نعت
پھر یاد جو آئی ہے مدینے کی بلانے
کیا یاد کیا پھر مجھے شاہ دو سرا نے
ایسا ہے تو پھر فکر ہے کیوں زاد سفر کی
کیا غیب کے کھل جائیں گے مجھ پر نہ خزانے
میں غلبۂ اعدا سے ڈرا ہوں نہ ڈروں گا
یہ حوصلہ بخشا ہے مجھے شیر خدا نے
تھا شب کو جو میں حاضر دربار محمد
چھوڑا ہے اثر دل پہ عجب اس کی فضا نے
حسرتؔ مجھے اس جان جہاں سے ہے تعلق
سمجھے کہ نہ سمجھے کوئی جانے کہ نہ جانے
حسرت موہانی
Load/Hide Comments