“سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” کی تقریب رونمائی

” سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” کی تقریب رونمائی کا احوال میری زبانی
از
مرزا صہیب اکرام

محترمہ تبسم حجازی و مرزا صہیب اکرام کی تنقیدی و تحقیقی کتاب ” سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” ابن صفی کا رسم اجراء اور تبصرے
ابن صفی میری اور محترمہ تبسم حجازی صاحبہ کی مشترکہ پسند ہیں وہ اوائل عمری سے آج تک ابن صفی کی قاری اور شیدائی رہی ہیں ۔ میں قدرے دیر سے ابن صفی تک پہنچا لیکن آج ابن صفی کے بنا خود کو ادھورا تصور کرتا ہوں۔
تبسم حجازی صاحبہ اور میں نے کئی سال مسلسل پڑھنے کے بعد ایک سال کی محنت سے ” سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” کے نام سے جاسوسی کے شہنشاہ ابن صفی کے فن کا اپنے انداز میں جائزہ لیا۔ ہندوستان میں یہ کتاب اسماک پبلیکشنز کی تحت شائع ہوئی اور پھر اس کے بعد پاکستان میں اٹلانٹس کے تحت شائع ہوئی۔اسی طرح یہ کتاب ایمزان پر بھی قارئین کے لیے دستیاب ہے ۔
اسماک پبلیکشنز کے روح رواں محترم اطہر کلیم اور میں نے مل کر ہندوستان میں کتاب کی تقریب رونمائی اور اجرا کا سوچا اور محترمہ تبسم حجازی جو امریکہ سے چند روزہ سفر پر انڈیا پہنچی ہوئی تھیں ان کے اس وزٹ سے فائدہ اٹھا کر ایک تقریب انعقاد کرنے کا سوچا ۔
میں پاکستان میں ہونے کی وجہ سے تقریب کا حصہ تو نہیں بن سکا لیکن لائیو اسٹریمنگ کی وجہ سے لمحہ بہ لمحہ خود کو تقریب کا حصہ محسوس کیا ۔
تبسم حجازی اور میری مشترکہ تصنیف “سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی، ابنِ صفی” کا رسمِ اجراء مورخہ 12 ڈسمبر 2021 بروز اتوار بمقام کوثر اکیڈمی، ہاشمی منزل اسری نگر ناندیڑ (مہاراشٹرا) میں عمل میں آیا. ماہنامہ اقراء اور فروغ اردو فورم ناندیڑ کے اشتراک سے منعقد رسم اجراء کی اس تقریب کی صدارت محترم ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین (ادیب و مصنف متعمد انتظامی کمیٹی مدرسہ مدینتہ العلوم ناندیڑ) نے کی. مہمانان خصوصی محترم جناب محمد تقی صاحب (مدیر روزنامہ ورق تازہ ناندیڑ) محترمہ تبسم حجازی صاحبہ (امریکہ مہمانِ اعزازی، مصنفہ) جناب ڈاکٹر ارشاد احمد خان صاحب (صدر شعبہ اردو NSB کالج ناندیڑ) جناب ڈاکٹر سید نورالامین صاحب (شاردا کالج پربھنی) و مقامی و بیرونی مقالہ نگاروں و دیگر ادب نواز احباب کی موجودگی میں ایک پروقار تقریب عمل میں آئی۔ تقریب کی نظامت ڈاکٹر شیخ علیم اسرار نے کی.
اس تقریب کی ابتدا تلاوت قرآن پاک (ڈاکٹر عبدالعلیم) و نعت نبی صل اللہ (شیخ افراز صاحب) سے عمل میں آئی صدر تقریب و مہمانان خصوصی و صاحب کتاب و مقالہ نگاران کا استقبال شال پوشی و گل پوشی کے زریعہ ماہنامہ اقراء و فروغ اردو فورم کے ذمہ داران نے کی.
کتاب کی رسم اجراء کی نشست کے افتتاحی کلمات و غرض و غایت محترم ڈاکٹر ارشاد احمد خان (صدر فروغ اردو فورم ناندیڑ) نے پیش کی. محترم جناب کلیم اطہر انصاری (مدیر. برقی رسالہ اقراء) نے اپنے رسالہ کا تعارف و کتاب کے تدوین و طباعت پر روشنی ڈالی.
مقامی و بیرونی شہر کے مختلف مقالہ نگاران نے اپنے تقاریر و اظہار خیال کرتے ہوئے صاحب کتاب و ابن صفی کے ناولوں اور ان کے کردار، دیگر تصنیف کردہ تصانیف پر مقالہ جات کو پیش کیا.
