سفرِ حیدرآباد
سفرِ حیدرآباد
رخسانہ نازنین
حیدرآباد…… شہر نگاراں….. جس کی بنیاد ہی. محبت کی اینٹوں سے رکھی گئی. جس کے خمیر میں محبت اور وفا رچی بسی ہے. قلی قطب شاہ اور بھاگ متی کے عشق کی داستاں جس کے باعث یہ شہر آباد ہوا. یہ تاریخ کا وہ سنہرا باب ہے اور ایک انوکھی محبت بھری کہانی جو حقیقت کا روپ لے کر حیدرآباد شہر کے سانچے میں ڈھل گئی. قلی قطب شاہ نے اپنی محوب بیگم حیدر محل کے نام کی نسبت سے اسے حیدرآباد کے نام سے موسوم کیا. اور دعا کی کہ
میرے شہر کو لوگاں سے معمور کر
آج اس دعا کی قبولیت کا احساس اسلئے قوی ہے کہ حیدرآباد کی آبادی دن بدن اپنے سابقہ ریکارڈ توڑتی بڑھتی جارہی ہے. اس شہر نے ملک بھر کے باشندوں کو بنا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے اپنے دامن میں پناہ دے رکھی ہے. اور وہ امن و چین سے خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں…..
سفرحیدرآباد ہمیشہ سے میرے لئے ایک خوشگوار تجربہ رہا. بچپن کی یادوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے. جب بھی ابا اور امی حیدرآباد جانے کا ارادہ کرتے میں خوشی سے پھولی نہ سماتی. ابا امی شاپنگ کی لسٹ بناتے جس میں میں اپنی فرمائشیں درج کرواتی. جس میں لاڑ بازار سے نگوں کا جوڑا اور چوڑیاں ضرور شامل ہوتیں. اور مکسچر کھارا اور قلاقند.. … پیکنگ ہوتی. اس دور میں مہمان اپنے ساتھ اپنی ضرورت کی تمام اشیاء لے جاتے تھے. لہذا بستر بند اسٹور روم سے نکالا جاتا اور ضروری چادریں تکئے شال وغیرہ رکھ لئے جاتے. بیگ میں فاروقی منجن. صابن تولیہ. کنگھیاں. دوائیں… سوٹ کیس میں کپڑے. توشے دان اور پانی کے باٹل کی الگ تھیلی…. توشے میں قیمہ آلو میتھی کی بھاجی اور خستہ پراٹھے… امی کے ہاتھوں کا وہ ذائقہ جو کبھی بھول نہیں سکتی… ٹرین یا بس میں سفر ہوا کرتا. ٹرین کے سفر کا مزہ تو پوچھئے مت. تیزی سے بھاگتے دوڑتے مناظر… مونگ پھلی. جام. بیر .بھنے ہوئے چنے بٹانے. کھاری مری بیچنے والوں کا تانتا بندھا رہتا. اسٹیشن پہ ریل گاڑی چھک چھک کرتی دھواں خارج کرتی آکر رکتی تو میرا دل دھک دھک کرتا. سہم سی جاتی کہ اتنے سارے لوگوں کو جگہ کیسے ملے گی….. ؟ اف. وہ معصومیت… اکثر ٹرین لیٹ ہوتی تو ویٹنگ روم میں بیٹھ کر انتظار کیا جاتا. اور ویٹنگ روم مجھے بہت اچھے لگتے. صاف ستھرے سیلنگ فیان اور لکڑی کے صوفوں سے آراستہ… ان دنوں ہم جیسے متوسط طبقے کے گھروں میں زیادہ سیلنگ فیان اور عمدہ صوفے نہیں ہوا کرتے تھے. سفر کے دوران کئی اجنبی لوگوں سے دوستی ہوجاتی. پھر توشے دان سے لوازمات بھی شیئر ہوتے. میں ہر اسٹیشن کا نام پوچھا کرتی. ابا بتاتے جاتے. ظہیرآباد کوہیر وقارآباد…….. خیرت آباد آتا تو چلو اب حیدرآباد آجائے گا. دوپہر کو بیدر سےنکلی ٹرین رات 8 یا9 بجے حیدرآباد پہونچتی.. مغرب کے بعد میں کھڑکی سے ہٹ جاتی. اندھیرے سے خوف محسوس ہوتا. پھرتاریکی میں دور سے جھلملاتی روشنیاں دکھائی دینے لگتیں تو میں خوش ہو کر کہتی. آگیا حیدرآباد.. ابا امی مسکرانے لگتے. نامپلی اسٹیشن تو میرے لئے گویا