غزل
دل سے اک خواہش بے تاب لگا دیتا ہے
پھر وہ پابندیٔ آداب لگا دیتا ہے
لفظ بے صوت ہوں لیکن ترا کاتب لہجہ
میرے اطراف میں اعراب لگا دیتا ہے
پہلے کہتا ہے کہ افلاک سے آگے دیکھوں
پھر کہیں بیچ میں مہتاب لگا دیتا ہے
ہر وہ الزام جو دشمن نہ لگائے مجھ پر
وہ مرا حلقۂ احباب لگا دیتا ہے
رات دیتا ہے تھکے دن کو تھپکنے کے لئے
پھر تعاقب میں کوئی خواب لگا دیتا ہے
احمد سلمان
Load/Hide Comments