جناب محترم شاہد جمال صاحب (ریسرچ اسکالر، جے این یو دہلی) نے کتاب سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی.. ابن صفی.. مصنفہ محترمہ تبسم حجازی (امریکہ) اور میری مشترکہ تدوین کردہ کتاب اور ہماری شخصیات پر سیر حاصل تبصرہ مقالہ کے طور پر پیش کیا..
جناب سید واصل حسینی ( ابن صفی فینز کلب ترجمان کانپور) نے صاحب کتاب محترمہ تبسم حجازی صاحبہ کا شخصی تعارف اور ابن صفی فینز کلب کی کارکردگی سے دنیا بھر میں موجود ابن صفی کے قاری کے مضامین و آراء اور تجاویز کو جوڑکر ایک گروپ سے منسلک کیا.
جس کا جدید قلمکاروں میں ابن صفی کے ناولوں اور تحریر دلچسپی پیدا کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں جس کا نتیجہ اس جدید مصنفین کی کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا. اسی کے ساتھ انھوں نے ابن صفی فینز کلب کی عرض و غایت کو پیش کیا.
محترم جناب ایس ایم حسینی (لکھنؤ) نے “سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی” پر اپنا مقالہ پیش کیا اور کتاب کی خوبیوں و خامیوں پر سیر حاصل تبصرہ کیا.
صاحب کتاب و اعزازی شخصیت محترمہ تبسم حجازی صاحبہ(امریکہ) نے اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ ابن صفی (شاعر، ادیب ،مصنف)ایک ایسے قلمکار ادیب پیں جن کی جاسوسی ادب کی تحریروں کا جادو آج کے دور میں بھی اسی ذوق و شوق اور دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے اسی شوق نے مجھے بھی قاری سے مولف بنا دیا. کتاب “سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی” ، میں ابن صفی کے ناولوں اور ان کرداروں اور ان کی اسلوب نگاری و منظر کشی کے ساتھ جاسوسی ادب کی تاریخ و ناول نگار کی فن و شخصیت کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے.ساتھ ہی ابن صفی کی شخصیت اور فن کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے اس کتاب میں مرزا صہیب اکرام کے مضامین و تحقیقی مواد کے مضامین بھی شامل کتاب ہیں۔ محترمہ نے اس کتاب سے متعلق اپنی کاوش و احساسات اور تحقیقی مواد کا بڑی خنداں پیشانی سے اظہار فرمایا.
تقریب کے دوران شیخ علیم اسرار (جواں شاعرو رکن اردو فورم ) نے محترمہ تبسم حجازی پر تحریر کردہ توشیحی نظم (سپاس نامہ) کو فروغ اردو فورم ناندیڑ کی جانب تحفتاً پیش خدمت کی گی اور جس کو عیلم اسرار نے پڑھ پر سنایا جس کو سامعین نے بہت داد و تحسین سے نوازا.
ڈاکٹر سید نور الامین (شاردا کالج پربھنی) نے اپنے اظہار خیال میں صاحب کتاب کو کتاب کے اجراء پر دلی مبارکباد پیش کی.. اور کہا کہ اس کتاب سے جدید اسکالر و ادب کے پڑھنے والے طلبہ کو بہت فیض یابی ہوگی. محترم محمد تقی صاحب (مدیر ورق تازہ) نے اپنے تاثرات کا اظہار فرماتے ہوئے فرمایا کہ ابن صفی کے ناولوں اور ان کی دیگر تصانیف کو ساٹھ کے دہے سے لے کر آج بھی ہر طالب علم و قاری نے پڑھا ہے ابن صفی کی تحریر و نثر اور ناول کو پڑھنے والا ایک مخصوص پڑھا لکھا طبقہ بڑی بے چینی سے انتظار کرتا تھا. اس عہد میں مختلف موضوعات پر مبنی سماجی، سائنسی، اور ادبی رسالے، اخبارات، و جراءید کو پڑھنے والے قاری کی تعداد تھی آج کے برقی رسائل کے دور میں وہ قاری نظر نہیں آتے. انھوں نے صاحب کتاب مصنفہ کو ان کی کتاب کی اجراء پر دلی مبارکباد پیش کی اور اس کو پڑھ کر تبصرہ کرنے کا تیقن دیا.
