جوانوں کو پیروں کا استاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
محمداسد اللہ
برسوں پہلے علامہ اقبالؔ کی کسی نظم میں یہ مصرع پڑھ کر ہم سوچ میں پڑ گئے تھے کہ علامہ کو آ خر ہوا کیا ہے جو ایسی عجیب و غریب دعا مانگ رہے ہیں ۔چند لمحوں کے لئے اس انوکھی کلاس کا نقشہ ہماری آ نکھوں کے سامنے آ گیا ۔ ایک بچہ ماسٹر کسی بزرگ کو اس خطا پر مرغا بنائے ہو ئے ہے کہ آں جناب اپنی عادت سے مجبور صحیح وقت پراسکول کیوں آ گئے ؟ دوسرا نوجوان ایک بزرگِ ہشتاد سالہ پر برس رہا ہے کہ کلاس میں بیٹھے کھانس کھانس کر ہماری نیند خراب کر تے ہواور کو ئی بڑے میاں اس لئے عتاب کا شکار ہیں کہ ہوم ورک مکمل کرنے کی اتنی جلدی کیوں پڑی تھی ،کیا وقت بھاگا جارہا تھا؟ ادھر ایک بچہ پیرلبِ گور کو اٹھارہ کا پہاڑہ پڑھا رہا ہے اور پلے گرائونڈ میں ایک بچہ پی ٹی ماسٹر ایک حضرت کو لگاتار دوڑا رہا ہے موصوف دوڑتے کم ہیں، ہانپتے اور کانپتے زیادہ ہیں اور اس سے بھی زیادہ کھانستے جاتے ہیں ۔ فلم کی طرح چلنے والا یہ منظر جلد ہی آ نکھوں کےآ گے سے ہٹ گیاجیسے کوئی فلم باکس آ فس پر پٹ جاتی ہے ۔
کل ہی کا واقعہ ہے ایک بچہ کو دیکھا وہ اپنے دادا جان کو ایک موبائیل ہاتھ میں لئے یہ سمجھا رہا تھا کہ کسی کا نام اس میں کس طرح سیو کیا جاتا ہے اور فون سائیلنٹ موڈ میں چلا جائے تو اسے گویا ئی کس طرح عطا کی جاتی ہے ۔
سچ یہ ہے ہمیں بچے کی تدریسی لیاقت سے زیادہ بڑے میاں کے علمی شوق اور تکنیکی ذوق پر رشک آ یا ۔ساتھ ہی یہ بھی محسوس ہوا کہ جلد یا بدیر ہی سہی اقبال کی مذکورہ دعا شرف سے قبو لیت سے بہرہ ور تو ہوئی ۔
جس زمانہ میں ہم نے یہ مصرع سنا تھا ہم اقبال کے اس قدر مداح تھے کہ ان کے کسی خیال سے اختلاف کا تصور بھی محال تھا۔وقت کے پل تلے سے بہت سا پانی اور بہت کچھ بہہ گیااور اب جب کہ ہم بھی بزرگی کے علاقہ سے قریب تر ہو گئے ہیں ۔ اس وقت محسوس وقت محسوس ہوتا ہے کہ ہم بھی کلیم الدین احمد اور یاس یگانہ کے موڈ میں آ گئے ہیں ۔ اب اقبال ہماری نظر میں اس قدر بلندنہیں رہے تھے ۔ رہ رہ کر خیا ل آ تا ہے کہ کیا ضرورت تھی ایسی نا معقول دعا مانگنے کی ۔
مانا کہ بزرگوں نے عمرِ عزیز کا ایک بڑا حصہ گنوادیا، تنخواہ سے پنشن پر آ گئے ، دانت بینائی ،بال ، سوجھ بوجھ کھو بیٹھے،قویٰ مضحمل ہو گئے ، تاہم کیا ان کے پاس جوانوں کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں رہا؟ جو بچو ں کو آ گے بڑھ کر انھیں درس دینے کی نوبت آ گئی ۔
اس نکتہ پر بھی غور کر لیجئے ،آ ج کے بزرگوں کے پاس نوجوانوں کے لئے کیا ہے ؟ دودھ سے جلے تجربات سے بر آمد شدہ چھانچھ کو پھونک پھونک کر پیتی ہو ئی بصیرت ، وقت کے غاروں سے برسوں بعد باہر نکلے ہو ئے ان اصحابِ کہف کے پاس اخلاقی قدروں کے وہ پرانے سکے ہیں جورائج الوقت نہیں رہے ۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ہر تیسری نسل اپنے اسلاف سے منحرف ہو جاتی ہے ۔اس ریت گھڑی کو الٹ کر دیکھئے۔ کیانوجوانوں کی عادات ، مرغوبات اور معتقدات بزرگوں کو قبول ہیں ؟ اوریہ کو ئی نئی بات نہیں ،یہ کہانی ہر دور میں دہرائی جاتی رہی ہے ۔
اقبال کیا کہنا چاہتے ہیں ہم اچھی طرح سمجھتے ہیں،اقبال جو نصاب بزرگوں کو پڑھوانا چاہتے ہیں، ہمارے نوجوان عام طور پر اس سے دور بھاگتے ہیں ۔مگرعام معنوں میںنئی تکنک اور ضروریاتِ زندگی نے نوجوانوں کو استادی کے منصب پر فائز ضرور کر دیا ہے ۔ کسی بھی صورت میں سہی اقبال کی دعا قبول تو ہو ئی ۔پتہ نہیں کیوں میں یہ محسوس کر تا ہوں کہ انسانی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ بوڑھوں نے اپنی رستمی کے زعم میں نوخیز سہرابوں سے ہار مانی ہو مگر موبائیل ،کمپیو ٹر،سائنسی انکشافات اور زمانے کے نرالے انداز نے شاہ نامہ ایران کے اس مشہور قصہ کا آ خری حصہ بدل کررکھ دیا ہے ۔
در اصل یہاں آ نے والا ہر انسان اس دنیا کو پکنک اسپاٹ سمجھتا ہے ،وہ سمجھ ہی نہیں پاتا کہ حقیقتاً اسے یہاں سبق سکھانے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔اسکول یا کالج سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بھی اسی قسم کی غلط فہمی ہوتی ہے کہ اب سیکھنے کا سلسلہ بند ہو چکا ،جولوگ تدریس کے پیشے میں جاتے ہیں اپنے اوپر لادی جانے والی ہر محکمہ جاتی ٹریننگ کے دوران اس اذیت سے گزرتے ہیںجو انھیں رہ رہ کر احساس دلاتی ہے کہ ہم تو ساری دنیا کو سکھاتے ہیں ،یہاں ہمیں کیوں پڑھایا جا رہا ہے ؟ آدمی نہ سیکھنا چاہے تب بھی زندگی رنگ بدل بدل کر ہمیں نئے نئے سبق سکھاتی ہے.ہر دن کتابِ زندگی کے ایک بالکل نئے صفحہ کی طرح کھلتا ہے،ہر رات صفحہ ہستی کے بلیک بورڈ پر ستارے سجاکر نئی سمتوں کا پتہ دیتی ہے ۔ہر صبح نئی منزلوں کی بشارت بن کر طلوع ہو تی ہے۔کالج سے لیا گیا آخری لیونگ سرٹیفکٹ تو دنیا کی طرح دھوکہ ثابت ہوتاہے ۔کھیل کھیل میں سکھانے کا کام زندگی چپکے چپکے جاری رکھتی ہے اورانسان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ اس کا ڈیتھ سرٹیفکٹ ہی در اصل اس کا لیونگ سرٹیفکٹ ہے ۔