ماہ لقا چند
ماہ لقا چند
رخشندہ بخت
ماہ لقا چندا کا تعارف
ماہ لقا چنداؔ (پیدائش: 7 اپریل 1768ء– وفات: اگست 1824ء) اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ تھیں ۔ ماہ لقا کا تخلص چندا تھا۔ ماہ لقا کا شمار حیدرآباد، دکن کے اردو زبان کے اولین شعرا میں کیا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں ماہ لقا کی شاعری نے اردو زبان کی شاعری کے دبستان دکنی کو نیا فروغ دیا۔ 1824ء میں ماہ لقا کے اُردو دیوان کی اشاعت کے بعد انہیں اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا مقام حاصل ہوا۔ جنوبی ہند میں اردو زبان کے فروغ میں ماہ لقا کی شاعری سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے۔ شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نظام حیدرآباد کے دربار سے بھی وابستہ رہیں۔ 1824ء میں ماہ لقا کا انتقال ہوا۔
درباری اثر و رسوخ
ماہ لقا کی رسائی مہتاب کنور کے توسط سے ہوئی تھی، اِسی لیے وہ طویل عرصہ نواب رکن الدولہ کے زیر سایہ پرورش پاتی رہیں -اِس دوران ماہ لقا نے شاعری میں اپنے ذوق کو بڑھانا شروع کیا۔ نوجوانی کے دور میں اُسے حیدرآباد، دکن کے تمام ادبی سرمائے شاہی کتب خانوں میں فراہم ہوتے رہے۔ 14 سال کی عمر میں وہ گھڑ سواری اور تیر اندازی میں مہارت حاصل کرچکی تھیں۔ اپنی اِنہی مہارتوں کے سبب وہ نظام حیدرآباد علی خان آصف جاہ ثانی کے ہمراہ تین جنگوں میں شریک رہی۔ جنگی لباس مردانہ طرز کا ہوتا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدانِ جنگ کے لیے نکلا کرتی تھیں۔
ماہ لقا کا قلمی دیوان
ماہ لقا دکنی شاعری میں سراج اورنگ آبادی (1715ء– 1763ء) سے متاثر تھی۔ شاعری میں نواب میر عالم بہادر، وزیر اعظم حیدرآباد، دکن سے اصلاح لیتی رہی۔ ماہ لقا کی مادری زبان اردو زبان کا دکنی لہجہ تھی، اِس کے علاوہ عربی زبان، فارسی زبان اور بھوجپوری زبان میں نہایت آسانی سے گفتگو کرلیتی تھی۔ ماہ لقا کو اردو زبان کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کہا جاتا ہے جس کا دیوان مرتب ہوا۔ ماہ لقا کا دیوان گلزارِ ماہ لقا کے نام سے شائع ہوا جس میں 39 غزلیں اور 5 قطعات شامل تھے۔ ایک قلمی نسخہ دیوانِ چندا کے نام سے موجود ہے جو 18 اکتوبر 1799ء کو جان میلکم کو ماہ لقا نے بطور تحفہ عنایت کیا تھا۔ اِس قلمی دیوان میں 125 غزلیں موجود تھیں جو 1798ء میں ماہ لقا نے اپنے ہاتھ سے لکھی تھی۔
مقبرہ
ماہ لقا نے غالباً 55 یا 56 سال کی عمر میں ماہِ اگست 1824ء میں انتقال کیا۔[2] ماہ لقا کی تدفین اُس کے اپنے تعمیر کردہ باغ میں کی گئی جہاں اُس کی والدہ راج کنور کا مدفن اور اُس کی بنوائی ہوئی مسجد موجود تھی۔
نمونہ کلام🌷
نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب
رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب
یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے
بر آوے کس طرح اللہ اب خوں خوار سے مطلب
بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
نہ سمجھا ہم کو تو نے یار ایسی جاں فشانی پر
بھلا پاویں گے اے ناداں کسی ہشیار سے مطلب
نہ چنداؔ کو طمع جنت کی نے خوف جہنم ہے
رہے ہے دو جہاں میں حیدر کرار سے مطلب