آخر میں صدر جلسہ ایڈوکیٹ محمد بہاءالدین صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں موصوفہ تبسم حجازی اور مجھے کتاب کے اجراء پر دلی مبارکباد پیش کی اور کہا انھوں نے ابن صفی کو بحیثیت شاعر، صحافی، ادیب اور ناول نگار انکے کلام، نثر اور ناول و اخبارات کے اداریہ کو بڑے شوق و دلچسپی سے پڑھا ہے. انھوں نے اپنے خطاب کے دوران عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے کرنل فریدی و کیپٹن حمید و دیگر کرداروں کے اقتباس و مکالے کو اپنے انداز سے پیش کیا. ابن صفی کی اسلوب نگاری، منظر کشی کی پیشکش اس عہد کی جدید ٹیکنالوجی کے و اجزائے ترکیبی سری ادب، جاسوسی ناول و دیگر کتب کا مطالعہ سے نوجوان و بزرگ قاری اپنے اپنی زبان و ادب کو سیکھا اور اپنی تحریری و تقریری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہے ابن صفی کے نثر نگاری و صحافت نگاری کو پڑھ کر اس عہد سے لیکر آج تک کئی قاری اردو ادب کے صحافی، ادیب، شاعر، مصنف، قلم کاری کے میدان میں اپنا لوہا منواکر اپنی ادبی، شاعری کے کلام میں نام روشن کیا.
اس پر وقار تقریب میں دیگرمہمان صحافی، شاعر، ادیب و محبان اردو و صاحب اعزاز کے علاوہ محترم جناب فیض حجازی (ممبئی) جناب ڈاکٹر محمد عبدالرافع ،پروفیسر مظہر الدین صاحب (ڈائیریکٹر وسنت راو کاڑے سینیئر کالج ناندیڑ) جناب مظفر الدین سوداگر (رکن ثقافتی کمیٹی اردو گھر ناندیڑ) ڈاکٹر انیس الرحمن انیس(سر سید اسکول ناندیڑ) ، ڈاکٹر عبدالعلیم صاحب (مدرس مہا نگر پالیکا ناندیڑ) جناب سید معروف حسینی (ایڈیٹر روزنامہ بول چال) ایڈوکیٹ جناب معین الدین راشد و دیگر شرکاء اردو ادب کی کثیر تعداد موجود تھی. اس نشست کی نظامت شیخ علیم اسرار (شاعر) نے بڑی جان فشانی و پر انداز سے نبھائی اور محترم جناب عبدالملک نظامی صاحب (ماہر تعلیم و ادیب) کے شکریہ پر نشست کا اختتام کا اعلان عمل میں آیا.
“سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” تبسم حجازی اور میری کی مشترکہ کاوش ہے جس میں ہم نے ابن صفی کے فن کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لینے کی کوشش ہے ۔ کتاب میں شامل افراد کی رائے ابن صفی کی عظمت کا اعتراف اور ہماری محنت کا صلہ ہے جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے ۔
یہی کہوں گا کہ تبسم صاحبہ اور مرزا صہیب اکرام نے عمدہ کام کیا ہے ۔ اور ابن صفی کی تحریروں پر جو مضامین لکھے ہیں اور تجزیہ کیا ہے وہ تعریف کے قابل ہے ۔ میری دعائیں کتاب اور مصنفین کے ساتھ ہیں۔ اللہ آپ کو کامیاب کرئے۔
ایچ اقبال
میرے لئے فخرواعزاز کی بات ہے کہ میں ایک ایسی تحقیقی کتاب پر چند الفاظ لکھ رہا ہوں جو ابنِ صفی کے دو نوجوان پرستاروں کے قلم سے ان کی محبت میں معرضِ وجود میں آئی ہے
( احمد صفی فرزند ابن صفی )
محترمہ تبسم صاحبہ اور مرزا صہیب اکرام کی کتاب اک صنف کی تاریخ لئے ہوئے ہئے مغربی اور مشرقی مصنفوں کے عصری جائزے کے ساتھ ۔۔۔۔ایک اچھّی کوشش.
