ایک اعزاز معتبر ہوا

ibnesafiaward
Sitara e Imtiyaz
  • مرزا صہیب اکرام 
  • سب میرؔ کو دیتے ہیں جگہ آنکھوں پر اپنی 
  • اس خاک رہ عشق کا اعزاز تو دیکھو
  •  
  • ستارہ امتیاز کو بلند کر دیا گیا جب وہ جاسوسی ادب کے بے تاج بادشاہ ابن صفی کے گلے کی زینت بنا. ایوارڈز ، اعزازات ، تمغے ، میڈل القابات ہمیشہ سے دنیا کے مختلف شعبوں میں نمایاں کام کرنے والے افراد کو دیے جاتے رہے  ہیں . یہ اعزازات،  یہ عزت افزائی  فن کو سراہنے کا ایک انداز ہوتا ہے . ان چیزوں سے ان افراد کا قد و قامت میں اضافہ بھی ہوتا ہے اور یہ ایوارڈز ان کے کام پر ایک طرح سے مہر بھی ثبت کرتے ہیں. لیکن بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس ایوارڈ اعزاز یا میڈل کے ساتھ ان کا نام لگتا ہے  اس اعزاز کا قد بلند ہوتا ہے اور وہ میڈل یا تمغہ اس ہستی کو پا کر جی اٹھتا ہے جیسے سال رواں میں ابن صفی کو ادب کے حوالہ سے ملنے والا ستارہ امتیاز کا اعزاز۔
  • جب اردو شاعری کے باوا آدم مرزا غالب کو شہنشاہ بہادر شاہ ظفر ریاست ہندوستان کی جانب سے دبیر الملک ، نجم الدولہ اور نظام جنگ کے خطاب سے سرفراز کرتے ہیں تب دراصل غالب یا اس کا کلام نہیں بلکہ اعزاز دینے والا بادشاہ اپنا نام تاریخ کے ادبی پنوں پر رقم کر جاتا ہے . دنیا کے قیام سے آج تک بادشاہ ، شہنشاہ تو کئی آئے اور کئی گزر گئے لیکن غالب تو اردو ادب میں بس ایک ہی آیا تھا . اس لئے اس کے ساتھ جڑا ہر لفظ ادب دوست افراد کے لئے معتبر ہے۔
  • جب فلم فئیر ایوارڈ کی مورتی کو شہنشاہ جذبات ، مقبولیت اور شہرت کے دیوتا اور فن اداکاری کی معراج دلیپ کمار اپنے ہاتھوں سے چھوتے ہیں تبھی یہ دیوی مقدس ٹھہرتی ہے اور فلم فیئر ایوارڈ آنے والوں کے لئے نشان منزل بن جاتا ہے
  • جب لفظ کرکٹ کو معنی مطالب اور مفاہیم ودیعت کرنے والے کرکٹ کی تاریخ کے جد امجد ، عظیم بلے باز ڈان بریڈ مین کو سر کا خطاب ملتا ہے اس دن لفظ سر کا سر فخر و انسباط سے بلند ہو جاتا ہے . اور یہ خطاب اپنے مقام کا صحیح تعین کر پاتا ہے .
  • ادب کے میدان میں اپنا قد اپنے قلم سے بلند کرنے والے گیربیل گارشیا مورکیز کو جب تنہائی کے سو سال جیسا شہکار تخلیق کرنے پر نوبل پرائز ملتا ہے تو اس دن حقیقی معنوں میں نوبل نوبل بن جاتا ہے. نوبل کے ہونے سے گیربیل کے قلم کے عروج کو فرق نہیں پڑ سکتا تھا لیکن بنا گیربیل کے نوبل ہمیشہ جھکا سا رہتا ، کیونکہ حق دار کے پاس حق نہ پہنچے تو وہ ادھورا رہتا ہے۔ 
  • اداکاری کے سمندر کا سب سے بڑا اور گہرا غوطہ زن جب آسکر کو تھامنے سے انکار کرتا ہے تب دنیا جان پاتی ہے کہ مارلن برانڈو آسکر بنا ادھورا نہیں ہے لیکن اگر آسکر کو بلند ہونا ہے کہ اسے مارلن برانڈو جیسے اداکاری کے آکاش سے بلند اور سمندر سے گہرے کلاکار کے ہاتھوں تک جانا ہوگا ، وگرنہ یہ ایوارڈ اپنی توقیر کھو دیں گے.
