نئی کہانی -احساس
نئی کہانی -احساس

دیکھو تم لوگوں کے انہی ڈراموں سے تنگ ہوں ۔مہینہ ابھی شروع ہوتا ہے ۔مگر تم لوگ مانگ مانگ کر ناک میں دم کردیتے ہو۔
صاحب انتہائی غصہ میں چلائے۔
ہم پیسے درختوں سے نہیں اتارتے۔۔بیگم صاحبہ نے لقمہ دیا
صاحب بس اس دفعہ مہربانی کردیں ۔میرا بچہ بہت بیمار ہے اس کا علاج نہ ہوا تو وہ مر جائے گا ۔وہ رو پڑی ۔
اچھا اچھا چلو شام کو آنا ۔کرتے ہیں کچھ ۔صاحب نے سوچتے ہوئے کہا۔
ڈیڈ صبح سے ٹومی چپ چپ ہے ۔ابھی تک ڈاکٹر کیوں نہیں پہنچا ؟ وہ کچھ کھا پی بھی نہیں رہا آپ کو ذرا بھی احساس ہے میرے ٹومی کا؟ اریبہ نے اپنے چھوٹے سے کتے کو فکرمندی سے گود میں اٹھاتے ہوئے غصہ میں پاپا سے کہا
بیٹا ابھی پہنچ رہا ہے ڈاکٹر ۔میں نے فون کردیا ہے ۔پاپا نے لاڈ سے کہا۔
تم ابھی تک یہیں ہو۔اب جاو ۔بولا نا شام کو آنا ۔کرتا ہوں کچھ ۔صاحب۔ کی نظر کونے میں بیٹھی ملازمہ پر پڑی تو انھوں نے کہا۔
جی صاحب شکریہ ۔ملازمہ بیمار ٹومی کو دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولی ۔
نذیراں دو دن نہیں آئے گی ۔اس کا بچہ فوت ہوگیا ہے ۔اس کی کال آئی تھی ۔صاحب گھر میں داخل ہوئے تو بیگم نے اطلاع دی ۔
ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔یہ لو تین ہزار روپے ۔ نذیراں کے گھر بھجوا دو ۔کفن دفن کے لئے اسے ضرورت ہوگی ۔ صاحب نے بٹوہ جیب سے نکالتے ہوئے کہا۔