( ابرار احمد فرزند ِ ابنِ صفی )
جو مسودہ محترمہ تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام نے ارسال کیا ہے وہ ابن صفی سے ان کا تعلق اور ان کی محبت ہے۔
یقینا بہت بڑا بہت اہم اور مشکل تحقیقی کام اس کتاب “سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی “کی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچا ہے ۔یہ کام ابن صفی سے محبت کا جنون حد تک ہونے کا اظہار بھی ہے اور ابن صفی کے جادو اثر قلم کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے ۔
میں سمجھتا ہو کہ یہ کتاب اردو ادب میں اپنی مسلمہ اہمیت اور حیثیت کو منوا لے گی۔مصنف کی بے لوث محنت اور محبت رنگ لائے گی۔ محققین نے اپنا نام ابن صفی کے نام سے جوڑ لیا ہے۔ سری ادب کا کون سا گوشہ ہے جو رہ گیا ہے۔
یہ کتاب ” سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی”ایک سنگ میل کی حیثیت کی حامل ہے-
مشتاق احمد قریشی
سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی” ابن صفی کی تحریروں کا ادبی اور تحقیقی تجزیہ، میری نظر سے گذری۔بہت خوشگوار حیرت ہوئی ابو پر اس سے پہلے بھی بہت سے محققین نے لکھا ہے مگر یہ کتاب اس لیئے منفرد ہے کہ اسے ابو سے محبت کرنے والے دو پرستاروں تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام نے لکھی ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ تحقیق کے تمام اُصولوں کو مدِنظر رکھا ہے۔ممدوح کی صرف تعریفیں نہیں کیں بلکہ قابلِ تنقید نکات بھی اُجاگر کیئے ہیں۔اس کتاب کے اور پہلو جس نے مجھے متاثر کیا وہ یہ ہے کہ ابو کے تخلیق کردہ کرداروں کی شخصیات سے ابو کی شخصیت کی خاکہ نگاری کی ہے۔
اپنے والد کے کام کی جو خصوصیات یہاں نمایاں ہوئیں وہ مجھے بھی نئی محسوس ہوئیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ بیشتر کتابیں خشک تنقیدی مضامین پر مشتمل ہوتی ہیں جن کو پڑھنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس کتاب میں مصنف کا طرزِ بیان ایسا ہے کہ دل کھنچتا ہے اور قاری پڑھتا چلا جاتا ہے۔
تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام کے لئیے صرف ہماری ہی نہیں بلکہ ابن صفی کے پرستاروں پر مشتمل ہمارے سارے خاندان کی دُعائیں شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو مزید طاقت عطا کرے آمین۔
دعاگو۔
ثروت اسرار صدیقی
لندن انگلینڈ
“سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی” جو کہ تبسّم حجازی اور مرزا صہیب اکرام کی کاوشوں کا نچوڑ ہے ۔اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس کے ابتدائی حصے میں ابنِ صفی کے ہر پہلو ہائے حیات پر خوب خوب روشنی ڈالی گئی جس سے ہر گوشہ منوّر ہو گیا جبکہ انتہائی حصے میں ان کی تحریروں کا ادبی و تحقیقی جائزہ لیا گیا یہ سب ،کچھ اس انداز میں ترتیب دیا گیا کہ ستارہ امتیاز ابنِ صفی کی شخصیت کا کوئی گوشہ مخفی نہ رہ سکا۔سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی”
ابنِ صفی کی تحریروں کا ادبی و تحقیقی تجزیہ
کہیں بھی بہ طورِ حوالہ پورے اعتماد اور بے خوفی سے پیش کی جا سکتی ہے ۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے محرکین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے جاسوسی ادب کے لیجنڈری کے شایانِ شان کتاب شائع کر کے جاسوسی ادب کا حق ادا کر دیا ہے ۔
اعجاز احمد نواب
تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام کی تحریر کردہ کتاب ’’سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی‘‘ پڑھ کر 1995 میں لکھی اپنی مذکورہ بالا سطور بے اختیار یاد آگئیں۔ اور یہ اطمینان بھی قوی ہوا کہ راقم جن لوگوں کے انتظار میں تھا……….وہ آگئے ہیں …..اور بھرپور طریقے سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ابن صفی مرحوم سے میری ہی طرح عقیدت ہے۔ اور یہ صفی صاحب کا کمال تھا کہ ہر دور میں ایسے افراد رہے جو یہ سمجھتے رہے ہیں کہ صفی صاحب کو جیسا انھوں نے پڑھا اور سمجھا، ویسا شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔
