اک عجب دنیا ہے یہ واللہ انٹرنیٹ کی
اک عجب دنیا ہے یہ واللہ انٹرنیٹ کی
شیزا جلال پوری
انسان کی تاریخ ہمیشہ تبدیلیوں سے بھری رہی ہے۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی ایجاد آئی، کسی نہ کسی نئی سہولت نے جنم لیا اور تہذیب نے ایک نئی کروٹ لی۔ مگر جس انقلاب نے دل و دماغ، عادت و مزاج، طرزِ زندگی اور فیصلوں تک کو بدل کر رکھ دیا، وہ یہ نئی ڈیجیٹل دنیا ہے۔ یہ دنیا نہ شہر کی گلیوں میں نظر آتی ہے، نہ کسی ملک کے نقشے میں کہیں دکھائی دیتی ہے، مگر پھر بھی ہم سب اسی کے باسی ہیں۔ ہم جاگتے ہیں تو یہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے، سوتے ہیں تو بھی کہیں نہ کہیں اس کی موجودگی ہمارے اردگرد رہتی ہے۔
ایک وقت تھا جب خط لکھنے میں دن لگ جاتے تھے، پیغام پہنچنے تک جذبات کی شدت کم بھی ہو جاتی تھی اور انتظار کا ذائقہ بھی الگ ہوتا تھا۔ آج کلک کی ایک جنبش فاصلے مٹا دیتی ہے۔ کبھی علم کے حصول کے لیے برسوں محنت کرنا پڑتی تھی، کتابیں ڈھونڈنی پڑتی تھیں، استاد کے در تک رسائی سب کے بس کی بات نہ تھی۔ اب ایک چھوٹا سا آلہ ہاتھ میں ہو تو دنیا کی سب سے بڑی لائبریری بھی گویا پاس آ جاتی ہے۔ علم تک پہنچنا آسان ہوا، مواقع وسیع ہوئے، سوچ کے در کھلے اور کئی نامعلوم ذہن دنیا کے سامنے آئے۔ ایک گاؤں کے طالب علم نے بڑے شہر کے بچے کے برابر مواقع حاصل کر لیے۔ کوئی لکھنے والا پہچانا گیا، کوئی پڑھنے والا معتبر ہوا، کوئی بولنے والا پہلا موقع پا کر لاکھوں دلوں تک پہنچ گیا۔
لیکن کہانی کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جہاں یہ دنیا سہولت دیتی ہے وہاں آزمائش بھی پیدا کرتی ہے۔ جہاں یہ ذہن روشن کرتی ہے وہیں کبھی کبھی دھند بھی بٹھا دیتی ہے۔ یہاں ہر بات سچ نہیں ہوتی، ہر تصویر حقیقت نہیں ہوتی، ہر “خبر” حقیقت کا روپ نہیں رکھتی۔ یہاں شہرت فوراً ملتی ہے مگر کردار کا امتحان بھی اسی رفتار سے لیا جاتا ہے۔ یہ دنیا بڑی روشن بھی ہے اور کبھی کبھی اندھیری بھی محسوس ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسا جہان ہے جہاں تعلقات بنتے بھی ہیں اور ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ کچھ رشتے حرفوں سے مضبوط ہوتے ہیں، کچھ صرف الفاظ کے کھیل بن کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ امید کا وسیلہ ہے، کچھ کے لیے پریشانی۔ کسی نوجوان کے لیے یہ خواب پورا کرنے کا راستہ بنتا ہے تو کسی کے لیے احساسِ کمتری کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ کوئی اپنی پہچان بناتا ہے، تو کوئی بھیڑ میں کھو جاتا ہے۔
اس نے دنیا کو قریب بھی کیا ہے اور دور بھی۔ لوگ ایک دوسرے کے ہنسنے رونے سے واقف بھی ہیں مگر اکثر چہروں کے پیچھے چھپی تھکن سے ناواقف۔ گھروں میں بیٹھ کر ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے کبھی کبھی ایک دوسرے سے کم بات کرتے ہیں اور دور بیٹھے اجنبی بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ جذبات کے اظہار کا ایک نیا انداز ضرور ملا ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بے نام تنہائیاں بھی اسی دنیا نے بڑھا دی ہیں۔
یہ طاقت صرف رابطے کی نہیں بلکہ تشکیلِ کردار کی بھی ہے۔ یہاں الفاظ بنتے ہیں، سوچیں ڈالی جاتی ہیں، نظریات تشکیل پاتے ہیں۔ اس لیے یہاں رہنا عقل بھی مانگتا ہے، ضبط بھی اور ذمہ داری بھی۔ ہر دیکھی ہوئی چیز پر یقین نہیں کیا جا سکتا، ہر سنائی دی بات پر فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ شعور کے بغیر یہ سہولت بوجھ بن جاتی ہے، ذمہ داری کے بغیر یہ آزادی بے مہار گھوڑا ثابت ہوتی ہے۔
اس دنیا نے تعلیم کے دروازے کھولے، کاروبار کے طریقے بدل دیے، سیاست کے انداز بدل دیے، صحافت کی روح کو نئی شناخت دی۔ خبر کا سفر لمحوں میں طے ہونے لگا، آوازیں دبنی بند ہو گئیں، کمزور بھی اپنی بات کہنے کے قابل ہو گئے۔ کسی دور دراز کے علاقے میں بیٹھا ایک شخص بھی اب عالمی گفتگو کا حصہ بن سکتا ہے۔ یہی طاقت اگر مثبت رخ پکڑ لے تو قومیں بدل سکتی ہیں، نسلیں محفوظ ہو سکتی ہیں اور معاشرہ مضبوط ہو سکتا ہے۔
لیکن یہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ ہم اسے اپنی زندگی پر مکمل مسلط نہ کر دیں۔ گھر کی محفلیں خاموش نہ ہوں، رشتوں کی حرارت محض اسکرین کے روشنی بردہ شور میں گم نہ ہو جائے۔ بچوں کو صرف آلات نہ دیں بلکہ ان کے ساتھ سمجھ بھی دیں، تربیت بھی دیں۔ نوجوانوں کو صرف رفتار نہ دیں بلکہ سمت بھی عطا کریں۔ انسان کو یاد رہے کہ اصل زندگی اب بھی وہی ہے جہاں ہاتھوں کی گرمی محسوس ہوتی ہے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو ہوتی ہے، حقیقی مسکراہٹ چہروں پر دکھائی دیتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس دنیا کے ساتھ توازن قائم رکھا جائے۔ نہ اس سے بھاگا جا سکتا ہے نہ اسے مکمل جنون بنایا جا سکتا ہے۔ اسے ذریعہ بنایا جائے، مقصد نہ بنایا جائے۔ اسے سہارا رکھا جائے مگر زندگی کا مرکز نہ ٹھہرایا جائے۔ اگر شعور کے ساتھ اس کا استعمال ہو تو یہی دنیا انسان کو آگے بڑھائے گی، ترقی کے راستے کھولے گی، محبتوں کو جوڑے گی، ذہنوں کو وسعت دے گی اور معاشرے کو بہتر بنا سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر یہ سہولت بوجھ بن سکتی ہے اور آزادی بے سمتی میں بدل سکتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت ہمیشہ مفید نہیں رہتی، فائدہ اسی وقت بنتی ہے جب اسے دانائی کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یہی دانائی مستقبل کا اصل چراغ ہے، یہی شعور ہماری حقیقی حفاظت ہے، اور یہی احساس ہمیں اس بدلتی دنیا میں متوازن رکھ سکتا ہے۔