  • اسی طرح اردو جاسوسی ادب کے بانی ، تجسس،  پر اسراریت کو الفاظ سے نقش عطا کرنے والے اپنے فن کے امام ابن صفی کو جب حکومت پاکستان نے ان کے وصال کے 40 سال بعد ستارہ امتیاز سے نوازا تو در حقیقت یہ عزت یہ اعزاز یہ توقیر یہ قدر ابن صفی کو نہیں ملی بلکہ یہ ستارہ امتیاز کو حاصل ہوئی ہے .
  • ابن صفی کا حقیقی امتیاز ، حقیقی تمغہ ، سچا میڈل ان کا وہ قاری ہے جو آج نسل در نسل ان کے میکدہ  قلم سے اپنی علمی و ادبی پیاس بجھا رہا ہے .
  • میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں 
  • جو بھی میں کہتا گیا حسن بیاں بنتا گیا 
  • ابن صفی نے  جب 1952 میں جاسوسی دنیا میں قدم رکھا تو ناقدین اردو  ادب نے ان کے قلم اور تحریر کو بنا پڑھے اور پرکھے ہی ادب عالیہ سے نکال باہر کیا. پھر عمران سیریز جب  1955 میں منصفہ شہود پر آئی اس کے بعد ابن صفی کے  نقال ہزاروں اور چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں ہو گئے لیکن ادب کے کرتا دھرتا جو اس دور میں اردو کے نقاد تھے انہوں نے ابن صفی کی لافانی تحریروں کو عوامی ادب (پاپولرفکشن) قرار دے کر طویل مدت تک اپنی جانب سے ابن صفی کے قلم کا راستہ روکنے کو کوشش جاری رکھی.
  •    سمندر کے آگے بند باندھنے کی خواہش کرنے والے احمق کہلاتے ہیں. آندھی کا رخ بدلنے کی تمنا بس دیوانے کا خواب ہو سکتی ہے. سورج کی روشنی روکنے کی کوشش کم عقلی کہی جاتی ہے . اس لیے جب ابن صفی کے قلم کی روشنی اس کی رفتار کو نقادوں اور نقالوں نے اپنے اپنے وقت میں روکنا چاہا تب تب ان کو اردو کے قاری نے وہ سبق دیا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا.
  • ابن صفی نے مشکلات کے باوجود الماری سے تکیہ پر ایسی جگہ بنائی کہ تین نسلیں بدل گئیں لیکن ان کا تحریر کردہ حقیقی ، سچا اور عوامی ادب  آج بھی کسی نہ کسی قاری کے تکیہ کے نیچے موجود ہے.
  • ابن صفی نے اپنے زمانے کے قاری اور آنے والے دور کے قاری کے سامنے صرف جرم و سزا کے قصے اور مزاح کے اعلی و نادر نمونے پیش نہیں کیے. نا ہی اپنے قاری کو صرف  فکشن کی معراج سے روشناس کروایا ، بلکہ انہوں نے انسان کو انسان کے دکھ دکھائے ،انہوں نے اردو ادب کے قاری کو ماضی حال اور مستقبل کے دور کا سفر کروایا . ان کے لازوال قلم سے قارئین ادب نے دنیا جہاں کے مسائل ہی نہیں جانے بلکہ ان کے سد باب کی راہ بھی پائی.
  • ابن صفی نے اردو ادب میں جاسوسی کی بنیاد رکھی.ان کے ہاں اتنی مکمل اور جزئیات کے ساتھ جاسوسی پڑھنے والوں کو ملی جو اس سے قبل زبان اردو میں نہیں تھی. وہ جاسوسی ادب کے پہلے آدمی تھے کیونکہ ان کا انداز تحریر جاسوسی ادب کی معراج قرار پایا تھا۔ ان کے عروج کے دور میں اور بعد از رحلت بہت سے لوگوں نے جاسوسی ادب پر طبع آزمائی کی لیکن زبان و بیان کا جو مزاج ابن صفی کی تحریروں سے بن چکا تھا اس پر اس کے بعد کوئی دوسرا رنگ نہ چڑھا.ابن صفی اپنے فن کے امام تھے یہ سبھی نے مانا لیکن وہ اس صنف کا آخیر بھی تھے یہ مسلہ ادب کے قاری کو بہت بعد میں سمجھ آیا .
