال کے باقی دنوں میں اپنی زندگی، سماجی حیثیت اور حقوق کی عدم دستیابی پر شکوہ کناں رہتی ہیں، لیکن یومِ خواتین پر چند خوشنما الفاظ، رسمی تقریبات، اور مارکیٹنگ کی چمک دمک سے خود کو مطمئن کر لیتی ہیں۔ کیا یہی آزادی ہے؟ کیا یہی وہ حقوق ہیں جن کے لیے صدیوں تک خواتین نے جدوجہد کی تھی؟
یومِ خواتین: تاریخ اور پس منظر
یہ دن کسی جدید برانڈنگ مہم کا حصہ نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ایک گہری تاریخی جدوجہد میں پیوست ہیں۔ 8 مارچ 1917 کو روس میں خواتین نے روٹی، بہتر حالاتِ کار اور مساوی حقوق کے لیے مظاہرے کیے تھے، جو آگے چل کر روسی انقلاب کا نقطۂ آغاز بنے۔ یہ دن دراصل خواتین کی اس اجتماعی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے، جو انہیں سیاسی، سماجی اور معاشی مساوات دلانے کے لیے کی گئی تھی۔
اگر ہم مزید پیچھے جائیں، تو 1893 میں نیوزی لینڈ وہ پہلا خودمختار ملک تھا، جس نے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا۔ 1920 میں، مصر کی “سوسائٹی آف فزیشنز” نے خواتین کے جسمانی اعضاء کے مسخ کیے جانے کے خلاف ایک مضبوط مہم چلائی، جو خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ایک بڑی کامیابی تھی۔
اصل سوال: یومِ خواتین کا حقیقی مقصد کیا ہے؟
کیا آج بھی خواتین کے مسائل وہی ہیں جو صدیوں پہلے تھے؟ کیا ہم آج بھی ان کے حقوق، ان کے تحفظ، ان کے مساوی مواقع، اور ان کے خلاف ہونے والی ناانصافیوں کے بارے میں اسی شدت سے بات کر رہے ہیں؟ یا پھر ہم نے اس دن کو ایک اور تجارتی موقع میں بدل دیا ہے؟
یومِ خواتین صرف گلابی رنگ، گفٹ، رعایتی آفرز، یا سوشل میڈیا پر دلکش پیغامات کا نام نہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ خواتین کو حقیقی معنوں میں مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے اب بھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کو ایک میلے کے بجائے ایک سنجیدہ موقع کے طور پر دیکھیں، جہاں خواتین کے حقیقی مسائل، ان کے خواب، ان کی جدوجہد اور ان کے حقوق پر عملی کام کیا جائے، نہ کہ صرف رسمی نعروں اور اشتہارات تک محدود رہا جائے۔
یہ دن صرف خوشی منانے کا نہیں، بلکہ سوچنے، سوال کرنے اور آگے بڑھنے کا ہے— ایک ایسی دنیا کی طرف جہاں خواتین کو حقیقی معنوں میں آزادی، مساوی حقوق، اور عزت حاصل ہو۔
تو، کیا ہم واقعی یومِ خواتین کا مطلب سمجھ رہے ہیں؟ یا پھر ہم بس اس مصنوعی جشن کا حصہ بن چکے ہیں؟
بالکل! اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض خواتین بھی اس جشن کے دکھاوے میں برابر کی شریک ہیں۔ بہت سی خواتین جو خود ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کر سکتی ہیں، وہی سماج کی کھوکھلی روایات کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
یومِ خواتین پر بڑی بڑی تقریبات، سیمینار، اور گلاب کے پھولوں کی تقسیم تو نظر آتی ہے، لیکن کیا یہی اصل مسئلے کا حل ہے؟ خواتین کے حقوق کی بات کرنے والی کئی خواتین خود بھی ان رسومات میں شامل ہو جاتی ہیں، جو محض رسمی طور پر اس دن کو منا کر اپنی “ذمہ داری” پوری کر لیتی ہیں۔ وہ خود بھی اس نظام کا حصہ بن جاتی ہیں جو عورت کے حقیقی مسائل پر بات کرنے سے کتراتا ہے۔
ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کو خود اپنی ذات کے حصار سے باہر نکل کر اپنی حقیقی طاقت کو پہچاننا نہیں چاہیے؟ کیا انہیں صرف رسمی جشن کا حصہ بننے کے بجائے عملی طور پر جدوجہد نہیں کرنی چاہیے؟ یہ خوشنما نعروں اور گلابی رنگ کی تقریبات سے آگے بڑھ کر خوداحتسابی کا وقت ہے۔ اگر خواتین واقعی تبدیلی چاہتی ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس نمائشی جشن کی حقیقت کو پہچاننا ہوگا اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا، محض کسی ایک دن نہیں، بلکہ ہر دن، ہر محاذ پر۔