یہ ہے وہ عوامی مقبولیت جس کی تمنا لیے ادب کے کئی ’’ثقہ ‘‘ حضرات یا ناخدا ترستے اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
’’سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی‘‘ ، ابن صفی مرحوم کی تحریروں کے ادبی اور تحقیقی جائزے پر مبنی ہے۔ ابن صفی ایک منفرد سماجی اور سیاسی مبصر،ابن صفی اور شعری مزاح، نسلوں کے دکھ کے راوی و دیگر کئی مضامین بھرپور نوعیت کے ہیں جن میں ابن صفی کے فن کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔
کتاب کے آخر میں تبسم صاحبہ کا انٹرویو نہایت اہم اور لائق مطالعہ ہے اور ان کی ابن صفی مرحوم سے عقیدت کا غماز ہے۔میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ابن صفی مرحوم کے فن اور شخصیت پر ایسی کئی کتابوں کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر ’’سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی‘‘ ، ابن صفی مرحوم کو خراج تحسین پیش کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے اور اس لحاظ سے منفرد بھی کہ اس کے لکھنے والوں میں خاتون تبسم حجازی صاحبہ کا تعلق انڈیا سے ہے اور دوسرے صاحب مرزا صہیب اکرام کا تعلق پاکستان سے ۔ گویا یہ دونوں کتاب دونوں جانب کی مشترکہ کوشش ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان پل بنے ہم سب کے ہر دل عزیز ابن صفی صاحب۔
راشد اشرف
تُو سمجھتا ہے کہ رشتوں کی دہائی دیں گے
ہم تو وہ ہیں ترے چہرے سے دکھائی دیں گے
ہم کو محسوس کیا جائے ہے خوشبو کی طرح
ہم کوئی شور نہیں ہیں جو سُنائی دیں گے
وسیم بریلوی کے یہ اشعار تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام کے نام جنہوں نے گلستانِ ادب کو ایک ایسے خوبصورت گُل سے نوازا ہے جس کی خوشبو سے اُردو دنیا ایک عرصے تک معطر رہے گی۔” سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ” یقیناً دبستانِ صفی میں ایک بیش بہا اضافے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ کتاب میں شامل موضوعات اور اِس کے مشمولات کو دیکھ کر اُن کی علمیت و ذہانت اور ابن صفی سے ان کی محبت و عقیدت کے ساتھ ہی ان کی محنت و مشقت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ ابن صفی کی تحریروں کا ادبی اور تحقیقی تجزیہ کوئی آسان کام نہیں ہے، یقینی طورپراس کے لیے تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام نے اپنے شب و روز کی فراغتوں کو قربان کیا ہوگا۔ بہت ساری لائبریریوں کی خاک چھانی ہو گی، مختلف ویب سائٹس کھنگالی ہوں گی، ابن صفی کے ناولوں کو ایک بار، دو بار اور کچھ ناولوں کو بار بار پڑھا ہوگا۔ کتاب میں ان کی یہ کوششیں صاف نظر آ رہی ہیں۔ انہوں نے اتنی خوبصورتی اور باریک بینی سے ابن صفی کی تحریروں کا تجزیہ کیا ہے کہ انہیں پڑھتے ہوئے ناولوں کا پورا پس منظر ذہن کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ کتاب تمام اردو قارئین کے لیے بالعموم اور ابن صفی کے مداحوں کے لیے بالخصوص بڑی اہمیت کی حامل ہے لیکن ان سے کہیں زیادہ یہ کتاب ناقدین ادب اور محققین کیلئے سود مند ثابت ہو گی۔
ہم عصر ادیبوں اور ناقدوں نے بھلے ہی انہیں(ابن صفی کو) وہ مقام نہ دیا ہو ، جس کے وہ مستحق تھے لیکن اُردو کے شیدائیوں نے انہیں تب بھی سر آنکھوں پر بٹھایا تھا اور آج بھی اُن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس کا واضح ثبوت تبسم حجازی کی یہ شاندار کتاب ہے۔