  • دہائیوں تک ابن صفی کو بیسٹ سیلر قرار دے کر غیر معیاری سمجھا جاتا رہا. لیکن وقت کی دھول سے جو چہرہ سب سے صاف اور شفاف نکلا وہ انہی کا تھا. ان کا قلم قدامت و جدیدیت کا حسین امتزاج تھا . ان کے ناولوں میں زبان کی روانی ، شیریں بیانی ، تازگی و شگفتگی اس قدر گھلی ہوئی تھی کہ آج تک وہ نسیم سحر محسوس ہوتی ہے .
  • ستارہ امتیاز آج ان چہروں پر زناٹے دار طمانچہ ہے جو جاسوسی کی صنف کو ادب ماننے سمجھنے سے ہمیشہ پہلو تہی کرتے رہے . بلاشبہ یہ جاسوسی ادب لکھنے والوں کے لئے بوسیدگی کے ماحول میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے .اس  اعزاز سے وہ بیانیہ جو 100 سال سے جاسوسی ادب کے خلاف جاری تھا اور جسے پہلے ابن صفی نے قلم کی نوک سے چھلنی کیا تھا آج اس اعزاز نے مروجہ طریقے سے پاش پاش کر دیا ہے .
  • ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد 
  • فیضؔ گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے 
  • ابن صفی جاسوسی ادب کے معمار ہیں ان کے قلم کی عظمت کا مینار ہر اعزاز و امتیاز سے بلند و بالا ہے لیکن ان کے بعد ان کے نقش پر چل کر بہت سے ادب پرور افراد نے قلم کی حرمت کا پاس رکھنے کی ہر ممکن سعی کی ہے. جن کا سارا کام ادبی بھی ہے اور اصلی بھی جو سرقہ کی جگہ خون جگر سے ادب کی خدمت کرتے رہے ہیں . اب ابن صفی کو اعزاز ملنے کے بعد یقین و امید واثق ہے کہ کئی دوسرے حقدار جو شاید افتاد زمانہ کی نظر ہو جاتے . اب کسی دور میں حکومتیں ان کو ضرور یاد رکھیں گی  یہ اس دور کا تقاضہ بھی اور اہم ضرورت بھی ہےکہ ادب کو صنفوں میں بانٹنے کی جگہ مختلف انداز و بیان کو تسلیم کیا جائے اور حوصلہ افزائی کرکے اردو کو پہنچ کو مزید وسعت دی جائے۔
  • ابن صفی اپنے فن کے پہلے اور آخری انسان تھے . اب جاسوسی ادب کے حوالہ  سے ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے وہ پہلے آدمی ضرور ہیں لیکن خدا کرے کہ آخری نہ ہوں بلکہ ان کے نقش پا پر چل کر بہت سے ادب سے محبت کرنے والے مصنفین بھی یہ اعزاز حاصل کریں . تاکہ حق حق دار تک پہنچے۔
  • اگر ابن صفی اور ان جیسے حقیقی ادیب اعزازات سے محروم رہیں گے تو یہ اعزاز اپنی قدر و منزلت ایک دن مکمل طور پر کھو دیں گے. ان ایوارڈز سے ابن صفی کا قلم اونچا نہیں ہوگا لیکن بعد والوں کی نظر میں اعزاز بلند ضرور ہوگا .
  • وہ مصنف جس نے صدیوں کے قصے ، نسلوں  کے دکھ اور زمانوں کا نچوڑ اپنے قاری کو گھول کر پلا دیا،  اردو ادب اس عظیم مصنف کا ہمیشہ احسان مند رہے گا اور ہر اعزاز اس دن ہی عزت پائے گا جب وہ اپنے مقام صفی پر آن پہنچے گا .
  • زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا 
  • سخن کدہ مری طرز سخن کو ترسے گا