ایک نئی دنیا تھا. سجے سجائے شوروم.. پلیٹ فارم سے دوسرے پلیٹ فارم پہ جانے کی سیڑھیاں. لاؤڈسپیکر میں ٹرینوں کے اوقات بتائے جانے کی آوازیں. قلیوں کی بھاگ دوڑ. یہاں وزن کروانے کی مشینیں نصب ہوتیں جن پہ وزن کروانے کے بعد ایک ٹکٹ نکلتا جس پہ کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا. جو جاننے کے شوق میں ضد کرکے میں ہر بار وزن کرواتی اور ساری ٹکٹیں جمع کرتی. عجیب عجیب شوق تھے.. اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی رکشا ران اور آٹو ڈرائیور منتظر ہوتے. بیدر میں آٹو نہ تھے اسی لئے میں آٹو لینے کو کہتی. اور میری فرمائش ٹالنا تو ابا کو کبھی منظور نہ تھا. خالہ جان کوٹلہ عالیجاہ میں مقیم تھیں. نامپلی سے کوٹلہ عالیجاہ کا فاصلہ کچھ طویل ہی ہے. راستے بھر میں سڑک کی دونوں جانب بڑی بڑی دکانیں اونچے اونچے سائن بورڈ س. نئی فلموں کے اشتہارات دیکھتی. چوراہوں پہ ٹریفک کا رکنا. ٹریفک پولیس کا سیٹی بجاتے ہی سب سواریوں کا دوڑنا. ڈبل بسیں…. کہیں اکا دکا تانگہ کبھی کبھی دکھائی دیتا. نیا پل. مدینہ بلڈنگ. پتھر گٹی. گلزار حوض. چارمینار سے ہو کر کوٹلے کی سڑک پہ آٹو آتا. کوٹلہ عالیجاہ کے دروازے سے گزر کر ہم اندھیری گلی میں پہونچتے. جہاں خالہ جان کا گھر تھا. دستک پہ دروازہ کھلتا اور مہمانوں کی آمد پہ سب خوشی سے کھل اٹھتے. میری خالہ زاد بہنوں سے بہت دوستی تھی. وہ مجھ سے عمر میں بڑی تھیں. میں انکی تقلید کیا کرتی. خالہ جان کا گھر دو منزلہ تھا. ہمیں اکثر بالائی منزل پہ ٹھرایا جاتا. چاندنی پہ کھلی ہوا اور آسمان میں چمکتے چاند تارے دیکھنے کا مزہ ہی اور تھا. حیدرآباد کے حدود میں داخل ہوتے ہی مجھے ایک عجیب سی خوشبو آتی. شاید گمان ہو لیکن واقعی خوشبو محسوس ہوتی جسے میں دل ہی دل میں حیدرآباد کی خوشبو کا نام دیتی. اور مسرور ہوتی.
قصہ مختصر کہ حیدر آباد کے سفر پہ جب بھی نکلتی ہوں. یادوں کا ایک ہجوم ہمسفر ہوتا ہے. بچپن سے آج تک حیدرآباد کا سفر زندگی کے سنگ سنگ چلتا رہا……پہلے علاج کی غرض سے سالہا سال قیام رہا….. پھر اس شہر نے ہمیشہ کے لئے مجھے اپنا لیا….. جیون کی ڈور بندھ گئی اس شہر کے باسی سے…..سسرال… وطن ثانی. سو آج بھی آئے دن آنا جانا لگا رہتا ہے. اس شہر کے لوگوں سےہمیشہ مجھے خلوص ملا. احترام عزت اور توقیر ملی. ہر رشتے کے حوالے سے… ہر دور میں. ….اسی خلوص کی بدولت میں حیدر آباد کے سفر و حضر میں فخریہ احساس سے دوچار ہوتی ہوں.
آج بھی سفر حیدرآباد میرے لئے پرلطف اور خوشگوار تجربہ ہوتا ہے. ایک کسک ضرور ہوتی ہے گھر سے نکلتے ہوئے کہ اب وہ دو ہستیاں نہیں جو نہایت آرزو ارمان سے مجھے حیدرآباد کے سفر پہ وداع کرتے تھے اور صرف چند دنوں کی جدائی پہ آبدیدہ ہوا کرتے تھے. اللہ حافظ ابا…. اللہ حافظ امی…… اب بھی بے ساختہ لبوں پہ یہ لفظ مچل اٹھتے ہیں لیکن پلٹ کر دیکھتی ہوں تو دل سے ہوک اٹھتی ہے. سونے دروازے پر ڈالا جاتا قفل یاد دلاتا ہے کہ وہ دونوں تو اپنے آخری سفر پہ روانہ ہوچکے. اب نہ کوئی وداع کرنے والا ہے نہ انتظار کرنے والا.!
