نئی کہانی – ماں
نئی کہانی – ماں

نذیرا اور صابرہ سارا دن کھیتوں میں بیل بن کر اپنے سلامتے کے روشن مستقبل کے لئے کام کرتے تھے ۔مگر ضرورتیں ہمیشہ وسائل سے زیادہ ہی رہتیں ۔
آج چاول پکالیں بہت دن سے دل کررہا ہے کہ چاول کھانے کو۔
نہیں نذیرے ۔چار پیسے جڑ گئے ہیں ۔سلامتے کو بھیج دیتے ہیں ۔اس کی ضرورتیں زیادہ ہیں یونیورسٹی میں ۔چل جیسے تو کہے۔بہتری گذر گئی ہے تھوڑی باقی ہے ۔نذیرے نے کہا ویسے بھی کل کاکے نے گھر آنا ہے ۔دے دینا اسے پیسے ۔
ماں بس اتنے پیسے؟ یہ کم ہیں ۔میرا مہینہ نہیں گذرتا اتنے پیسوں میں ۔
سلامت نے انتہائی غصے سے کھانے کی پلیٹ پھینکی ۔بیگ اٹھایا اور گھر سے روانہ ہوگیا ۔
صابراں نے جلدی سے دعا پڑھی اور لال پرپھونک ماری۔
او نیک بخت چل کھانا کھا لیا ہے تو تجھے ڈاکٹر صاحب کو دکھا اوں بیماری بڑھتی جارہی ہے ۔نذیرے نے فکرمندی سے کہا ۔
اگلے مہینے جائیں گے پکا ۔تو فکر نہ کرا کر نذیرے میں ٹھیک ہوں ۔صابراں نے کہا۔
تو نے اس مہینے بھی سارے پیسے سلامتے کو دے دئیے ہیں ۔
اپنی دوائی کے لئے پھر کچھ نہیں رکھا ۔تجھے بیماری کا پتا بھی ہے کیسے بڑھ رہی ہے ۔
سلامت کے کانوں میں باپو کی یہ آواز پڑی ۔
جب وہ اچانک گھر اپنا بھولا موبائل لینے کے لئے دروازے پر پہنچا۔
اس کے بعد اس سے کچھ نہیں سنا گیا ۔