ڈھولک کے گیت، عہدرفتہ کی ایک حسین یاد

ڈھولک کے گیت، عہدرفتہ کی ایک حسین یاد
رخسانہ نازنین

انسان کی زندگی میں اسکا ماضی نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جب بھی وہ اپنے حال سے فرار چاہتا ہے تو ماضی میں پناہ حاصل کر لیتا ہے۔ یادوں کی ان حسین وادیوں میں کھو کر اسے سکون ملتا ہے۔ وہ وقت جو بیت گیا لیکن یادوں کے انمٹ نشاں چھوڑ گیا ، جو ہمارے حافظے میں قید ہے ، دل کے گوشے میں آباد ہے۔! آج میں انہی یادوں کے جھروکے میں جھانکنا چاہتی ہوں۔

بدلنا فطرت کا تقاضا ہے۔ وقت کی گردش کے ساتھ موسم بدلتے ہیں ، حالات بدلتے ہیں۔ خیالات ونظریات بدلتے ہیں۔ بدلتا وقت بہت کچھ دے جاتا ہے اور بہت کچھ چھین لے جاتا ہے !

بدلتے وقت کے تقاضوں نے جہاں بہت سی سہولتوں ، آسائشوں سے نواز کر زندگی سہل کی ہے۔ وہیں اس جدیدیت نے انسان کو انسان سے دور کردیا ہے۔ فاصلے سمٹ تو گئے ہیں مگر حائل بھی ہوگئے ہیں۔ تہذیب وروایات مٹتی چلی گئیں ، وہ باہمی اتحاد ، سکون ، مسرت وانبساط کے احساسات دلوں سے عاری ہوگئے۔ بھاگتی دوڑتی مصروف زندگی میں فرصت کے کچھ لمحات میسر آئیں بھی تو وہ یا تو ٹی وی کی نذر ہوجاتے ہیں یا موبائیل کی۔! آپس میں خواتین کا ملنا جلنا ، کام کاج کرنا ، گپ شپ کرنا ، سینا پرونا ، سوئیٹر بننا ، کشیدہ کاری ، سلائی کڑھائی ، کہانیاں سننا ، سنانا ، کسی تقریب میں یا تہوار پر لوک گیت یا ڈھولک کے گیت گانا ، ہنسنا ہنسانا ، چھیڑ چھاڑ کرنا ہماری مشرقی تہذیب کا حصہ تھا جو اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔!
اب تقاریب گھروں کے بجائے شادی خانوں میں منعقد ہوا کرتی ہیں۔ مہمان اور میزبان خواتین کی ترجیح صرف سجنے سنورنے تک محدود ہوگئی ہے۔ گھروں میں تقاریب کی وہ مخصوص رونقیں نہیں رہیں ، ایک بناوٹی سا ،کھوکھلاسا ماحول ہے۔ دسترخوانوں سے برکت غائب ہے ، مہمانوں کی آمد پر خوشی کے بجائے بیزاری کا اظہار ہونے لگا ہے۔ تہذیب وروایات کی پاسداری نہیں رہی۔

بدلتے وقت کے اسی تیور نے ایک معصوم سے شوق کا گلا گھونٹ دیا۔۔۔۔! ڈھولک کے گیت جو ہماری تہذیب کا ایک حصہ تھے۔ خواتین اور دوشیزاؤں کی دلچسپی اور خوشی کا مرکز تھے۔ کسی کے گھر سے اٹھتی ڈھولک کی تھاپ جہاں دوشیزاؤں کے دل دھڑکاتی تھی وہیں بزرگ خواتین کے چہروں پر بھی مسرت کی لہر دوڑ جاتی تھی۔ بچوں کے دل باغ باغ ہوجاتے تھے کہ اب ضرور کوئی تقریب ہوگی جس میں اپنے ہم عمر ساتھیوں سے کھلینے کودنے کاموقع ملے گا۔ ڈھولک کی صدا خوشی سے تعبیر ہوا کرتی۔ محلے کی ساری خواتین یکجا ہوتیں اور ان گیتوں میں اپنے سر ملاتیں۔ اس خوشگوار ماحول اور محفل کی رنگینیوں میں کھو کر اپنے دکھ درد بھلا دیتیں۔ کسی کی بیٹی کی وداعی ہو یا کسی کی بہو کی آمد ہو۔۔۔۔ خوشیاں سانجھی ہوا کرتیں اور اس میں شریک ہوکر اپنے خلوص ، محبت اور اپنائیت کا اظہار کرتے۔

ڈھولک کے گیت دکن میں مشہور ومقبول تھے۔ ان میں لوک گیتوں کی جھلک بھی ملتی ہے۔ گاؤں کی خواتین انہیں اپنے مقامی لب ولہجے میں گاتیں۔ یہ انکے جذبات کے اظہار کا وسیلہ بھی تھے۔ ہندو ، مسلم اتحاد اور قومی یکجہتی کی علامت بھی تھے۔ ان میں صوفیانہ گیت بھی ہوتے جو اولیاء اللہ سے عقیدت کا مظہر ہوتے۔ شادی بیاہ کی مختلف رسومات میں موقع محل کی مناسبت سے گیت گائے جاتے۔ ہلدی ، مہندی ، وداعی ، بارات کی آمد ، بہو کا استقبال ،تسمیہ خوانی ،عقیقے ، سالگرہ ، گھر بھرانی ۔۔۔۔۔ہر تقریب کے گیت مخصوص ہوتے ، سمدھنوں کو چھیڑا جاتا۔ ” سمدھن کھو گئی ماں چارمینار کی سڑک پہ ” آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے۔
آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد سے باقاعدہ منگل کی رات اور اتوار کی دوپہر ڈھولک کے گیتوں کا پروگرام ہوا کرتا۔ بہت ساری گلوکارائیں اپنے فن کا مظاہرہ کرتیں۔ مجھے ارجمند نذیر اور کنیز فاطمہ کے نام یاد رہ گئے جو بڑی مشہور تھیں۔ اور اپنے مخصوص لب ولہجے میں ڈھولک کے گیت پیش کرتیں۔ کچھ گیت آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہیں جو قارئین کی نذر ہیں۔

“بہار آئی کھلے گل بلبل شیدا مبارک ہو
نظام مملکت کو پھولنا پھلنا مبارک ہو۔”

“بنّے تیرے جیبوں کو ہیرے لگے
اشرفیاں لٹاتے آیا بناّ”
“شادی آئی میرے محل میں بنّا بنّی مبارک ”
“دالان میں پنائے ہار کیا خوشنما لگاکے۔ ”

“سمدھن کی شیخی پہ مٹی پڑھو۔۔۔۔۔ ”

” سنو محلے والو میری کالی مرغی کھوگئی نا ”

“مدت سے تھا ارمان بھیا میرا دولہا بنے گا ”

“ہاتھ میں نگوں کا جوڑا دولہے بھائی پنائے ماں ”

“بھائی ہمارے ہوگئے بھابی کے دیوانے اللہ ”

ان ڈھولک کے گیتوں کے ریکارڈ اور کیسیٹ بھی ہوا کرتے تھے جو تقاریب کے مواقع پر ٹٰیپ ریکارڈ میں لگائے جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ خواتین اسے معیوب سمجھنے لگیں، بدلتے وقت کے ساتھ اور ایک روایت دم توڑ گئی۔
ڈھیر سارے گیت جو ماضی کی گلیوں میں کھو گئے، وہ نغمگیں فضائیں نہ رہیں ، تہذیب کا ایک حسین باب بس حافظوں میں قید رہ گیا۔