ادھورے قدم، مکمل جذبہ
ادھورے قدم، مکمل جذبہ
عبدالباسط خان
میرے ایک قریبی دوست کی مارکیٹ میں چپلوں کی دکان ہے۔ میرا جب بھی بازار جانا ہوتا ہے، میں کچھ دیر کے لیے اس کی دکان پر ضرور رک جاتا ہوں۔ اکثر گپ شپ ہوتی ہے، چائے کا ایک کپ پیا جاتا ہے، اور کبھی کبھی زندگی کی بھی کوئی نئی پرت کھلتی ہے۔
ایک دن حسب معمول میں اس کی دکان پر بیٹھا تھا۔ باتوں باتوں میں میں نے اس سے پوچھا،
“یار، اتنے لوگ روز آتے ہیں، کبھی کوئی ایسا گاہک یا واقعہ پیش آیا جو کچھ خاص ہو؟ کچھ ایسا جو ذہن میں رہ گیا ہو؟”
میں چونکہ لکھنے پڑھنے کا شوقین ہوں، اور ہر انوکھی بات میں مجھے کہانی کا امکان دکھائی دیتا ہے، اس لیے ہمیشہ کچھ نیا سننے کی چاہ رہتی ہے۔
وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا، جیسے یادوں کے صندوق میں کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔ پھر دھیرے سے مسکرایا اور بولا،
“ہاں، ایک واقعہ ہے… جو بھلائے نہیں بھولتا۔”
پھر اس نے جو سنایا، وہ نہ صرف دل کو چھو گیا بلکہ لکھے جانے کے قابل ایک مکمل کہانی بن گیا…
“یہ کئی سال پرانی بات ہے۔ ایک دن ایک صاحب بیساکھی پر میری دکان پر آئے۔ چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ چپل دیکھنے لگے اور جب میں نے قیمت بتائی تو مذاق میں بولے،
‘بھائی، مجھے تو صرف ایک چپل چاہیے، تم جوڑی کی قیمت بتا رہے ہو؟’
میں پہلے تو چونکا، پھر ہنسا، پھر دیکھا کہ واقعی ان کا ایک ہی پاؤں ہے۔ میں نے بہت احترام سے کہا کہ چپل ہمیشہ جوڑے کی شکل میں بکتی ہے۔
پر مجھے تو بس ایک چپل چاہئے اس لیے میں بس ایک چپل کے پیسے دوں گا جوڑی کے نہیں۔
پر جناب ایسا نہیں ہوتا میں دوسری چپل اپنے پاس رکھ کر کیا کروں گا؟ انہوں نے چپل پسند کی، اور جب میں نے جوڑا نکال کر دیا تو بولے:
‘بھائی، سیدھے پاؤں کی یہ چپل رکھ لو۔ اگر کبھی میری طرح کوئی ایسا شخص آ جائے جس کا صرف سیدھا پاؤں ہو، تو یہ چپل اسے میری طرف سے تحفہ دے دینا۔’
میں نے وہ چپل سنبھال کر رکھ لی۔ شاید اتفاق کہ کچھ ہی دن بعد ایک نوجوان لڑکا آیا۔ وہ بھی بیساکھی پر تھا، مگر اس کی صرف سیدھی ٹانگ سلامت تھی۔ جیسے ہی میں نے اس کا پاؤں دیکھا، مجھے فوراً وہ پرانا گاہک یاد آیا۔ میں نے جھٹ سے گودام سے وہ چپل نکالی اور اسے دی۔اتفاق سے وہ چپل بالکل اس کے پاؤں کے سائز کی نکلی، وہ حیران ہوا تو میں نے اسے کہا،
‘یہ چپل آپ جیسے ایک شخص نے، جو کبھی یہاں آیا تھا، آپ کے لیے گفٹ چھوڑی تھی۔’
لڑکے کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ چپل پہن کر وہ مسکرایا اور بولا،
‘پھر جب بھی میں چپل خریدوں گا، ایک الٹے پاؤں کی چپل آپ ان کو گفٹ کردینا۔’
تب سے یہ خاموش سلسلہ چل رہا ہے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو آج تک نہیں دیکھا، مگر ہر سال جب ان میں سے کوئی آتا ہے، ایک چپل دوسرے کے لیے ضرور چھوڑ جاتا ہے۔
میں ہر بار بس ایک ہی بات سوچتا ہوں—
چپل تو ایک بہانہ ہے، دراصل یہ محبت کی جوڑی ہے، جو شاید دو ادھورے پاؤں سے مکمل ہوئی ہے۔”
کہیں پر بھی رہے ہم تم محبت پھر محبت ہے
تمہیں ہم یاد آئیں گے ہمیں تم یاد آئو گے
اور پھر دل میں ایک سوال ابھرتا ہے —
کیا صرف ایک معذور ہی دوسرے معذور کا خیال رکھ سکتا ہے؟
کیا ہم میں سے کوئی اور نہیں جو ایسے لوگوں کی دل سے حوصلہ افزائی کرے، جو معذوری کے باوجود اپنی زندگی سے شکوہ نہیں کرتے؟
جو خود پر ہنستے ہیں، جو زندگی کو سہتے نہیں، جیتے ہیں — خوش ہو کر، شکر کر کے۔
جو اپنی معذوری کو اللہ کا فیصلہ مان کر قبول کرتے ہیں، اور اسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیتے۔
لیکن ہم؟ ہم جو خود کو “مکمل” سمجھتے ہیں —
اکثر صرف لبوں کی ہمدردی دیتے ہیں۔
ایسے لوگوں کو دیکھ کر ایک لمحے کو افسوس کرتے ہیں، پھر ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے لگتے ہیں۔
پوچھتے ہیں، “یہ کیسے ہوا؟ کب ہوا؟ حادثہ تھا یا بیماری؟”
ایسے سوال جو نہ صرف ان کے زخم کھرچتے ہیں بلکہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ہم صرف تماشائی ہیں۔
کیوں کہ یہ سب جان کر ہم نے ان کے لیے آخر کیا کرنا ہے؟
کیا ہم ان کا درد بانٹ سکتے ہیں؟
نہیں — کیونکہ ہمیں ہمدردی کا مطلب ہی نہیں آتا۔
ہمدردی صرف ماضی کھودنے کا نام نہیں،
ہمدردی خاموشی سے مسکرا کر ان کے حوصلے کی داد دینے کا نام ہے،
بغیر کچھ کہے ان کے لیے دروازہ تھام لینے کا نام ہے،
اور سب سے بڑھ کر — ان کے ساتھ ویسے ہی پیش آنے کا نام ہے،
جیسے ہم کسی اور سے پیش آتے ہیں، بغیر ترس، بغیر سوال، بغیر تفاوت۔
اگر ہم یہ سیکھ لیں،
تو شاید ہماری “مکمل” دنیا بھی تھوڑی مکمل ہو جائے۔