زیرِ نظر کتاب میں’جاسوسی ادب کی تاریخ‘ کے عنوان سے شامل مضمون میں نہایت تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے اس میں کئی ناولوں اور کئی سیریز کا بہترین تجزیہ کیا گیا ہے لیکن میں اگر اپنی ذاتی پسند کی بات کروں تو کرداروں کا تعارف بہت خوب ہے۔ ’ابن صفی سے متعلق ایک ادبی نشست‘کے عنوان سے اطہرکلیم انصاری نے تبسم حجازی سے جو باتیں کی ہیں، اس میں ایسے کئی سوالوں کا بہترین جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے ، جو عام طورپر ابن صفی سے متعلق لوگ کرتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی محنت ثمر آور ثابت ہوئی ہے۔
۳۵۰؍ صفحات سے زائد ’سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی‘ پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن میں مرزا غالب کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا کہ:
ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہئے اس بحرِ بیکراں کے لیے
قطب الدین شاہد
تبسم حجازی صاحبہ اور محترم مرزا صہیب اکرام کی کتاب کا مطالعہ شروع کیا اور پھر پڑھتا ہی چلا گیا۔ پاکستان سے شائع ‘‘دانش منزل’’،‘‘ سائیکو مینشن’’ ‘‘ رانا پیلیس’’، ‘‘ کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا ’’ اور ہندوستان سے شائع ‘‘ابن صفی مشن اور ادبی کارنامہ’’، ‘‘ابن صفی : فن اور شخصیت کے آئینے میں’’، نیز‘‘ فنگر پرنٹس (ابن صفی کی قلمی جولانیاں)’’ وغیرہ وغیرہ کتابوں کے بعد زیر نظر تحقیق (سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی ) کو ایک اچھا اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے جو ابن صفی سے ان کے پرستاروں کی لافانی عقیدت کا ایک نادر نمونہ بھی ہے۔ ابن صفی اور ان کی سری تخلیقات کے بارے میں ایک اہم حقیقت اب سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ ان کے ہم عصر ناقدین میں سے بیشتر سے بھی زیادہ ثقہ حضرات نے کبھی ان کو قابل اعتنا نہیں سمجھا تھا مگر نئی نسل اس نامور مصنف کی قدردانی اور عظمت کے اعتراف میں اپنے پیش روؤں سے آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کتاب کے ابتدائی الفاظ ہیں:
تبسم حجازی صاحبہ کا یہ جملہ ابن صفی کی عظمت اور تبسم صاحبہ کی علمیت کا ثبوت ہے ۔
’’یہ ۲۵۰ ؍ ناول صرف جاسوسی ناول ہی نہیں ہیں بلکہ چالیس کی دہائی سے لے کر ستر کی دہائی کی سیاسی اور معاشرتی تبدیلیوں سے متعلق ایک خوبصورت دستاویز بھی ہیں جو آنے والی نسلوں کو گذرے دور کی جھلکیاں بھی دکھاتی ہے اور لطیف انداز میں ان کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تبصرہ بھی مہیا کرتی ہیں۔‘‘
ادریس شاہجہان پوری
اس کتاب کی شکل میں تبسم حجازی صاحبہ اور مرزا صہیب اکرام نے ابن صفی کو جس خوبصورتی سے خراج پیش کیا ہے اس کی مثال بھی ابن صفی کی طرح نہیں مل سکے گی۔
اس لیے ان کو جتنا بھی سراہا جائے وہ کم ہوگا۔ مجھے نا صرف امید ہے بلکہ یقین بھی ہے کہ ابن صفی کے مداحوں کیلئے سری ادب کا پہلا اور “آخری آدمی” ایک نایاب تحفہ ثابت ہوگی ۔
صفی سرحدی
“سری ادب کا پہلا اور آخری آدمی” اردو زبان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے مصنف ابن صفی کی تحریروں کا ادبی و تحقیقی تجزیہ ہے ۔تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام کی یہ تصنیف موضوع کی انفرادیت اور تحقیق کے نقطہء نظر سے بےحد اہمیت کی حامل ہے ۔
اس تحقیقی کتاب نے جاسوسی ادب کی تاریخ اور مختلف مصنفین کا تذکرہ کرتے ہوئے ابن صفی کا ایک مقام بھی متعین کردیا ہے ۔
مختلف ناولوں اور سیریز کے تجزیئے اس خوبی سے کئے گئے ہیں کہ ان ناولوں کو بارہا پڑھنے کے باوجود ایک مرتبہ پھر پڑھنے کی خواہش جاگ اٹھی ہے ۔
کردار نگاری ابن صفی کی تحریروں کا خاصہ رہا ہے ۔تبسم حجازی اور مرزا صہیب اکرام مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے چند مشہور کرداروں کا منصفانہ تجزیہ پیش کیا ہے ۔
ابن صفی کے چاہنے والوں اور ان پر تحقیق کرنے والوں کے لئے یہ کتاب اس سے قبل شائع ہونے والی کتابوں میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔
اللہ کرے زور قلم ہو اور زیادہ۔
ناچیز
محمد حنیف
Ibnesafi.info