اگر ہندوستان کی تاریخ کے اوراق پلٹیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ یہاں صدیوں سے عورت مظلومیت، تشدد اور ناانصافی کا شکار رہی ہے۔ نسلی تعصب، ذات پات کا بھید بھاؤ، جہالت اور دقیانوسی روایات نے اسے ایک کمتر مخلوق کے درجے پر لاکھڑا کیا۔ تعلیم، حقوق، اور برابری سے محروم رکھا گیا، حتیٰ کہ بعض اوقات جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا۔
مگر اسی سرزمین پر کچھ روشن چراغ بھی جلے، جنہوں نے اس تاریکی میں روشنی کی شمع جلانے کی ہمت کی۔ 1848 میں، ساوتری بائی پھولے نے فاطمہ شیخ اور ان کے بھائی عثمان شیخ کی مدد سے دبے کچلے طبقات کی عورتوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے۔ فاطمہ شیخ نے اس مشن میں نہ صرف بھرپور ساتھ دیا بلکہ اپنا گھر بھی اس مقصد کے لیے وقف کر دیا تاکہ عورتیں علم کے نور سے منور ہو سکیں، اپنے حقوق سے آگاہ ہو سکیں۔ لیکن یہ راہ کانٹوں سے بھری تھی۔ انہیں گلیوں میں پتھر مارے گئے، سماج کی لعنتیں سننی پڑیں، مگر وہ نہ رکیں، نہ جھکیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان نے اپنی پہلی خاتون معلمہ کے طور پر ساوتری بائی پھولے اور پہلی مسلم خاتون معلمہ کے طور پر فاطمہ شیخ کا نام تاریخ میں رقم کیا۔
یہی بے باکی اور مزاحمت کا رنگ بیسویں صدی میں عصمت چغتائی کی تحریروں میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے عورت کی جنسیت، متوسط طبقے کی گھٹن اور سماجی ناانصافیوں پر قلم اٹھایا۔ ان کے الفاظ گواہ ہیں کہ کس طرح انہوں نے ہر پابندی، ہر دھمکی اور ہر مقدمے کے باوجود سچ کو کاغذ پر اتارا۔ سماج نے انہیں طنز و تنقید کی صلیب پر لٹکایا، مگر وہ ڈریں نہیں۔ اسی قلم کی قیمت انہیں ایک طرف بدنامی کی صورت میں چکانی پڑی تو دوسری طرف حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا۔
پھر وہ لمحہ بھی آیا جب کلپنا چاؤلہ نے خلا کی وسعتوں میں اپنی شناخت رقم کی۔ ایک ہندوستانی نژاد خاتون خلا باز کے طور پر، انہوں نے ثابت کیا کہ عورت کی بلند پروازی صرف خواب نہیں، حقیقت بھی ہے۔ ان کی خدمات نے عورت کے امکانات کو زمین سے آسمان تک پھیلا دیا، لیکن اس سفر میں انہوں نے اپنی جان کی قربانی بھی دے دی۔
مگر افسوس، کہ ہم ان قربانیوں کو بھول چکے ہیں۔ آج بھی عورت عدم تحفظ، جبر اور ظلم کی چکی میں پس رہی ہے۔ کبھی وہ اسپتال میں ایک معالج کے طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے درندگی کا شکار ہو جاتی ہے، تو کبھی پانچ سالہ معصوم اسکول جاتے ہوئے ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ تین ماہ کی ننھی کلی بھی اپنے ہی گھر میں درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ اور یہ سب اس زمانے میں ہو رہا ہے جب ہم فخریہ انداز میں یومِ خواتین منا رہے ہیں!
یہ کیسا جشن ہے؟ یہ کیسی خوشی ہے؟ جب عورت کی عزت کا خون ہر گلی، ہر شہر میں بہایا جا رہا ہو، جب اس کے خواب مسل دیے جائیں، اس کی آواز دبا دی جائے، اور اس کے وجود کو ہی کچل دیا جائے— تب صرف ایک دن اسے یاد کرنا، کیا اس کی توہین نہیں؟
میں اپنی بات پروفیسر، شاعر، ادیب غضنفر علی کی نظم کے ان مؤثر اشعار پر ختم کرتی ہوں، جو اس سماج کی کھوکھلی حقیقت پر آئینہ رکھتے ہیں:
تمہارا دن مناتے ہیں
غضنفر علی
چلو آؤ تمہارا دن مناتے ہیں
تمہاری ذات پر ایمان لاتے ہیں
تمہارے سامنے اقرار کرتے ہیں
کہ ہم نے مدتوں تک تم کو کچلا ہے
تمہیں مسلا ہے، روندا ہے
تمہیں لوٹا ہے، کوٹا ہے
تمہیں مارا ہے، پیٹا ہے
تمہیں نوچا، کھسوٹا ہے
تمہارے پاؤں میں زنجیر ڈالی ہے
تمہارے ہونٹ سی ڈالے
تمہاری سوچ کو مفلوج کر ڈالا
تمہاری عقل پر بھی رکھ دیے پتھر
تمہارے جذبۂ دل کو کچل ڈالا
مگر اب ہر سال تمہیں یاد کرتے ہیں
تمہارے نام پہ محفل سجاتے ہیں
تمہیں گل پیش کرتے ہیں
گلوں کی پتیوں سے نام لکھتے ہیں…
کیا یہی کافی ہے؟
کیا بس یہی کافی ہے؟