زندگی اپنی ڈگر پہ چل پڑی ہے.. کار جیسے ہی اسٹارٹ ہوتی ہے صاحب زادے دعائے سفر بآواز بلند پڑھتے ہیں اور سفر شروع ہو جاتا ہے مختصرسا اسباب لئے کار کی پچھلی نشست سے سر ٹکائے میں گزرتےمناظر میں کھوجاتی ہوں.لیکن جنید کی باتیں مجھے خیالوں کی دنیا سے واپس کھینچ لاتی ہیں. اور اِنہیں (جنید کے پاپا) اوور ٹیک کرنے سے باز رہنے کے لئے کہتی ہوں اور ساتھ ہی رفتار دھیمی رکھنے کی گزارش بھی ہوتی رہتی ہے
کبھی دھیما کبھی تیز آواز میں بجتا میوزک سفر کے لطف کو دوبالا کر دیتا ہے . شاہ پور گیٹ پار کیا کہ تیلنگانہ کی سرحد میں داخل ہونے کا میسیج موبائیل میں آجاتا ہے.! کتنی حیران کن ہے یہ ٹیکنالوجی ہماری ہر نقل وحرکت کی خبر ہوجاتی ہے.! پھر مرزا پور کتور شوگر فیکٹری جس کے میلوں ایکٹر پھیلے احاطے میں موسم سرما میں گنے سے لدی لاریاں ٹریکٹر اور بیل گاڑیاں اپنی باری کی منتظر کھڑی رہتی ہیں. یہ منظر بھی ہر بار ایک پرانی یاد تازہ کرتا ہے. مجھے ابا نے یہ شوگر فیکٹری دکھائی تھی. گنے کو شوگر میں کیسے تبدیل کیا جاتا ہے اس پوری کاروائی کا مشاہدہ کروایا تھا . اللہ ابا کو غریق رحمت کرے. کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے.
پھر ظہیر آباد جو کبھی ایک چھوٹا سا قصبہ ہوا کرتا تھا اب بے پناہ ترقی کرچکا ہے اور ایک شہر میں بدل گیا ہے . پھر سدا سیو پیٹ. سنگا ریڈی جانے والی شاہراہیں بھی اب ہر سائڈ ون وے ہوگئی ہیں جس کا حکومت ٹیکس وصول کر رہی ہے ! کتنی حیرت ہوتی ہے سرکار کی پالیسیوں پہ.! سڑک پہ آمد ورفت کا بھی ٹیکس ادا کرنا ہوتاہے ! سرکار کا بس چلے تو عوام کی سانسوں پہ بھی ٹیکس عائد کردے! پٹن چیرو سے قبل آتا ہے سفر کا ایک اہم پڑاؤ
“سوئیٹ ہارٹ ریسٹورینٹ”
جہاں کی فرحت بخش سرور انگیز کیف آور چائے میری کمزوری ہے. ہر سفر میں آتے جاتے یہاں رک کر اسنیکس لیتے ہیں اور چائے پی کر تازہ دم ہوتے ہمارا سفر پھر سے شروع ہوتا. آٹر رنگ روڈ جو راجیو گاندھی انٹر نیشنل ائیر پورٹ جانے کے لئے بنائی گئی ہے. اسی شاہراہ سے ہم حیدرآباد کے لئے روانہ ہوتے ہیں کیونکہ یہاں نسبتاً ٹریفک کم ہوتی ہے. اور کشادہ خوبصورت سڑک پہ برق رفتاری سے دوڑتی چمچماتی کاروں کی آمد ورفت کا منظر بڑا سہانہ لگتا ہے. میرا بیٹا ہر کار کی قیمت بتاتا جاتا ہے. ممی. یہ دیکھو یہ 10 لاکھ کی کار ہے. ممی یہ 30 لاکھ کی کار ہے ان کاروں کی تیز رفتاری دیکھکر مجھے حیرت ہوتی ہے. اور سوچتی ہوں
ہمارا ملک غریب کہاں رہا اب.! یہاں کے باشندے لاکھوں کڑوڑوں کی سواریوں میں سفر کرتے ہیں.! لیکن یہ حقیقت بھی فوراً سامنے آجاتی ہے کہ اسی ملک میں سارا دن کی محنت کی اجرت چند سو روپئے ہوتی ہے جس سے مزدوروں کے چولہے جلتے ہیں.! امیری غریبی کا یہ فرق ایک بار پھر مجھے مضطرب کر دیتا ہے.
سڑک کے بیچوں بیچ بنے ہمہ اقسام کے پھلوں پھولوں کے پودے اپنی بہار دکھاتے ہیں. بلند وبالا اپارٹمینٹس. پہاڑوں کو تراش کر تعمیر کئے گئے ہیں. غرض ہر سو جدیدیت کے آثار نمایاں ہیں. اور پھر ہم ٹول گیٹ پہ فیس ادا کر کے حیدرآباد میں داخل ہوتے ہیں. عجیب سی خوشی کا احساس رگ وپے میں سرایت کرجاتا ہے. خیر وعافیت سے منزل مقصود پر پہنچنے کا احساس! پرودرگار کا شکر ادا کرتی دل کی دھڑکنیں! اور ساتھ ہی ایک اور آرزو ایک اور ارمان کہ
اے اللہ. ہماری زندگی کا سفر بھی یونہی سہل فرما. ہمارے آخری سفر کا زاد راہ نیکیوں کی گٹھری ہو. جو ہمیں ہماری حقیقی منزل تک باآسانی پہنچا دے. آمین ثم آمین